چترال اپر پولیس نے بریب میں بیہمانہ قتل کیس کے نامزد ملزم کو گرفتار کر لیا، آلۂ قتل بھی برآمد
.
اپر چترال (نمائندہ چترال ٹائمز) چترال اپر پولیس نے بریپ جم لشٹ میں خاتون کے قتل اور ایک شخص کو زخمی کرنے کے مقدمے میں نامزد ملزم کو گرفتار کرکے آلۂ قتل بھی برآمد کر لیا ہے۔
پولیس کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق یکم جولائی 2026ء کی رات بریپ جم لشٹ میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق بلبل اعظم اپنی اہلیہ شاہدہ بی بی کے ہمراہ جماعت خانے سے گھر واپس جا رہے تھے کہ راستے میں نامعلوم ملزم یا ملزمان نے ان پر فائرنگ کر دی۔ فائرنگ کے نتیجے میں شاہدہ بی بی موقع پر زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگئیں، جبکہ بلبل اعظم شدید زخمی ہوگئے۔
اطلاع ملتے ہی پولیس فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچی، شواہد اکٹھے کیے اور مقتولہ کی لاش پوسٹ مارٹم کے لیے ٹی ایچ کیو ہسپتال بونی منتقل کر دی۔ اس موقع پر ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر چترال اپر حمیداللہ بھی ہسپتال پہنچے اور قانونی کارروائی کی خود نگرانی کی۔
پولیس نے تھانہ مستوج میں ایف آئی آر نمبر 24، مورخہ 2 جولائی 2026ء، زیر دفعات 302 اور 324 تعزیراتِ پاکستان نامعلوم ملزم یا ملزمان کے خلاف درج کرکے تفتیش شروع کر دی۔
بعد ازاں زخمی بلبل اعظم نے اپنے بیان میں زمان علی بیگ ولد روزی من بیگ، سکنہ بریپ کو واقعے میں ملوث قرار دیتے ہوئے نامزد کیا۔ ڈی پی او حمیداللہ (PSP) اور ایس پی انویسٹی گیشن اجمل خان کی ہدایات پر ایس ڈی پی او سرکل مستوج اکبر شاہ کی سربراہی میں ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی، جس میں ایس ایچ او تھانہ مستوج قربان علی، انسپکٹر اکبر خان، ایڈیشنل ایس ایچ او اکبر ولی اور تفتیشی افسر نصاب علی شامل تھے۔
پولیس ٹیم نے مؤثر کارروائی کرتے ہوئے نامزد ملزم کو گرفتار کر لیا، جبکہ واردات میں استعمال ہونے والا آلۂ قتل بھی برآمد کر لیا گیا۔
پریس ریلیز کے مطابق ابتدائی تفتیش میں ملزم نے بتایا کہ اس کی اہلیہ نے اس سے خلع حاصل کیا تھا، اور اس کے بقول بلبل اعظم اور مقتولہ شاہدہ بی بی نے خلع دلوانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ اسی رنجش کی بنا پر اس نے دونوں کو قتل کرنے کی نیت سے فائرنگ کی۔ پولیس کے مطابق مقدمے کی مزید تفتیش جاری ہے۔
چترال اپر پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ ایسے حساس مقدمات میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کریں، کیونکہ بروقت اور درست معلومات ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
پولیس نے سوشل میڈیا صارفین سے بھی درخواست کی ہے کہ حساس واقعات سے متعلق غیر مصدقہ یا من گھڑت اطلاعات نشر کرنے سے گریز کریں اور خبر کی اشاعت سے قبل متعلقہ اداروں سے تصدیق ضرور کریں، تاکہ عوام تک درست اور مستند معلومات پہنچ سکیں۔
پریس ریلیز کے اختتام پر چترال اپر پولیس نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ عوام کے جان و مال کے تحفظ، قانون کی بالادستی اور بروقت انصاف کی فراہمی کے لیے اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں پوری دیانت داری، شفافیت اور عزم کے ساتھ انجام دیتی رہے گی۔
یادرہے کہ سوشل میڈیا کے بعض ایکٹویسٹ اس کیس کو مذہبی رنگ دینے کی کوشش کررہے تھے تاہم پولیس کی بروقت انوسٹی گیشن سے اصل حقائق عوام کے سامنے لایا گیا، زرائع کے مطابق دونوں پارٹیز کا تعلق ایک ہی کمیونٹی اور فرقے سے ہے ۔
