چترال میں بڑهتی ہوئی معاشرتی، معاشی، مسلکی اور سیاسی خلیجیں – تحریر: جاوید اقبال، اسسٹنٹ پروفیسر ہسٹری، دیر اپر
چترال، جو کبھی ایک ثقافتی طور پر خوشحال اور متنوع علاقہ تھا، اب کئی ایسی معاشرتی, مسلکی,سیاسی,معاشی خلیجوں (fault lines) کا سامنا کر رہا ہے جو معاشرتی ہم آہنگی اور بھائی چارے کو متاثر کر سکتی ہیں۔ یہ خلیجیں درج ذیل ہیں:
1. اسماعیلی – سنی تقسیم: اسماعیلیوں اور سنیوں کے درمیان فرقہ وارانہ تقسیم ایک حساس معاملہ ہے۔ اگر کوئی شخص اپنے مفاد کے لیے اس صورتحال کو ہوا دے، تو یہ تناؤ اور تنازع کا باعث بن سکتی ہے۔ تا حال اسکے اثار کم هیں لیکن ایک لاوا هے جو اندر هی اندر پک رها هے۔
2. اپر اور لوئر چترال کی تقسیم: اپر اور لوئر چترال کے درمیان سیاسی بنیادوں پر فرق پایا جاتا ہے، جو علاقائی اور سیاسی تفریق کو جنم دیتا ہے۔ دونوں طرف سے ایک دوسرے پر استحصال کا الزام لگایا جاتا ہے۔ اور موجوده نظام میں یه سوال مزید اشکارا هوچکا هے۔
3. تاجر طبقے کی تقسیم: پختون اور چترالی تاجروں کے درمیان فرق معاشی اور ثقافتی بنیادوں پر واضح ہے۔ مقامی آبادی کی اکثریت کا ماننا ہے کہ پختون تاجر باہر سے آئے ہیں اور انہوں نے کاروبار پر قبضہ جما رکھا ہے۔
حالیہ واقعات:
قصابوں کا بائیکاٹ: گرم چشمہ میں اسماعیلی قصابوں کا سنی صارفین کی جانب سے بائیکاٹ، فرقہ وارانہ تقسیم کی واضح مثال ہے۔
کتابوں کا مسئلہ: کالاش وادی سے تعلق رکھنے والی پہلی اور تجربہ کار پائلٹ، لکشن بی بی نے چترال کی لائبریریوں کے لیے ایک لاکھ کتابیں روانه کیں۔ لیکن ان کتابوں کی تقسیم کو مقامی سطح پر ایک عجیب مزاحمت کا سامنا ہوا، اور کہا گیا کہ پہلے ایک کمیٹی ان کتابوں کو جانچے گی تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ وہ چترالی ثقافت اور روایات کے خلاف تو نہیں۔
کیلاش وادی کاثقافتی تحفظ: کالاش لڑکیوں کی مذہبی تبدیلی کا تناسب تشویشناک ہے۔ کالاش وادی کو “انسانی میوزیم” میں تبدیل کیا جا رہا ہے، جو ثقافتی تحفظ اور سیاحت کے بیچ توازن پر سوال اٹھاتا ہے۔ کیلاش که حوالے سے ایک خاص بیانیه پایا جاتا هے جهاں سیاح کهینچے چلے اتے هیں وهاں مقامی افراد بهی اسی سنی سنای بیانیه میں اپنا حصه ڈالتے هیں۔
علاقائی محرکات:
اپر چترال: تعلیمی ترقی اور لبرل سوچ کے لیے مشہور ہے، مگر اسماعیلی عقائد کی وجہ سے اب مخصوص حصوں تک محدود کر دیا گیا ہے۔ وه محتاط رهتے هیں۔ تاکه اکثریت پریشان نه هو۔
لوئر چترال: ضلع دیر اور قریبی سنی اثرات سے متاثر ہے، یہاں پشتون ثقافت اور زبان سے گہری مماثلت پائی جاتی ہے، جس سے یہ لوگ “پروٹو پشتون” بن چکے ہیں۔ یه علاقه دروش تک “پختونایز” هوچکا هے۔ جس سے رواداری کی فضا متاثر هو رهی هے۔
نوجوانوں کا کردار: چترال کا نوجوان طبقہ ثقافتی اقدار کو برقرار رکھنے، امن کے فروغ، اور جدیدیت و روایت کے درمیان توازن قائم رکھنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ ان سے امید کیجا سکتی هے که تنوع اور امن کیلیے کام کرینگے۔ یه بطور سیاح میرے تاثرات هیں۔ اسمیں غلطی بھی هوسکتی هے اور اصلاح کی گنجایش بهی هے۔
