یونیورسٹی آف چترال کی بڑی کامیابی، HEC کے SAP-ERP پروگرام میں قومی سطح پر چوتھی جبکہ صوبائی سطح پر پہلی پوزیشن
پشاور ( نمائندہ چترال ٹائمز ) یونیورسٹی آف چترال نے ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ہائر ایجوکیشن ڈویلپمنٹ پروگرام (HEDP) کے تحت SAP-ERP (مکتب پروجیکٹ) کے کامیاب نفاذ میں نمایاں کامیابی حاصل کرتے ہوئے پورے پاکستان میں چوتھی جبکہ خیبر پختونخوا میں پہلی پوزیشن حاصل کر لی ہے۔ یہ اعزاز یونیورسٹی آف چترال کے لیے نہ صرف تعلیمی بلکہ انتظامی سطح پر بھی ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
پاکستان کے ہائر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کے اس قومی اقدام کے تحت مکتب پروجیکٹ کی لانچنگ تقریب 5 جنوری 2026 کو منعقد ہوئی، جس کی صدارت وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کی۔ افتتاحی تقریب میں وزارتِ مملکت محترمہ وجیہہ قمہ، چیئرمین ایچ ای سی جناب ندیم محبوب، ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایچ ای سی پروفیسر ڈاکٹر ضیاء الحق، سابق چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر مختار اور مختلف جامعات کے وائس چانسلرز نے شرکت کی۔
یونیورسٹی آف چترال نے ملک بھر کی 25 منتخب یونیورسٹیوں میں چوتھی اور خیبر پختونخوا میں پہلی پوزیشن حاصل کر کے اپنی غیر معمولی کارکردگی کا ثبوت دیا۔ ہائر ایجوکیشن ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت نافذ کیے گئے مکتب اقدام کا بنیادی مقصد SAP ERP اسٹوڈنٹ لائف سائیکل مینجمنٹ (SLCM) اور بلیک بورڈ لرننگ مینجمنٹ سسٹم (LMS) کے ذریعے جامعات کے تعلیمی اور انتظامی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے۔
اکتوبر 2024 میں پاکستان بھر کے 25 اعلیٰ تعلیمی اداروں کو اس مسابقتی پروگرام کے لیے منتخب کیا گیا تھا، جن میں یونیورسٹی آف چترال بھی شامل تھی۔ اگرچہ یونیورسٹی آف چترال کو ویو تھری (Wave-3) کا حصہ بنایا گیا تھا، تاہم اس کے باوجود ادارے نے ریکارڈ مدت میں SAP-ERP کے نفاذ کو ممکن بنا کر غیر معمولی عزم، مؤثر منصوبہ بندی اور اعلیٰ پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔
مضبوط ادارہ جاتی ہم آہنگی، مؤثر قیادت اور جدید تکنیکی تیاری کے باعث یونیورسٹی آف چترال نے کامیابی کے ساتھ اپنے تعلیمی اور انتظامی نظام کو مکتب پلیٹ فارم پر منتقل کر دیا ہے۔ متعدد پیچیدہ چیلنجز کے باوجود اس کامیابی نے یونیورسٹی آف چترال کو پاکستان کے صفِ اول کے ڈیجیٹل کیمپسز میں شامل کر دیا ہے۔
یونیورسٹی آف چترال کے تعلیمی و انتظامی نظام کی مکمل ڈیجیٹائزیشن کو ادارے کے روشن اور جدید مستقبل کی جانب ایک اہم اور فیصلہ کن قدم قرار دیا جا رہا ہے، جو نہ صرف طلبہ بلکہ اساتذہ اور انتظامی عملے کے لیے بھی سہولت اور شفافیت کا باعث بنے گا۔


