اپر چترال میں صحت کا سنگین بحران؛ 88 ڈاکٹروں میں سے صرف 9ڈاکٹرزڈیوٹی دے رہے ہیں
اپر چترال ( شہزاد احمد) اپر چترال میں صحت کے شعبے کو شدید انسانی وسائل کے بحران کا سامنا ہے۔ دستیاب سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ضلع اپر چترال میں مجموعی طور پر 88 میڈیکل افسران کی ضرورت ہے، مگر بدقسمتی سے اس وقت صرف 9 ڈاکٹرز خدمات انجام دے رہے ہیں، جو صورتحال کی سنگینی کو واضح کرتا ہے۔
اپر چترال میں کل 32 سی ڈی ڈسپنسری موجود ہیں، جہاں اصولی طور پر ہر سی ڈی میں ایک ڈاکٹر کی تعیناتی لازم ہے۔ اس کے علاوہ ضلع میں 3 آر ایچ سی (RHC) ہسپتال ہیں، جہاں عمومی طور پر ہر آر ایچ سی میں کم از کم 3 ڈاکٹر ہونے چاہئیں۔ اسی طرح اپر چترال میں 12 بی ایچ یو (BHU) ہیں، جن میں ہر ایک کے لیے ایک میڈیکل افسر ضروری ہوتا ہے۔
مزید برآں، ضلع کا واحد بڑا ہسپتال ٹی ایچ کیو بونی (THQ) ہے، جہاں گائنی اسپیشلسٹ، ایمرجنسی اور دیگر شعبہ جات کو ملا کر کم از کم 26 میڈیکل افسران درکار ہوتے ہیں۔
ان تمام اداروں کی مجموعی ضرورت کو یکجا کیا جائے تو اپر چترال میں کل 88 میڈیکل افسران کی ضرورت بنتی ہے۔
افسوسناک امر یہ ہے کہ موجودہ 9 ڈاکٹروں میں سے بھی تقریباً 80 فیصد ڈاکٹر اپر چترال سے تعلق نہیں رکھتے، جبکہ اپر چترال کے 17 مقامی ڈاکٹر ضلع سے باہر ڈیوٹی انجام دے رہے ہیں۔ مزید یہ کہ ہر سال اپر چترال کے کوٹے سے چار نئے ڈاکٹر ڈگری حاصل کر رہے ہیں، مگر اس کے باوجود مقامی ہسپتالوں میں ان کی تعیناتی عمل میں نہیں لائی جا رہی۔
اس وقت ٹی ایچ کیو بونی میں عوام ڈاکٹروں کی کمی پر سراپا احتجاج ہیں، جبکہ صورتحال اس وقت مزید گھمبیر ہو گئی جب یہاں سے دو ڈاکٹروں کو شگرام ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے۔ آر ایچ سی شگرام تورکھو میں ڈاکٹروں کی کمی پوری کرنے کے لیے نئے میڈیکل افسر تعینات کرنے کے بجائے ٹی ایچ کیو بونی سے ڈاکٹروں کو ہٹایا جا رہا ہے، جو ضلع کے واحد مرکزی ہسپتال کو مزید کمزور کر رہا ہے۔
ٹی ایچ کیو بونی وہ واحد ہسپتال ہے جہاں اپر چترال کے طول و عرض سے مریض علاج کے لیے آتے ہیں۔ پہلے ہی عملے کی کمی کے باعث یہاں کے ڈاکٹر کئی کئی گھنٹے مسلسل ڈیوٹیاں انجام دینے پر مجبور ہیں۔
حالیہ دنوں میں متعدد ڈاکٹروں کے تبادلوں کے نوٹیفکیشن جاری ہوئے، مگر اس کے باوجود ڈاکٹر یہاں جوائن کرنے کو تیار نہیں، جو محکمہ صحت کی انتظامی ناکامی کا واضح ثبوت ہے۔
یہ صورتحال حکومت کی بے حسی، محکمہ صحت کی لاپرواہی، ڈی ایچ او اپر چترال کی کمزور نگرانی اور سیاسی قیادت کی خاموشی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔
حکومتی و سیاسی نمائندوں، خصوصاً اپوزیشن جماعتوں کے قائدین کی اس سنگین مسئلے پر خاموشی عوام کے لیے ناقابلِ فہم ہے۔
عوامی حلقے مطالبہ کرتے ہیں کہ اپر چترال میں فوری طور پر مقامی ڈاکٹروں کی تعیناتی، نئے میڈیکل افسران کی بھرتی اور ٹی ایچ کیو بونی سمیت تمام صحت مراکز میں ڈاکٹروں کی کمی کو ہنگامی بنیادوں پر پورا کیا جائے، بصورت دیگر یہ بحران انسانی جانوں کے لیے مزید خطرناک صورت اختیار کر سکتا ہے۔

