امریکہ ۔ ایران کے درمیان عمان مذاکرات کاپہلا دور – قادر خان یوسف زئی
عالمی سیاست کے شطرنج پر اس وقت جو کھیل کھیلا جا رہا ہے وہ نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ جنوبی ایشیا کے مستقبل کا بھی فیصلہ کن موڑ ثابت ہو سکتا ہے اور اسی تناظر میں اسلام آباد کے دفتر خارجہ کی جانب سے آنے والی تصدیق نے خطے میں جاری بے یقینی کی دھند کو کسی حد تک چھانٹ دیا کہ پاکستان کو تہران اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے عمان مذاکرات میں باقاعدہ طور پر مدعو کر، اس سے قبل یہ مذاکرات استنبول میں ہونے تھے تاہم ایران کی خواہش پر مذاکرات کا مقام تبدیل کرکے عمان کے دارالحکومت مسقط منقل کردیا گیا۔ یہ خبر محض ایک روایتی سفارتی بیان نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے تزویراتی مجبوریوں اور جغرافیائی اہمیت کی وہ طویل داستان پوشیدہ ہے جو عالمی طاقتوں کو ایک بار پھر اسلام آباد کی طرف دیکھنے پر مجبور کر رہی ہے کیونکہ جب منگل 03 فروری 2026کو ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے اس بات کی تصدیق کی کہ اسلام آباد کو باضابطہ دعوت نامہ موصول ہو چکا ہے تو اس کے ساتھ ہی یہ واضح ہو گیا کہ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار اس نازک مشن پر روانہ ہوں گے جو نہ صرف پاکستان کی سفارتی ساکھ کا امتحان ہے بلکہ خطے کو ایک بڑی تباہی سے بچانے کی آخری کوشش بھی دکھائی دیتی ہے۔
اس پورے منظرنامے کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم جذباتی نعروں سے ہٹ کر حقائق کی اس عینک سے دیکھیں جو بتا رہی ہے کہ ترکیہ میں ہونے والے ان مذاکرات کی میز پر صرف ایران اور امریکہ نہیں ہوں گے بلکہ سعودی عرب، قطر، مصر، عمان اور متحدہ عرب امارات جیسے ممالک کی موجودگی اس امر کا ثبوت ہے کہ یہ معاملہ اب صرف دو ملکوں کی باہمی رنجش کا نہیں رہا بلکہ یہ اس پورے خطے کی بقا کا سوال بن چکا ہے جس میں پاکستان کا کردار ایک خاموش مگر انتہائی اہم ثالث کا ہے۔ ایران نے پہلے دور کو تعمیری اور حوصلہ افزا قرار دیا ہے۔ آئندہ ادوار کے بارے میں بعد ازاں اعلان ہوگا۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ان تمام ممالک اور خاص طور پر پاکستان کو اس عمل کا حصہ کیوں بنایا گیا ہے تو اس کا جواب واشنگٹن اور تہران کے درمیان عدم اعتماد کی اس گہری کھائی میں ملتا ہے جسے پاٹنے کے لیے اب براہ راست مذاکرات کافی نہیں رہے بلکہ ”ریجنل کانٹیکٹ گروپ” یا علاقائی رابطہ گروپ کی شکل میں ان تمام اسٹیک ہولڈرز کو شامل کیا گیا جو ممکنہ تصادم کی صورت میں سب سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔ پاکستان کی شمولیت کی بنیادی وجہ اس کی جغرافیائی حیثیت ہے جو اسے ایران کے پڑوسی ہونے کے ناطے براہ راست فریق بناتی ہے اور ماضی قریب میں جس طرح اسلام آباد نے خاموش سفارت کاری کے ذریعے کشیدگی کو کم کرنے میں کردار ادا کیا ہے اسے واشنگٹن میں بھی قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا ہے اور تہران کے لیے بھی یہ اطمینان کا باعث ہے کہ مذاکرات کی میز پر ایک ایسا ملک موجود ہے جو اس کا ہمسایہ بھی ہے اور جس کے مفادات ایران کے استحکام سے جڑے ہوئے ہیں۔
دوسری جانب قطر اور عمان کی شمولیت کی وجہ ان کا وہ تاریخی کردار ہے جو انہوں نے ہمیشہ امریکہ اور ایران کے درمیان بیک چینل ڈپلومیسی میں ادا کیا۔ چاہے وہ قیدیوں کا تبادلہ ہو یا منجمد اثاثوں کی بحالی کا معاملہ، ان دونوں ریاستوں نے ہمیشہ ایک قابل اعتماد پل کا کردار ادا کیا ہے۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور مصر کی شمولیت کا مقصد خطے کی سکیورٹی کو یقینی بنانا ہے کیونکہ یہ خلیجی ممالک واضح کر چکے ہیں کہ وہ اپنی سرزمین یا فضائی حدود کو ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے اور ان کی موجودگی کا مقصد امریکہ پر یہ دباؤ برقرار رکھنا ہے کہ کوئی بھی ایسا فیصلہ نہ کیا جائے جو پورے مشرق وسطیٰ کو جنگ کی آگ میں جھونک دے۔ ترکیہ کا بطور میزبان انتخاب بھی انتہائی معنی خیز ہے کیونکہ رجب طیب اردوان کی حکومت نیٹو کا حصہ ہونے کے باوجود ایران کے ساتھ مضبوط تجارتی اور سفارتی تعلقات رکھتی ہے اور انقرہ یا استنبول میں ہونے والے یہ مذاکرات ایک ایسے غیر جانبدار مقام پر ہو رہے ہیں جہاں دونوں فریقین کھل کر بات کر سکیں۔
اب اگر ہم ان مذاکرات کی کامیابی کے امکانات اور روڈ میپ کا جائزہ لیں تو صورتحال انتہائی پیچیدہ اور نازک دکھائی دیتی ہے کیونکہ مستند اور مصدقہ رپورٹس کے مطابق ان اعلیٰ سطحی اجلاسوں میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کے درمیان ہونے والی گفتگو کا ایجنڈا انتہائی سخت ہے۔ وائٹ ہاؤس اور خاص طور پر ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے جو اشارے مل رہے ہیں وہ یہ ہیں کہ امریکہ ایران سے جوہری پروگرام پر مکمل تالا بندی یا جسے وہ ”اسٹریٹجک سبمشن” کہتے ہیں کا مطالبہ کر رہا ہے جس کے تحت یورینیم کی افزودگی کو صفر کی سطح پر لایا جائے اور بیلسٹک میزائل پروگرام کو محدود کیا جائے۔ دوسری جانب تہران کا موقف واضح ہے کہ وہ دباؤ میں آکر مذاکرات نہیں کرے گا اور اگر یہ بات چیت محض سرینڈر کروانے کا ایک بہانہ ہے تو وہ جنگ کے لیے بھی تیار ہیں تاہم ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اپنے سفارت کاروں کو یہ مینڈیٹ دیا ہے کہ اگر بات چیت منصفانہ ہو اور اقتصادی پابندیاں اٹھانے کا ٹھوس وعدہ کیا جائے تو ایران لچک دکھا سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں اور ماہرین کا ماننا ہے کہ ان مذاکرات میں کسی بڑے اور حتمی معاہدے یا ”گرینڈ بارگین” کی توقع رکھنا فی الحال خام خیالی ہوگی کیونکہ اعتماد کا فقدان بہت زیادہ ہے اس لیے کامیابی کا معیار فی الحال صرف یہ ہوگا کہ کیا فریقین کشیدگی میں عارضی ٹھہراؤ پر راضی ہو سکتے ہیں یا نہیں۔ روڈ میپ کے مطابق پہلا مرحلہ ”ڈی ایسکلیشن” یا کشیدگی میں کمی لانا ہے تاکہ فوجی تصادم کا فوری خطرہ ٹل سکے اور اس کے بعد جوہری پروگرام اور پابندیوں کے پیچیدہ معاملات پر تکنیکی بات چیت کا آغاز ہو سکے۔ پاکستان اور دیگر علاقائی ممالک کا کردار یہاں اس ”ضامن” کا ہوگا جو اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ اگر کوئی معاہدہ طے پاتا ہے تو دونوں فریقین اس کی پاسداری کریں اور اگر بات چیت ناکام ہوتی ہے تو خطے کو اس کے اثرات سے کیسے محفوظ رکھا جائے۔ یہ بات چیت ایک ایسی تلوار کی دھار پر چلنے کے مترادف ہے جہاں ایک چھوٹی سی غلط فہمی یا اشتعال انگیزی میز پر موجود تمام نقشوں کو جلا کر راکھ کر سکتی ہے اور اسی لیے اسحاق ڈار کی قیادت میں پاکستانی وفد کی وہاں موجودگی محض حاضری لگانے کے لیے نہیں بلکہ ایک فعال سفارتی مشن ہے جس کا مقصد اپنی سرحدوں کو محفوظ بنانا اور خطے میں طاقت کے توازن کو بگڑنے سے بچانا ہے۔
حالات کی سنگینی کا اندازہ اس امرسے لگایا جا سکتا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح طور پر خبردار کیا ہے کہ اگر کوئی ڈیل نہ ہو سکی تو ”بہت بری چیزیں رونما ہوں گی” جو کہ بظاہر ایران کی جوہری تنصیبات پر حملوں کی طرف اشارہ ہے جبکہ ایران نے بھی اپنی دفاعی صلاحیتوں کو ہائی الرٹ پر رکھا ہوا ہے۔ ایسے بارود کے ڈھیر پر ہونے والے مذاکرات میں پاکستان کی شمولیت ایک اعزاز بھی ہے اور ایک آزمائش بھی۔ ماہرانہ رائے یہ ہے کہ پاکستان کو وہاں جا کر صرف پیغام رسانی تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ ایک واضح مؤقف اپنانا چاہیے کہ خطے میں کسی بھی نئی جنگ کا سب سے زیادہ نقصان ترقی پذیر ممالک کو ہوگا جو پہلے ہی معاشی بحرانوں کا شکار ہیں۔ ان مذاکرات سے کیا توقع کی جا سکتی ہے؟ حقیقت پسندانہ تجزیہ یہی ہے کہ شاید فوری طور پر کوئی ”امن معاہدہ” سامنے نہ آئے لیکن اگر فریقین اس بات پر متفق ہو جاتے ہیں کہ فی الحال ایک دوسرے پر حملے نہیں کیے جائیں گے اور سفارتی دروازہ کھلا رکھا جائے گا تو اسے بھی ایک بڑی کامیابی تصور کیا جائے گا۔
یہ وہ لمحہ ہے جب سفارت کاری کو جذبات پر غالب آنا ہوگا اور پاکستان کا کردار اس عمل میں ایک ایسے کیٹالسٹ کا ہے جو کیمیائی عمل کو تیز تو کر سکتا ہے لیکن خود اس کا حصہ بننے سے گریزاں ہے تاکہ اپنی غیر جانبدارانہ حیثیت برقرار رکھ سکے۔ ترکیہ کی میزبانی اور سعودی عرب و قطر کی معاونت کے ساتھ ہونے والی یہ کوشش شاید آخری موقع ہے کہ دنیا کو ایک اور بڑی تباہی سے بچایا جا سکے ورنہ تاریخ گواہ ہے کہ جب سفارت کاری ناکام ہوتی ہے تو پھر توپوں کے دہانے کھلتے ہیں اور اس وقت جو آگ لگے گی اس کا دھواں واشنگٹن تک شاید نہ پہنچے لیکن تہران، اسلام آباد اور ریاض اس کی تپش ضرور محسوس کریں گے۔ لہٰذا مذاکرات صرف ایک نیا قدم نہیں بلکہ خطے کی نئی تاریخ کا آغاز ہوگا جس کی تحریر ان مذاکرات کی کامیابی یا ناکامی سے لکھی جائے گی۔
