امریکہ ۔ ایران جنگ اور تاریخ کا انتباہ – تحریر: قریش خٹک
.
جدید جنگی تاریخ دراصل ان سلطنتوں کا قبرستان ہے جنہوں نے تکنیکی عسکری برتری کو حتمی فتح سمجھنے کی فاش غلطی کی۔ تاریخ کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ صرف جدید اسلحہ اور ٹیکنالوجی کسی بڑی سلطنت کو حتمی فتح کی ضمانت نہیں دے سکتے۔ آج جب ہم امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو دیکھتے ہیں، تو ہمیں وہی پرانی کہانی دہراتی نظر آتی ہے جہاں ایک طرف تو دنیا کی طاقتور ترین ریاستیں ہیں اور دوسری طرف وہ گروہ جن کے پاس شاید جہاز اور ٹینک نہیں، لیکن ان کی جنگی سکت و استقامت ناقابلِ شکست ہے۔ روایتی فوجوں کا سب سے بڑا مغالطہ یہ ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ زیادہ بارود اور جدید جاسوسی نظام کے ذریعے دشمن کے حوصلے توڑے جا سکتے ہیں۔ مگر گزشتہ صدی کی تاریخ بتاتی ہے کہ نظریے اور اپنی زمین سے جڑے جنگجوؤں کا صبر و استقامت، طاقتور ترین فوجوں کے معاشی اور سیاسی زور سے کہیں زیادہ مظبوط، طویل اور پائیدار ہوتا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کے موجودہ حالات کو سمجھنے کے لیے ہمیں شمالی آئرلینڈ کی مثال دیکھنی ہوگی۔ کئی دہائیوں تک برطانیہ کی منظم اور جدید ترین فوج نے وہاں کی مسلح تنظیم آئرش ریپبلکن آرمی (آئی آر اے) کو کچلنے کی کوشش کی۔ طاقت کے توازن میں زمین آسمان کا فرق تھا، لیکن انگریزوں کو آخر کار یہ ماننا پڑا کہ وہ گلیوں پر پہرہ تو دے سکتے ہیں مگر مقامی مزاحمت کے بیج ختم نہیں کر سکتے۔ آئی آر اے کی ہمت و طاقت اپنی زمین اور اپنی تاریخ میں پیوست تھی، جس نے برطانیہ جیسی عالمی طاقت کو مذاکرات کی میز پر آنے پر مجبور کر دیا۔ ‘گڈ فرائیڈے ایگریمنٹ’ دراصل اس حقیقت کا اعتراف تھا کہ غیر روایتی قوتوں کو ان کی اپنی زمین پر شکست دینا تقریباً ناممکن ہے۔
غیر روایتی جنگ کے اسی تصور کی ایک تلخ مثال خود ہماری تاریخ میں 1971 کا سقوطِ ڈھاکہ ہے۔ مشرقی بنگال میں پاکستان کی ایک منظم اور پیشہ ور روایتی فوج کا سامنا مکتی باہنی جیسی غیر روایتی اور گوریلا قوت سے تھا۔ اگرچہ پاکستان آرمی عسکری تربیت اور مہارت میں کہیں برتر تھی، لیکن مقامی حمایت یافتہ گوریلا جنگ اور جغرافیائی حالات نے ہماری فوج کے لیے ایسی صورتحال پیدا کر دی جس کا کوئی واضح محاذ نہیں تھا۔ آخر کار، عوامی حمایت اور بیرونی مداخلت کے گٹھ جوڑ نے یہ ثابت کر دیا کہ جب کسی خطے کی بڑی آبادی روایتی فوج کے خلاف غیر روایتی طریقے سے کھڑی ہو جائے، تو محض عسکری قوت اور جنگی پیشہ ورانہ مہارت ملک کو متحد رکھنے کے لیے کافی نہیں ہوتی۔
ویتنام کی جنگ بھی امریکی تاریخ کا ایک ایسا زخم ہے جسے کبھی بھلایا نہیں جا سکتا۔ امریکہ نے وہاں اپنی پوری فوجی اور صنعتی طاقت جھونک دی اور اس قدر بمباری کی جو دوسری جنگِ عظیم سے بھی زیادہ تھی۔ اس حساب سے ویتنام کے جنگجو چند مہینوں میں ختم ہو جانے چاہیے تھے، لیکن آزادی کے لیے لڑنے والے جنگجو اور ایک روایتی جرنیل کی سوچ میں فرق ہوتا ہے۔ ایک منظم فوج کے لیے دس سال لمبی جنگ ایک بہت بڑی ناکامی ہوتی ہے، جبکہ ایک گوریلا جنگجو کے لیے پچاس سالہ لڑائی بھی اپنی آزادی کی ایک معمولی قیمت ہے۔ امریکہ ویتنام کے میدانِ جنگ میں نہیں ہارا، بلکہ وہ اس لیے نکلا کیونکہ اس کے اپنے ملک میں اس جنگ کے خلاف احتجاج شروع ہو گیا اور اس کی معیشت اس لامتناہی جنگی بوجھ کو مزید برداشت نہ کر سکی۔
یہی سبق سوویت یونین نے 1980 کی دہائی میں افغانستان میں سیکھا۔ روس ایک سپر پاور کے غرور کے ساتھ کابل میں داخل ہوا کہ اس کے ٹینک اور ہیلی کاپٹر افغان قبائل کو کچل دیں گے۔ وہ یہ بھول گئے کہ افغان مجاہدین کے پاس وہ جذبہِ جہاد اور تاریخی و ثقافتی استقامت تھی جس کا مقابلہ ایک تنخواہ دار فوج کبھی نہیں کر سکتی۔ روس کا اتنا جانی اور مالی نقصان ہوا کہ وہاں سے واپسی کے بعد خود سوویت یونین کے ٹکڑے ہو گئے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ دہائیوں بعد امریکہ اور نیٹو (NATO) کی افواج بھی اسی جال میں پھنس گئیں۔ بیس سال تک کھربوں ڈالر خرچ کرنے اور جدید ترین ڈرون ٹیکنالوجی کے باوجود، امریکی اتحاد کو افغانستان چھوڑنا پڑا۔ طالبان کا ہتھیار صرف انتظارتھا، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ گھڑیوں کی سوئیاں تو امریکہ کے قبضے میں ہیں، مگر وقت کا دھارا ان کے حق میں بہہ رہا ہے۔
آج امریکہ، اسرائیل اور ایران کے تنازع میں بھی اسی قومی استقامت کا فرق نمایاں ہے۔ اسرائیل کے پاس بلاشبہ دنیا کی بہترین روایتی فوج ہے جسے امریکہ کی مکمل پشت پناہی حاصل ہے۔ لیکن ان کا مقابلہ کسی باقاعدہ فوج سے نہیں، بلکہ ایک مزاحمتی محور (Axis of Resistance) سے ہے، جس میں حزب اللہ، حماس اور حوثی جیسے گروہ شامل ہیں۔ یہ وہ نیٹ ورک ہے جسے ایران نے اپنی بقا کے لیے تیار کیا ہے۔ ایران جانتا ہے کہ وہ جدید فضائی اور زمینی جنگ نہیں جیت سکتا، لیکن وہ جنگ کو اتنا طویل اور مہنگا بنا سکتا ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی خود وہاں سے پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو جائیں۔
اس ضمن میں یمن کے حوثیوں کی مثال نہایت واضح ہے۔ جب وہ ایک نسبتاً سستے ڈرون کے ذریعے عالمی تجارتی راستوں کو متاثر کر دیتے ہیں، تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے کہ ایک ہزار ڈالر کے ڈرون کو گرانے کے لیے لاکھوں ڈالر کا میزائل استعمال کرنا مغرب کے لیے معاشی اعتبار سے ایک خسارے کا سودا ہے۔ یہ محض عسکری نہیں بلکہ معاشی عدم توازن کی جنگ ہے، جہاں کم وسائل رکھنے والا فریق طویل مدت میں زیادہ طاقتور حریف کو تھکا دیتا ہے۔
اسرائیل اور امریکہ جیسے معاشرے فوری نتائج، داخلی استحکام اور مسلسل معاشی نمو کے تقاضوں سے بندھے ہوتے ہیں۔ ان کے لیے طویل، غیر یقینی اور تھکا دینے والی جنگیں سیاسی اور سماجی دباؤ کو بڑھا دیتی ہیں۔ اس کے برعکس ایران کے اتحادی “حسینی صبر” کے تصور کے تحت طویل المدتی مزاحمت کو اپنی حکمتِ عملی بناتے ہیں، جہاں وقتی نقصانات کو ایک بڑے اور طویل مقصد کے لیے قبول کیا جاتا ہے۔
اگر آج ایک بڑی اور باقاعدہ زمینی جنگ چھڑتی ہے تو ممکن ہے کہ امریکہ اور اسرائیل ابتدائی معرکوں میں اپنی عسکری برتری کے باعث کامیابیاں حاصل کر لیں، مگر جلد ہی وہ ایک ایسی پیچیدہ دلدل میں اتر جائیں گے جہاں دشمن نہ کسی واضح محاذ پر ہوگا، نہ کسی روایتی جنگی ترتیب میں۔ وہ ہر جگہ موجود بھی ہوگا اور کہیں بھی نہیں — اور یہی وہ جنگ ہوتی ہے جس میں عسکری طاقت سے زیادہ صبر، وقت اور سیاسی برداشت فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں۔
ویتنام کے گھنے جنگلوں اور بنگال کے بپھرے ہوئے دریاؤں سے لے کر افغانستان کے سنگلاخ پہاڑوں تک، تاریخ ہمیں یہی سکھاتی ہے کہ روایتی عسکری قوت ایک ایسی تلوار ہے جو بظاہر بہت تیز اور ہیبت ناک تو ہوتی ہے، مگر جنگ کی طوالت اور حریف کی غیر روایتی مزاحمت پہلے اسے کند کرتی ہے اور پھر بالآخر ٹکڑے ٹکڑے کر دیتی ہے۔ اگر آج امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے ساتھ درپیش تنازعات کا حل محض گولی اور بارود میں تلاش کرنے کی کوشش کی، تو وہ انہی تاریخی غلطیوں کو دہرائیں گے جن کا خمیازہ ماضی کی بڑی سلطنتیں بھگت چکی ہیں۔
امن کبھی بھی کسی کمزورغیر روایتی دشمن کی مکمل مادی تباہی سے حاصل نہیں ہوتا، کیونکہ ایسی قوتیں محض میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ عوام کے شعور اور نظریات میں بستی ہیں اور انہیں کبھی کلی طور پر ختم نہیں کیا جا سکتا۔حقیقی اور پائیدار امن کی راہ تب ہموار ہوتی ہے جب کوئی بڑی طاقت اپنی انا کے خول سے باہر نکل کر یہ کڑوی حقیقت تسلیم کر لیتی ہے کہ اس کی مادی قوت اور لڑنے کی سکت اب جواب دے رہی ہے۔ یہ وہی موڑ ہوتا ہے جہاں طاقتور کو یہ ادراک ہوتا ہے کہ بندوق سے خاموشی تو پیدا کی جا سکتی ہے مگر شکستِ فاش نہیں دی جا سکتی۔ چنانچہ، اسے بالاآخر مذاکرات کی اسی میز پر لوٹنا پڑتا ہے جسے وہ پہلے حقارت سے ٹھکرا چکا ہوتا ہے۔ یہ وہی راستہ ہے جو برطانیہ نے دہائیوں کی خونریزی کے بعد شمالی آئرلینڈ میں آئرش ریپبلکن آرمی کے ساتھ اختیار کیا، اور یہ وہی راستہ ہے جو بیس سالہ لاحاصل جنگ کے بعد امریکہ نے طالبان کے ساتھ دوحہ کے مقام پر اپنایا۔
تاریخ بار بار یہ سبق دیتی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ جیسے آتش فشاں خطے کو صرف طاقت کے زور پر ٹھنڈا نہیں کیا جا سکتا۔ اس آگ کو بجھانے کے لیے بالآخر طاقت کے زعم سے نکل کر مکالمے، تحمل اور سفارت کاری کی اسی راہ پر چلنا ہوگا۔ بصورتِ دیگر اعصاب اور استقامت کی اس طویل جنگ میں فتح اکثر اسی کے حصے میں آتی ہے جس کے پاس کھونے کو کم، مگر پانے کو پوری تاریخ اور مستقبل ہوتا ہے۔
ایسے نازک حالات میں امن کے لیے پاکستان کی کوششیں قابلِ تحسین ہیں۔ پاکستان مسلسل مکالمے، کشیدگی میں کمی اور علاقائی استحکام کی حمایت کرتا آیا ہے۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے ان کوششوں کا ساتھ دے، کیونکہ مشرقِ وسطیٰ میں استحکام نہ صرف اس خطے بلکہ پوری دنیا کے امن اور معاشی توازن کے لیے ناگزیر ہے۔
………………………………..
.
مصنف: قریش خٹک صحافی رہ چکے ہیں اور انتخابی و پارلیمانی امور کے ماہر ہیں۔ وہ سیاست، طرزِ حکمرانی اور گورننس اصلاحات پر لکھتے ہیں۔
