قدرتی وسائل کا خزینہ: مالاکنڈ، ترقی کا منتظر – تحریر: قریش خٹک
.
خیبر پختونخوا کے شمال میں واقع ضلع مالاکنڈ قدرتی وسائل، جغرافیائی اہمیت اور آبی ذخائر کے لحاظ سے غیر معمولی معاشی صلاحیت رکھتا ہے۔ تاہم یہ ایک بڑا تضاد ہے کہ وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود یہ ضلع آج بھی ترقی کی دوڑ میں پیچھے کیوں ہے؟ یہ محرومی وسائل کی کمی کا شاخسانہ نہیں بلکہ ناقص پالیسی سازی، غیر مربوط منصوبہ بندی اور مؤثر سیاسی نمائندگی کے فقدان کا نتیجہ ہے۔
بدقسمتی سے اکثر ایسے نمائندے منتخب ہو کر ایوانوں میں پہنچ جاتے ہیں جنہیں نہ تو اس خطے کے معاشی امکانات کا مکمل ادراک ہوتا ہے اور نہ ہی وہ پشاور اور اسلام آباد اقتدار کے ایوانوں اور مقتدر حلقوں میں ضلع کا مقدمہ مؤثر انداز میں پیش کر پاتے ہیں۔ نتیجتاً یہ خطہ اپنی حقیقی اقتصادی صلاحیت سے محروم رہتا ہے۔ تاہم خیبر پختونخوا کے حالیہ سماجی و معاشی اشاریے (Socio-Economic Indicators 2025) امید کی ایک نئی نوید سناتے ہیں۔ ان سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مالاکنڈ میں زراعت، معدنیات، سیاحت اور خصوصاً پن بجلی کے ذریعے ایک مستحکم علاقائی معیشت تشکیل دینے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔ اگر ان وسائل کو مربوط حکمت عملی کے تحت بروئے کار لایا جائے تو مالاکنڈ نہ صرف صوبے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک اہم صنعتی و معاشی مرکز بن سکتا ہے۔
مالاکنڈ کی سب سے بڑی معاشی قوت اس کا جغرافیائی محل وقوع ہے۔ یہ ضلع سوات، دیر اور مردان کو ملانے والی مرکزی راہداری پر واقع ہے، جسے تاریخی طور پر “دروازہ سوات” کہا جاتا ہے۔ یہی گزرگاہ شمالی اضلاع کو صوبے کے بڑے شہروں اور قومی منڈیوں سے جوڑتی ہے۔ 2023 کی ڈیجیٹل مردم شماری کے مطابق ضلع کی آبادی 8 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے، جس میں نوجوانوں کا بڑھتا ہوا تناسب ایک متحرک افرادی قوت فراہم کرتا ہے۔ اگرچہ ضلع کی آبادی صوبے کی کل آبادی کا محض دو فیصد ہے، لیکن اس کی زرعی اور پیداواری صلاحیت آبادی کے تناسب سے کہیں زیادہ ہے۔ مناسب صنعتی مواقع کی فراہمی اس نوجوان آبادی کو معاشی انقلاب کا پیش خیمہ بنا سکتی ہے۔
جغرافیائی اہمیت کے ساتھ ساتھ مالاکنڈ کی معاشی صلاحیت کا سب سے درخشاں پہلو اس کے آبی وسائل ہیں۔ دریائے سوات اور لوئر سوات کینال نہ صرف زراعت بلکہ پن بجلی کی پیداوار کے لیے بھی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ضلع میں تین اہم ہائیڈل پاور اسٹیشنز—جبن، درگئی اور مالاکنڈ تھری – فعال ہیں، جو مجموعی طور پر تقریباً 123 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور سالانہ سینکڑوں گیگا واٹ آور بجلی قومی گرڈ کو فراہم کر رہے ہیں۔
مزید برآں، مالاکنڈ میں پن بجلی کے اضافی منصوبوں کے لیے بھی متعدد موزوں مقامات موجود ہیں۔ اگر ان مواقع سے فائدہ اٹھایا جائے تو کم لاگت بجلی ضلع کے لیے ایک اسٹریٹجک معاشی برتری بن سکتی ہے۔ یہی سستی توانائی صنعتی ترقی کے لیے بنیادی محرک ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر مقامی صنعتی زونز کو رعایتی نرخوں پر بجلی فراہم کی جائے تو مالاکنڈ تیزی سے ایک صنعتی مرکز میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ ٹیکسٹائل، فوڈ پروسیسنگ، سیرامکس اور ماربل جیسی صنعتوں کے لیے درکار خام مال بھی یہاں قدرتی طور پر دستیاب ہے، جو صنعتی ترقی کے امکانات کو مزید مضبوط بناتا ہے۔ موجودہ اعداد و شمار کے مطابق ضلع میں 122 چھوٹی اور درمیانی صنعتی یونٹس قائم ہیں، جن میں سے 83 فعال جبکہ 39 بند پڑی ہیں۔ مؤثر پالیسی سازی کے ذریعے نہ صرف ان بند یونٹس کو بحال کیا جا سکتا ہے بلکہ نئی صنعتوں کے قیام سے ضلع کی معیشت کو تیزی سے مستحکم کیا جا سکتا ہے۔
اسی طرح مالاکنڈ کے معدنی وسائل بھی ترقی میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ یہاں چونا پتھر، ماربل، کرومائٹ، چائنا کلے، گرینائٹ اور گریفائٹ کے قیمتی ذخائر موجود ہیں۔ خاص طور پر چائنا کلے کی وافر مقدار سیرامکس اور ٹائل انڈسٹری کے لیے بہترین خام مال فراہم کرتی ہے۔ تاہم بدقسمتی سے یہ معدنیات خام شکل میں دوسرے اضلاع منتقل کر دی جاتی ہیں۔ اگر مقامی سطح پر پروسیسنگ یونٹس اور ویلیو ایڈیشن مراکز قائم کیے جائیں تو نہ صرف ہزاروں روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ ملکی درآمدی بل میں بھی نمایاں کمی آئے گی۔
زرعی شعبہ بھی مالاکنڈ کی معیشت کا ایک مضبوط ستون ہے۔ نہری نظام کی بدولت یہاں کی زمین انتہائی زرخیز ہے، جہاں گندم، مکئی، گنا اور تمباکو کی عمدہ فصلیں پیدا ہوتی ہیں۔ مالاکنڈ کے ٹماٹر، مالٹے، امرود اور آڑو اپنے معیار اور ذائقے کے باعث خاص شہرت رکھتے ہیں۔ تاہم زرعی ویلیو ایڈیشن نہ ہونے کے باعث کسان کو اپنی محنت کا مکمل صلہ نہیں ملتا۔ اگر فوڈ پروسیسنگ پلانٹس اور کولڈ اسٹوریج سہولیات قائم کی جائیں تو ٹماٹر کیچپ، فروٹ جوسز اور جیمز کی برآمد سے خطیر زرمبادلہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اس عمل میں مقامی پن بجلی کا استعمال پیداواری لاگت کم کر کے مصنوعات کو قومی اور عالمی منڈیوں میں مسابقت کے قابل بنا سکتا ہے۔
ان معاشی امکانات کے ساتھ ساتھ سیاحت کا شعبہ بھی مالاکنڈ کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ مالاکنڈ “ٹرانزٹ ٹورازم” کے لیے ایک مثالی مقام ہے کیونکہ یہ سوات، دیر، چترال اور باجوڑ جانے والے لاکھوں مسافروں اور سیاحوں کی مرکزی گزرگاہ ہے۔ ہر سال بڑی تعداد میں گاڑیاں اس راستے سے گزرتی ہیں، مگر قیام کی مناسب سہولیات نہ ہونے کے باعث مقامی معیشت کو اس آمدورفت سے خاطر خواہ فائدہ نہیں پہنچتا۔ اس خلا کو پُر کرنے کے لیے موٹروے طرز کے ریسٹ ایریاز، معیاری ہوٹلز، فیملی پارکس اور ویو پوائنٹس کی تعمیر ناگزیر ہے۔
مزید برآں، تاریخی چرچل پکٹ، قلعہ مالاکنڈ اور آماندرہ کے نہری ہیڈورکس جیسے اہم مقامات کو سیاحتی مراکز کے طور پر ترقی دے کر سیاحوں کو مختصر قیام پر مائل کیا جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انتظامیہ کو درگئی اور بٹ خیلہ سمیت بڑے بازاروں میں ٹریفک قوانین پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانا چاہیے تاکہ مسافروں اور سیاحوں کو بلا رکاوٹ سفر کی سہولت میسر آ سکے، کیونکہ موجودہ صورتحال میں ان مصروف بازاروں سے گزرنا بعض اوقات نہایت دشوار اور وقت طلب ہو چکا ہے۔
تاہم ٹرانزٹ ٹورازم کے فروغ میں سب سے بڑی رکاوٹ ضلع کی مخدوش سیکیورٹی صورتحال ہے۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران امن و امان کی حالت متاثر ہوئی ہے، جس میں ٹارگٹ کلنگ، قتل کے واقعات، بھتہ خوری، دھمکیاں اور بڑھتے ہوئے اسٹریٹ کرائم شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ منشیات، خصوصاً آئس، کا پھیلاؤ بھی تشویشناک حد تک بڑھ رہا ہے، جس نے نہ صرف مقامی آبادی بلکہ سیاحوں اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بھی متاثر کیا ہے۔ اس صورتحال کی ایک بنیادی وجہ لیویز فورس پر مسلسل انحصار ہے، جو جدید پولیسنگ کی صلاحیت، مؤثر تفتیشی نظام اور واضح احتسابی ڈھانچے سے محروم ہے۔ لہٰذا امن و امان کی بہتری، سرمایہ کاری کے فروغ اور سیاحت کی ترقی کے لیے ایک پیشہ ور، جدید اور جوابدہ پولیس فورس کا قیام ناگزیر ہو چکا ہے۔
انسانی وسائل کے لحاظ سے بھی مالاکنڈ کی صورتحال امید افزا ہے۔ ضلع کی شرح خواندگی 61.66 فیصد ہے، جو صوبائی اوسط کے لحاظ سے بہتر ہے۔ یہ تعلیم یافتہ افرادی قوت صنعتی اور تجارتی سرگرمیوں کے لیے ایک قیمتی سرمایہ بن سکتی ہے۔ اگر خواتین کو گھریلو صنعتوں اور ہینڈی کرافٹس میں ہنرمند بنایا جائے تو معیشت مزید متنوع اور مضبوط ہو سکتی ہے۔
وقت آ گیا ہے کہ مالاکنڈ کو محض ایک جغرافیائی گزرگاہ کے طور پر نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک معاشی مرکز کے طور پر دیکھا جائے۔ سستی پن بجلی، وافر معدنی وسائل، زرخیز زمین اور نسبتاً زیادہ تعلیم یافتہ انسانی سرمایہ — یہ تمام عناصر مالاکنڈ کو ایک مثالی صنعتی اور معاشی ضلع میں تبدیل کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ تاہم اس صلاحیت کو حقیقت میں بدلنے کے لیے وژنری قیادت، مربوط پالیسی سازی اور طویل المدتی منصوبہ بندی ناگزیر ہے۔ اگر ریاستی ادارے اور مقامی قیادت مشترکہ حکمت عملی کے تحت ان مواقع سے فائدہ اٹھائیں تو مالاکنڈ نہ صرف اپنی معاشی تقدیر بدل سکتا ہے بلکہ پورے خطے کی پائیدار ترقی اور خوشحالی کا محرک بھی بن سکتا ہے۔
