گندم کے موجودہ ذخائر ایک لاکھ 40 ہزار 635 میٹرک ٹن، مزید ایک لاکھ میٹرک ٹن درآمدی گندم کی پہلی کھیپ 3 نومبر کو پہنچنے کی توقع ہے، جائزہ اجلاس میں بریفنگ
۔
پشاور(نمائندہ چترال ٹائمز ) گورنر خیبرپختونخوا کے مشیر برائے داخلہ و قبائلی امور، خوراک اور خواتین کی بہبود کفایت اللہ خان کی زیر صدارت محکمہ خوراک اور خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبے میں غذائی تحفظ، گندم اور چینی کے ذخائر، آٹے کی فراہمی، اشیائے خورونوش کی قیمتوں پر کنٹرول، خوراک کے معیار اور جاری ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں سیکرٹری خوراک شاہ محمود، ڈائریکٹر جنرل فوڈ سیفٹی اتھارٹی کاشف اقبال جیلانی، ڈائریکٹر خوراک محسن اقبال، ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن عامر حسن، ڈائریکٹر آپریشنز محمد یوسف، ڈائریکٹر فنانس ظاہر محمود، ڈپٹی ڈائریکٹر ٹیکنیکل اویس اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ خیبرپختونخوا کی سالانہ گندم کی ضرورت 54 لاکھ 36 ہزار میٹرک ٹن ہے، جبکہ صوبے میں گندم کی مقامی پیداوار 14 لاکھ 72 ہزار میٹرک ٹن ہے۔ محکمہ خوراک کے پاس اس وقت ایک لاکھ 40 ہزار 635 میٹرک ٹن گندم کا ذخیرہ موجود ہے، جبکہ مزید ایک لاکھ میٹرک ٹن درآمدی گندم کی خریداری کے انتظامات کیے گئے ہیں، جس کی پہلی کھیپ 3 نومبر کو پہنچنے کی توقع ہے۔
اجلاس میں آٹے کی ترسیل کے نظام، چینی کے دستیاب ذخائر اور صوبے بھر میں اشیائے خورونوش کی دستیابی کا بھی جائزہ لیا گیا۔ حکام نے بتایا کہ فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی نے جنوری سے اکتوبر 2026 تک مجموعی طور پر 88 ہزار 973 معائنے کیے، اس دوران غیر معیاری اشیائے خورونوش ضبط کی گئیں، 91 کاروباری مراکز سیل کیے گئے اور خلاف ورزیوں پر مجموعی طور پر 8 کروڑ 58 لاکھ 90 ہزار روپے جرمانے عائد کیے گئے۔
مشیر گورنر کفایت اللہ خان نے ہدایت کی کہ گندم اور چینی کے ذخائر کی مسلسل نگرانی کی جائے اور آٹے سمیت دیگر بنیادی اشیائے خورونوش کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے مصنوعی قلت، ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف مؤثر کارروائی کرنے اور عوام کو اشیائے ضروریہ مناسب قیمتوں پر فراہم کرنے پر زور دیا۔
انہوں نے فوڈ سیفٹی اتھارٹی کو ملاوٹ، غیر معیاری خوراک اور حفظانِ صحت کے اصولوں کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ریسٹورنٹس، ہوٹلز، مارکیٹوں، اسٹریٹ فوڈ مراکز اور تعلیمی اداروں میں معائنے اور لیبارٹری ٹیسٹنگ کا دائرہ وسیع کیا جائے۔
کفایت اللہ خان نے کہا کہ عوام کی صحت کا تحفظ حکومت کی اہم ذمہ داری ہے، اس لیے فوڈ سیفٹی قوانین کا بلاامتیاز نفاذ یق