وژنری لیڈر شپ ہو تو راستے خود بن جاتے ہیں – اقبال عیسیٰ خان
اقوام کی تقدیر ہمیشہ اسی لمحے بدلتی ہے جب قیادت محض عہدہ نہیں رہتی بلکہ وژن، اخلاقی جرات اور اجتماعی سمت کا نام بن جاتی ہے۔ یہ وہ نکتہ ہے جسے ہم بارہا نظرانداز کرتے رہے اور اسی غفلت نے گلگت بلتستان جیسے باصلاحیت خطے کو اس مقام تک پہنچا دیا جہاں وسائل فراوان ہیں مگر سمت منتشر ہے۔ پہاڑ اپنی جگہ کھڑے ہیں مگر قومی شعور اپنی بنیاد کھو رہا ہے۔
اس سرزمین کے پاس قدرت کے وہ خزانے موجود ہیں جو کسی بھی قوم کے لیے ترقی کی ضمانت ہو سکتے تھے۔ مگر جب رہنمائی کمزور ہو، جب سیاسی و سماجی کمپاس ٹوٹ چکا ہو اور جب معاشرہ تعصبات اور گروہ بندی کے گرد منجمد ہوجائے تو امکانات دم توڑ دیتے ہیں۔ آج یہی منظرنامہ ہمارے سامنے ہے۔ تعلیمی ادارے، بازار، ادارے اور نوجوانوں کے میدانِ عمل سب ایک ایسی تقسیم کا شکار ہیں جو سوچ کو سکڑتی ہے اور مستقبل سے امید چھین لیتی ہے۔
نفرت کی یہ لہر نہ صرف ذہنوں کو اندھیرا کرتی ہے بلکہ معاشروں کو اس نقطے تک لے جاتی ہے جہاں عدم برداشت معیار بن جاتا ہے۔ میرٹ کا قتل اس زہر کو اور گہرا کرتا ہے۔ جب اہل نوجوان سفارش کے سامنے شکست کھاتے ہیں تو ان کی آس ٹوٹتی ہے اور یہی ٹوٹن معاشروں کو اندر سے کھوکھلا کرتی ہے۔
تاریخ کا سبق سیدھا ہے کہ قومیں اسی وقت اٹھتی ہیں جب ان کے پاس وہ قیادت ہو جو صرف راستہ نہیں دکھاتی بلکہ کردار، نظم اور اجتماعی فکر میں نئی روح پھونکتی ہے۔ جاپان، سنگاپور اور روانڈا کی مثالیں اس بات کی زندہ شہادت ہیں کہ وژن اور ادارہ جاتی شفافیت بدترین حالات کو بھی بہترین مواقع میں بدل سکتی ہے۔
گلگت بلتستان کے لیے بھی راستہ کسی پیچیدگی کا محتاج نہیں۔ نوجوانوں کی تربیت، اداروں کی شفافیت، سماجی ہم آہنگی، عملی مواقع اور سیاسی سوچ کی صفائی وہ ستون ہیں جن پر ایک مضبوط مستقبل تعمیر ہو سکتا ہے۔ گاؤں کی سطح سے لے کر اسمبلی تک، ہر جگہ نئی قیادت کی ضرورت ہے جو وسعت نظر رکھتی ہو، ذاتی مفاد کو اجتماعی بھلائی کے تابع رکھے اور خطے کو عالمی ماڈلز کی سطح پر سوچنے کی تربیت دے۔
گلگت بلتستان کو خدا نے قدرتی وسائل سے مالامال کیاہے اور نوجوان نسل اس کا ورثہ ہے۔ یہ خطہ ہمیشہ سے اتحاد، وقار اور بہادری کی شناخت رکھتا رہا ہے۔ اسے زخم دینے والی نفرت نہیں، جوڑنے والی فکر درکار ہے۔ ہمیں ایسی اجتماعی دانش چاہیے جو ہر مسجد، ہر گاؤں، ہر ادارے اور ہر نسل کو ایک مشترکہ مقصد کی طرف لے جائے۔
جب قیادت وسیع النظر ہو تو قومیں صرف آگے نہیں بڑھتیں بلکہ اپنا پورا نقشہ بدل دیتی ہیں۔ گلگت بلتستان بھی وہی دن دیکھ سکتا ہے، اگر ہم تعصب کے اندھیروں سے نکل کر بصیرت کے راستے پر چلنے کا فیصلہ کر لیں۔

