عمائدینِ تورکھو تریچ کا اہم اجلاس، بونی بزند روڈ پر باقاعدہ کام شروع کرنے کیلئے 28 اپریل تک کا ڈیڈ لائن، بھرپوراحتجاج کا فیصلہ
چترال(نمائندہ چترال ٹائمز ) تورکھو تریچ روڈ فورم (TTRF) کے زیرِ اہتمام گزشتہ روزشاگرام میں عمائدینِ تورکھو تریچ، ٹی ٹی آر ایف عہدیداران، کابینہ ارکان اور مجلسِ شوریٰ کے ممبران کا اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں بونی بزند روڈ پر کام شروع نہ ہونے کے حوالے سے دی گئی ڈیڈ لائن کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا اور آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا گیا۔
اجلاس کی صدارت ٹی ٹی آر ایف کے صدر اور مرکزی مجلسِ شوریٰ کے کنوینر، سابق یو سی ناظم سیف اللہ نے کی، جبکہ اجلاس یوتھ کونسلر زار عرب کے گھر پر منعقد ہوا۔
اجلاس سے سیف اللہ کے علاوہ ٹی ٹی آر ایف کے رہنما اور عمائدینِ علاقہ مفتی عبدالغنی چمن، سابق یوسی ناظم کیپٹن (ر) اکبر شاہ، ڈاکٹر نصراللہ، احمد اللہ بیگ، صوبیدار جلال، حسین زرین چارویلو، وی سی ناظم محبوب حسین، سیکریٹری ٹی ٹی آر ایف امتیاز علی تاج، علامہ اولیا، پرنسپل عبدالقیوم، قاری محبوب نواز، استاذ حمید اللہ اور دیگر نے خطاب کیا۔
مقررین نے کہا کہ بونی بزند روڈ گزشتہ 17 سال سے زیرِ تعمیر ہے، تاہم اس منصوبے میں مبینہ کرپشن اور تاخیر کے باعث عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ مقررین کے مطابق 28 کلومیٹر طویل اس سڑک کی ابتدائی لاگت 27 کروڑ روپے تھی جو بڑھ کر ایک ارب 71 کروڑ روپے تک پہنچ چکی ہے، جبکہ ایک ارب 54 کروڑ روپے کے اخراجات کے باوجود صرف 14 کلومیٹر سڑک ہی قابلِ استعمال حالت میں لائی جا سکی ہے۔ مقررین نے اس صورتحال کو افسوسناک اور ناقابلِ قبول قرار دیا۔
مزید کہا گیا کہ چیف انجینئر کی جانب سے پشاور ہائی کورٹ میں پہلے یہ یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ کام مارچ میں شروع کیا جائے گا، تاہم اس پر عملدرآمد نہیں ہوا۔ بعد ازاں 26 مارچ 2026 کو عدالت میں دوبارہ یقین دہانی کرائی گئی کہ اپریل کے پہلے ہفتے میں کام شروع ہو جائے گا، لیکن اپریل کا چوتھا ہفتہ گزرنے کے باوجود کام شروع نہ ہونا عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔
مقررین نے الزام عائد کیا کہ محکمہ سی اینڈ ڈبلیو منصوبے کو دانستہ طور پر تاخیر کا شکار بنا کر کاسٹ ایسکیلیشن کے ذریعے مالی بے ضابطگیوں میں ملوث ہے۔
اجلاس میں متفقہ طور پر قرارداد منظور کی گئی کہ اگر 28 اپریل تک منصوبے پر عملی کام شروع نہ کیا گیا تو دو مئی سے عوامی احتجاج شروع کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں دو مئی کو شاگرام میں ایک بڑا جلسہ منعقد کیا جائے گا، جس کے بعد علاقے کے تمام مکاتبِ فکر، بشمول خواتین اور بچوں کے ہمراہ بونی کی جانب مارچ کیا جائے گا، جہاں سی اینڈ ڈبلیو دفتر کے سامنے غیر معینہ مدت تک دھرنا دیا جائے گا۔
قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ منصوبے پر بیک وقت کمپیکشن، وائڈننگ، شولڈر ورک اور پی سی سی کے کام فوری طور پر شروع کیے جائیں۔ اسی طرح کاغلشٹ، سوچ، ورکوپ گول اور ڑوویس گول رائین میں پی سی سی کا کام بھی فوری طور پر شروع کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔
مزید برآں شیرجولی، شاگرام اور دیگر علاقوں میں کلورٹس کی تعمیر بھی فوری طور پر شروع کرنے پر زور دیا گیا۔
