اپرچترال؛ سوروحت پل پر اہالیانِ تورکھو تیریچ کا احتجاجی جلسہ، اسفالٹ مشینری تورکھو منتقل کرنے کا مطالبہ
۔
چترال (نمائندہ چترال ٹائمز) سودوحت پل کے مقام پر اہالیانِ تورکھو تیریچ کا احتجاجی جلسہ منعقد کیا گیا ، جہاں تورکھو کے مختلف علاقوں سے لوگوں کی بڑی تعداد قافلوں کی صورت میں پہنچ گئے ۔ منتظمین کے مطابق مختلف علاقوں سے مزید قافلوں کی آمد کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور امکان ہے کہ کل تک شرکاء کی تعداد دوگنا ہوجائے گی۔
احتجاجی جلسے کے شرکاء نے تورکھو روڈ کی تعمیر اور سڑک پر جاری کام سے متعلق اپنے مطالبات کے حق میں شدید احتجاج کیا۔ مظاہرین کا بنیادی مطالبہ ہے کہ اسفالٹ بچھانے والی مشینری کو فوری طور پر تورکھو منتقل کیا جائے تاکہ علاقے میں سڑک کا کام عملی طور پر شروع اور مقررہ رفتار سے جاری رکھا جاسکے۔
مظاہرین اور منتظمین کا کہنا ہے کہ تورکھو کے عوام طویل عرصے سے سڑک کی تعمیر اور بہتر سفری سہولیات کے منتظر ہیں، تاہم سڑک کے کام میں تاخیر اور مشینری کی عدم دستیابی کے باعث علاقے کے عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔
احتجاجی جلسے کے شرکاء نے واضح کیا ہے کہ جب تک ضلعی انتظامیہ اور محکمہ مواصلات و تعمیرات (سی اینڈ ڈبلیو) کی جانب سے عدالت/سیشن جج کے سامنے تحریری معاہدہ نہیں کیا جاتا، احتجاج اور دھرنا ختم نہیں کیا جائے گا۔ مظاہرین نے کہا کہ وہ اپنے مطالبات کی تحریری ضمانت کے بغیر کسی یقین دہانی پر احتجاج ختم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
منتظمین کے مطابق احتجاجی مقام پر مختلف علاقوں سے لوگوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے اور عوام نے اپنے مطالبات کے حصول تک احتجاج جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جاسکتا ہے۔
دوسری جانب ضلعی انتظامیہ اور تورکھو کے عوام کے درمیان حالیہ مذاکرات میں بونی میں موجود مشینری کو تاحکمِ ثانی کسی دوسرے مقام پر منتقل نہ کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی گئی تھی، جبکہ منگل کے روز انتظامیہ کے دفتر میں محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے ایگزیکٹو انجینئر، متعلقہ ٹھیکیدار اور دیگر متعلقہ فریقین کی موجودگی میں تورکھو روڈ کے کام کی موجودہ صورتحال، پیش رفت اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تفصیلی بات چیت طے کی گئی ہے۔
تاہم احتجاجی شرکاء کا کہنا ہے کہ وہ صرف زبانی یقین دہانیوں پر اکتفا نہیں کریں گے بلکہ اپنے مطالبات کے حوالے سے تحریری معاہدہ چاہتے ہیں۔ مظاہرین نے کہا کہ سخت سردی کے باوجود دھرنا مطالبات کی منظوری اور تحریری معاہدے تک جاری رہے گا۔
