The Voice of Chitral since 2004
Thursday, 22 October 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

توند کا بڑھتا ہوا قومی وقار – از قلم: نجیم شاہ

Chitral Times

توند کا بڑھتا ہوا قومی وقار – از قلم: نجیم شاہ

توند کا بڑھتا ہوا قومی وقار – از قلم: نجیم شاہ

توند کا بڑھتا ہوا قومی وقار – از قلم: نجیم شاہ

قوموں کی شناخت انکی تہذیب، تمدن اور ترقی سے ہوتی ہے، مگر بعض معاشروں میں خوش حالی کا اندازہ قومی آمدنی سے نہیں، شہریوں کی توندوں اور دسترخوان کی وسعت سے لگایا جاتا ہے۔ دُنیا چاند پر بستیاں بسا رہی ہے، جبکہ یہاں کھانے کی میز پر سلطنتیں تعمیر ہو رہی ہیں۔ وہاں راکٹ اُڑتے ہیں اور یہاں ڈکاریں ترقی کی علامت سمجھی جاتی ہیں۔ یُوں ترقی کے پیمانے الگ الگ ہیں، مگر ہر قوم اپنے اپنے انداز میں کامیابی کے جھنڈے گاڑ رہی ہے۔

ہمارے ہاں مہمان نوازی محبت سے شروع ہو کر اصرار پر ختم ہوتی ہے۔ مہمان بھوک سے انکار کرے تو میزبان مزید پکوان پیش کرتا ہے۔ پانچ ڈشوں کے بعد دس ڈشیں سجائی جاتی ہیں، مگر سوال وہی رہتا ہے کہ کچھ کھایا بھی ہے؟ یہاں خالی پلیٹ میزبان کی عزت کیلئے بڑا امتحان ہے، جبکہ کھانے سے انکار معاشرتی آداب کیخلاف سمجھا جاتا ہے۔ یوں دعوت میں کھانے سے زیادہ میزبان کی خوشی اور مہمان کی برداشت کا امتحان ہوتا ہے۔

پراٹھا، بریانی اور قورمہ ہماری غذائی ترجیحات کے مستقل ستون ہیں۔ سبزی دسترخوان پر آجائے تو اسے خوشیوں میں مداخلت سمجھا جاتا ہے۔ سلاد بھی رکھا جاتا ہے، مگر اکثر صحت مندی کی نمائشی علامت کے طور پر۔ کھیرا پلیٹ کے کونے میں خاموش پڑا رہتا ہے، جبکہ کباب مرکز نگاہ بنے ہوتے ہیں۔ صحتمند غذا کو عزت تو حاصل ہے، مگر کھانے کے انتخاب میں اسے فیصلہ کن حیثیت نہیں ملتی۔ یُوں سبزی موجود تو رہتی ہے، مگر دسترخوان کی سیاست میں اسکا کردار محدود ہوتا ہے۔

وزن بڑھنے کی وجوہات تلاش کی جائیں تو بہانوں کی کمی نہیں۔ کبھی پانی کو ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے، کبھی موروثی عوامل کو اور کبھی دفتر کی کرسی کو۔ پانی کی مزید تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں شربت، لسی اور میٹھے مشروبات بھی شامل ہیں۔ معدہ اپنی کارکردگی کی گواہی دیتا رہتا ہے، مگر زبان کا بیان اکثر اس شہادت پر بھاری پڑ جاتا ہے۔ یُوں حقیقت سامنے ہونے کے باوجود ذمہ داری قبول کرنے کے بجائے نئے عذر تلاش کر لیے جاتے ہیں۔

ڈائٹنگ ایسا قومی منصوبہ ہے جس کا افتتاح ہر پیر کو ہوتا ہے اور اختتام اکثر اسی دِن ہوجاتا ہے۔ صبح چینی چھوڑنے، روٹی کم کرنے اور ورزش کرنیکا عزم کیا جاتا ہے، مگر دوپہر کا کیک، شام کے کباب اور رات کی بریانی منصوبے کو ناکام بنا دیتے ہیں۔ اگلی صبح ترازو پر وزن بڑھا ملے تو اپنی عادات کے بجائے مشین کی درستگی پر سوال اُٹھایا جاتا ہے۔ آخر غلطی کھانے میں کیسے ہوسکتی ہے، جب ترازو کی دیانت ہی مشکوک قرار دے دی جائے؟

ورزش کرنیوالوں کو کھانے کی میز پر نئے پکوان متعارف کرانے والوں جیسی پذیرائی حاصل نہیں۔ پارک میں دوڑنے والوں سے خیریت دریافت کی جاتی ہے، جبکہ جم کی فیس کو راشن کے ممکنہ خرچ سے موازنہ کیا جاتا ہے۔ اس سوچ میں جسمانی صحت کی اہمیت پس منظر میں چلی جاتی ہے۔ ورزش غیر ضروری مشقت اور زیادہ کھانا سماجی سرگرمی سمجھا جانے لگتا ہے۔ حالاں کہ صحت مند جسم کیلئے مناسب غذا کے ساتھ جسمانی سرگرمی بھی ضروری ہے، مگر اس حقیقت کو ماننے کیلئے سنجیدگی درکار ہے۔

تہواروں پر خوراک کی بہار آتی ہے تو قوتِ ارادی اکثر کمزور پڑ جاتی ہے۔ رمضان میں افطار کی میز پکوڑوں، سموسوں اور شربت سے سجتی ہے، عید پر مٹھائیاں، شادیوں میں قورمہ اور سردیوں میں حلوہ پوری خصوصی اہمیت اختیار کر لیتے ہیں۔ دعوت کے بعد اعتدال کا عہد کیا جاتا ہے، مگر اگلی دعوت آتے ہی یہ عزم دم توڑ دیتا ہے۔ یُوں ہر تہوار خوشیوں کے ساتھ اضافی کیلوریز بھی لے آتا ہے، جبکہ احتیاط کا ارادہ اگلے موقع کے انتظار میں رہ جاتا ہے۔

الماریوں میں کپڑوں کے ساتھ وزن کم کرنے کی اُمیدیں بھی محفوظ رہتی ہیں۔ تنگ ہوتی پتلون مستقبل میں جسمانی تبدیلی کی علامت بن جاتی ہے، جبکہ نئی پتلون موجودہ حالات سے سمجھوتے کا راستہ دکھاتی ہے۔ ہر عید پر پرانے کپڑوں کو آزمانے کی روایت اس اُمید کو زندہ رکھتی ہے کہ کبھی نہ کبھی پیمائش بدل جائے گی۔ تاہم ارادوں کے مقابلے میں کمر کا بڑھتا ہوا حجم زیادہ مستقل ثابت ہوتا ہے۔ یُوں پرانے کپڑے اُمید اور نئے کپڑے حقیقت پسندی کی علامت بن جاتے ہیں۔

موٹاپے کیخلاف قومی کانفرنس منعقد ہو تو ظہرانے، چائے اور عشائیے کا اہتمام لازمی سمجھا جاتا ہے۔ شرکا صحت کے تحفظ پر سنجیدہ گفتگو کرتے ہیں، اعلامیے جاری ہوتے ہیں اور وزن کم کرنے کے عہد دہرائے جاتے ہیں۔ اگلی صبح ناشتے میں پھر پراٹھے پیش کیے جاتے ہیں۔ یُوں صحت کے منصوبے تقریروں تک محدود رہتے ہیں، جبکہ کھانے کی روایت پوری قوت سے جاری رہتی ہے۔ آخر توند کا بڑھتا ہوا قومی وقار بھی ایک عجیب داستان ہے؛ ارادے بدلتے رہتے ہیں، مگر دیگیں بدستور چڑھتی رہتی ہیں۔