گورنمنٹ کالج بونی اپرچترال کی پرنسپل اور اسسٹنٹ پروفیسر کی مبینہ سیاسی بنیادوں پر ٹرانسفر، طلبا سمیت مختلف مکاتب فکر سراپا احتجاج، فوری منسوخی کا مطالبہ
اپرچترال ( نمائندہ چترال ٹائمز ) گزشتہ دو دنوں سے سوشل میڈیا پر ایک ہی خبر گردش کررہی ہے کہ اپرچترال کی واحد کالج جہاں پہلے سے اساتذہ کی کمی کا سامنا ہے کے پرنسپل اور ایک اسسٹنٹ پروفیسر کو سیاسی بنیادوں پر ٹرانسفر کردیا گیا ہے ، جبکہ انکی جگہ ابھی تک کسی دوسرے اسٹاف کی تقرری بھی عمل میں نہیں لائی گئی ہے ۔
زرائع کے مطابق صوبے کے حکمران پارٹی کی اپرچترال کے ایک سیاسی رہنما کے رشتہ دار ایک نائب قاصد نصرت قادر کو مبینہ طور پر غیر حاضری اور احکاما ت کی پاسدار ی نہ کرنے پر تمام قانونی تقاضوں کوپورا کرنے کے بعد سروس سے برخاست کیا گیا ہے، جس کے پاداش میں ادارے کے پرنسپل کریم خان اور انکوائری کمیٹی کے رکن ایک اسسٹنٹ پروفیسر رحمت حاصل کو بھی تبدیل کردیا گیا ہے، اور اس فوری نوعیت کے کام کیلئے صوبے میں تبادلوں پر پابندی کے باوجود بین ریلکسیشن لیکر ٹرانسفر کردیا گیا ہے۔ جبکہ ان کی جگہ کسی دوسرے اسٹاف کو تعینات کرنے کی آرڈر تاحال جاری نہیں ہوا ہے۔
اس اقدام پر سوشل میڈیا پر مذمت کے ساتھ مختلف مکاتب فکر نےبھی اس کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمارے منتخب ممبران اسمبلی اب علاقے میں کوئی نمایاں کام کرنے سے قاصر ہیں، اور ساتھ اپرچترال کی واحد کالج کے پرنسپل کو سیاسی بنیادوں پر ٹرانسفر کرکے تعلیم کے ساتھ مذاق کیا گیا ہے جبکہ مذکورہ کالج میں پہلے سے اسٹاف کی کمی ہے ۔
دریں اثنا کالج کے طلبا نے کالج سے بونی تک احتجاجی ریلی نکالی اور اپرچترال پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا، انھوں نے اس افسوس کاا ظہار کیاکہ کالج میں پہلے سے اسٹاف کی کمی ہے اس کے باوجود کالج کےپرنسپل اور فزکس کے لیکچرر کو راتوں رات تبادلہ طلبہ کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہے ۔اور یہ اقدام دوردراز کے طلبا کی تعلیم کو متاثر کرنے کی ایک سازش ہے ۔ انھوں نے پرنسپل اور اسسٹنٹ پروفیسر کی تبادلے کو فوری منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔ اور حکومت کو آڑتالیس گھنٹوں کا الٹی میٹم دیتے ہوئے بھرپور احتجاج اور مستوج چترال روڈ بلاک کرنے کی دھمکی دی ہے ۔
دریں اثنا گورنمنٹ ڈگری کالج بونی میں KPPLA (مقامی یونٹ) کا ایک ہنگامی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس کا مقصد پرنسپل کریم خان اور رحمت حاصل کا بونی کالج سے اچانک تبادلہ زیرِ بحث لانا تھا۔ اجلاس میں شریک تمام پروفیسروں اور لیکچررز نے اس غیر متوقع تبادلے پر شدید تشویش اور افسوس کا اظہار کیا، اور اسے ادارے کے مفاد کے منافی قرار دیتے ہوئے متفقہ طور پر ایک مذمتی قرار داد منظور کی۔
اسی طرح سوشل میڈیا میں چترال اپر کے ایم پی اے اور صوبائی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر ثریا بی بی کو بعض حلقوں نے اس تبادلے کا ذمہ دار قرار دیکر اس سے سیاسی انتقال قرار دیا گیاہے۔
دوسری طرف سے ڈپٹی اسپیکر نے اپنی وضاحتی بیان میں کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر کچھ عناصر اس معاملے کو غلط انداز میں پیش کر رہے ہیں اور بلاجواز مجھے تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ تمام ناقدین کو یہ بات واضح طور پر سمجھ لینی چاہیے کہ اس پورے معاملے سے میرا کوئی تعلق نہیں ہے۔
سرکاری محکموں کے تبادلوں اور تعیناتیوں کا اختیار براہِ راست متعلقہ محکمہ کے پاس ہوتا ہے، نہ کہ عوامی نمائندوں کے پاس۔
اس سلسلے میں ، میں نے متعلقہ ڈپارٹمنٹ سے بھی رابطہ کیا ہے۔ عنقریب تمام تر حقائق عوام کے سامنے عیاں ہو جائیں گے ۔
دریں اثنا پی ٹی آئی اپرچترال کے سینئر رہنما بابر علی نے اپنے تردیدی بیان میں کہاہے کہ میں، بابر علی، صدر پاکستان تحریک انصاف اپر چترال، سوشل میڈیا پر چلائی جانے والی بے بنیاد مہم کے حوالے سے وضاحت پیش کرنا چاہتا ہوں۔گزشتہ دو دن سے مختلف پلیٹ فارمز پر یہ الزام لگایا جارہا ہے کہ میں نے اپنی پوزیشن اور اثرورسوخ استعمال کرتے ہوئے ایک پرنسپل اور ایک پروفیسر کو محض ایک گھنٹے میں ٹرانسفر کرایا ہے۔ یہ بات سراسر غلط، بے بنیاد اور حقیقت کے منافی ہے

