پاک چین تعلقات کے 75 سال ٹرمپ کا دورہ چین – میری بات/روہیل اکبر
.
آجکل امریکی صدر دورہ چین پر ہیں تو دوسری طرف پاکستان اور چین کی دوستی، اعتماد اور ترقی کے لازوال سفرجاری ہے اگر دیکھا جائے تو دنیا کی سفارتی تاریخ میں کچھ تعلقات محض مفادات کی بنیاد پر قائم ہوتے ہیں مگر کچھ رشتے وقت کی آزمائش سے گزر کر اعتماد، اخلاص اور مستقل تعاون کی علامت بن جاتے ہیں پاکستان اورچین کے درمیان تعلقات بھی انہی مثالی رشتوں میں شامل ہیں دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ دوستی محض سیاسی ضرورت نہیں بلکہ ایک مضبوط تاریخی، تزویراتی اور عوامی رشتہ ہے پاکستان ان خوش قسمت ممالک میں شامل ہے جس نے ابتدائی دور میں ہی نئے چین کو تسلیم کیا 21 مئی 1951 کو دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات قائم ہوئے اور تب سے آج تک یہ تعلقات مسلسل مضبوط ہوتے گئے
یہ دوستی ہر آزمائش پر پوری اتری چاہے خطے میں سیاسی اتار چڑھاؤ ہو، عالمی طاقتوں کی صف بندی ہو یا معاشی چیلنجز پاکستان اور چین ہمیشہ ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے رہے پاکستان اور چین کی دوستی کو اکثر“ہمالیہ سے بلند، سمندروں سے گہری، شہد سے میٹھی اور فولاد سے زیادہ مضبوط”قرار دیا جاتا ہے یہ محض سفارتی جملہ نہیں بلکہ زمینی حقائق کی عکاسی ہے چین نے ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کا ساتھ دیا جبکہ پاکستان نے بھی چین کے بنیادی قومی مفادات پر ہمیشہ غیر متزلزل حمایت فراہم کی دونوں ممالک کے تعلقات کی سب سے نمایاں مثال Economic Corridor ہے جسے پاک چین دوستی کا معاشی شاہکار کہا جاتا ہے یہ منصوبہ نہ صرف پاکستان کی معیشت کو نئی جہت دے رہا ہے بلکہ پورے خطے کے لیے ترقی اور خوشحالی کے نئے دروازے کھول رہا ہے توانائی، انفراسٹرکچر، گوادر بندرگاہ، سڑکوں اور صنعتی زونز کی تعمیر میں چین کا کردار پاکستان کے روشن مستقبل کی نوید ہے دفاعی تعاون کے میدان میں بھی دونوں ممالک کے تعلقات مثالی ہیں مشترکہ دفاعی منصوبے،
عسکری تربیت، جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی اور علاقائی سلامتی کے امور پر ہم آہنگی اس تعلق کو مزید مضبوط بناتی ہے بین الاقوامی فورمز پر بھی دونوں ممالک ایک دوسرے کے مؤقف کی حمایت کرتے آئے ہیں خصوصاً مسئلہ کشمیر پر چین کی مستقل حمایت پاکستان کے لیے اہم سفارتی اثاثہ ہے اسکے علاوہ تعلیم، ثقافت اور عوامی روابط کے شعبوں میں بھی پاک چین تعلقات وسعت اختیار کر رہے ہیں پاکستانی طلبہ کی بڑی تعداد چین کی جامعات میں تعلیم حاصل کر رہی ہے جبکہ چینی زبان سیکھنے کا رجحان بھی بڑھ رہا ہے یہ روابط مستقبل میں دونوں اقوام کے درمیان مزید قربت پیدا کریں گے 75 برس مکمل ہونے پر یہ کہنا بجا ہوگا کہ پاک چین دوستی وقت کے ساتھ مزید پختہ ہوئی ہے آج جب دنیا تیزی سے بدلتے ہوئے سیاسی و معاشی حالات سے گزر رہی ہے پاکستان اور چین کی شراکت داری خطے میں استحکام اور ترقی کی ضمانت بن سکتی ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ اس تاریخی دوستی کو نئی نسل تک منتقل کیا جائے، اقتصادی تعاون کو مزید وسعت دی جائے اور مشترکہ ترقی کے وژن کو عملی جامہ پہنایا جائے پاکستان اور چین کے سفارتی تعلقات کے 75 سال اس حقیقت کا اعلان ہیں کہ سچی دوستی وقتی مفادات سے بالاتر ہوتی ہے یہ دوستی نہ صرف دونوں ممالک کے لیے بلکہ پورے خطے کے امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے ایک روشن مثال ہے اور اسی روشنی کو مزید نکھارنے کے لیے وزیراعلی پنجاب مریم نوازشریف نے پاکستان چین سفارتی تعلقات کے 75 سال پورے ہونے کے تاریخی موقع کو شایان شان طریقے سے منانے کیلیے 21 اور 25 مئی کو خصوصی تقاریب منانے کا علان بھی کردیا ہے
دوسری طرف امریکی صدر چین کے دورہ پر ہیں دنیا کی دو بڑی طاقتیں، United States اور China جب بھی سفارتی سطح پر قریب آتی ہیں تو اس کے اثرات صرف ان دونوں ممالک تک محدود نہیں رہتے بلکہ پوری دنیا کی سیاسی، معاشی اور تزویراتی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ایسے میں امریکی صدر کا دورہ? چین عالمی سیاست کے افق پر ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ دورہ دنیا کے لیے کیا تبدیلیاں لا سکتا ہے؟گزشتہ چند برسوں سے United States اور China کے تعلقات کشیدگی کا شکار رہے ہیں۔ تجارتی جنگ، ٹیکنالوجی کی برتری، تائیوان کا مسئلہ، جنوبی بحیرہ چین کی کشیدگی اور عالمی منڈیوں میں اثر و رسوخ کی دوڑ نے دونوں طاقتوں کو آمنے سامنے لا کھڑا کیا۔ تاہم عالمی معیشت کے موجودہ حالات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ دونوں ممالک محاذ آرائی کے بجائے مذاکرات کی راہ اپنائیں۔اگر امریکی صدر کا یہ دورہ مثبت نتائج دیتا ہے تو سب سے پہلے عالمی معیشت کو استحکام مل سکتا ہے۔ دنیا بھر کی منڈیاں اس وقت غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔
اگر دونوں ممالک تجارتی تنازعات کم کرنے پر آمادہ ہو جائیں تو سرمایہ کاری میں اضافہ، سپلائی چین کی بحالی اور عالمی تجارت میں بہتری ممکن ہے۔دوسری اہم تبدیلی خطے میں امن و استحکام کے حوالے سے آ سکتی ہے۔ تائیوان کے مسئلے پر اگر کوئی نرم رویہ اختیار کیا جاتا ہے تو ایشیا میں جنگ کے خطرات کم ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح ماحولیاتی تبدیلی، مصنوعی ذہانت اور سائبر سکیورٹی جیسے عالمی مسائل پر تعاون کی نئی راہیں کھل سکتی ہیں۔تاہم اس دورے کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے۔ اگر مذاکرات ناکام رہتے ہیں یا محض رسمی بیانات تک محدود رہتے ہیں تو کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس صورت میں عالمی طاقتوں کے درمیان بلاک بندی بڑھے گی اور چھوٹے ممالک کے لیے سفارتی توازن برقرار رکھنا مزید مشکل ہو جائے گا۔
پاکستان جیسے ممالک لیے بھی یہ دورہ غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ پاکستان کے چین کے ساتھ گہرے اقتصادی تعلقات ہیں جبکہ امریکہ بھی ایک اہم عالمی شراکت دار ہے۔ اگر دونوں بڑی طاقتوں کے تعلقات میں بہتری آتی ہے تو پاکستان کو اقتصادی اور سفارتی سطح پر فائدہ پہنچ سکتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ آج کی دنیا محاذ آرائی نہیں بلکہ مکالمے کی متقاضی ہے۔ امریکی صدر کا دورہ? چین اگر اعتماد سازی کا ذریعہ بنتا ہے تو یہ عالمی سیاست میں ایک نئی سمت متعین کر سکتا ہے۔ دنیا اس وقت امن، معاشی استحکام اور مشترکہ تعاون کی متلاشی ہے، اور شاید یہی دورہ اس سمت ایک اہم قدم ثابت ہو اس ساری صورتحال میں میری بات صرف اتنی سے ہے کہ یہ عالمی طاقتوں کے درمیان مذاکرات کی کامیابی صرف ان کے اپنے مفاد میں نہیں بلکہ پوری انسانیت کے بہتر مستقبل کی ضمانت بن سکتی ہے۔
