خیبرپختونخوا میں یکم اپریل سے بارش اور گرج چمک کا امکان، پی ڈی ایم اے کی ایڈوائزری جاری
پشاور (نمائندہ چترال ٹائمز) صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) خیبرپختونخوا نے یکم اپریل کی رات سے 4 اپریل تک صوبے کے بیشتر اضلاع میں بارش، تیز ہواؤں اور گرج چمک کی پیشگوئی کرتے ہوئے نئی موسمی ایڈوائزری جاری کر دی ہے۔پی ڈی ایم اے کے مطابق مغربی ہواو?ں کا ایک نیا سلسلہ صوبے میں داخل ہوگا، جس کے باعث چترال، دیر، سوات، کوہستان، مانسہرہ اور ایبٹ آباد سمیت پہاڑی علاقوں میں بارش اور برفباری جبکہ پشاور، مردان، صوابی، کوہاٹ، بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان جیسے میدانی علاقوں میں بھی بارش متوقع ہے۔ایڈوائزری میں خبردار کیا گیا ہے کہ تیز یا زیادہ بارش کے باعث پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔
اس کے علاوہ آندھی، ژالہ باری اور آسمانی بجلی سے کمزور عمارتوں، فصلوں اور بجلی کے نظام کو نقصان پہنچ سکتا ہے جبکہ درجہ حرارت میں بھی کمی متوقع ہے۔پی ڈی ایم اے نے تمام ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ پیشگی حفاظتی اقدامات یقینی بنائیں، ہنگامی خدمات کو فعال رکھیں، سڑکوں کی روانی برقرار رکھیں اور دریاؤں و نکاسی آب کے نظام کی مسلسل نگرانی کریں۔ ریسکیو 1122 سمیت تمام امدادی اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔عوام اور سیاحوں سے اپیل کی گئی ہے کہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں، ندی نالوں اور سیلابی علاقوں سے دور رہیں اور گرج چمک کے دوران محفوظ مقامات پر رہیں۔ کسانوں اور مویشی پال حضرات کو بھی اپنی فصلوں اور جانوروں کے تحفظ کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔پی ڈی ایم اے نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ بروقت آگاہی کا نظام یقینی بنائیں اور ایمرجنسی آپریشن سینٹرز میں 24 گھنٹے نگرانی جاری رکھیں۔ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں شہری پی ڈی ایم اے کی ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کر سکتے ہیں
دریں اثنا این ای او سی نے بھی پیشگی الرٹ جاری کیا ہے ، جس کے مطابق اگلے 12سے24گھنٹوں کے دوران ملک کے بیشتر علاقوں میں تیزہواؤں، آندھی جھکڑ کے ساتھ بارش کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور خیبر پختونخواہ کے بالائی اور پہاڑی علاقوں میں برفباری بھی متوقع ہے ،
شمالی علاقہ جات میں جاری مسلسل بارشوں کے باعث گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا ہ کے پہاڑی علاقوں میں گلیشائی جھیلوں کے پھٹنے کے باعث سیلابی صورتحال کا خدشہ ہے ۔
