چترال کے تین نوجوان وکلا سپریم کورٹ میں وکالت کے لیے کوالیفائی کرلئے
پشاور ( نمائندہ چترال ٹائمز ) چترال کے لیے ایک اور تاریخی اور باعثِ فخر لمحہ اس وقت سامنے آیا جب ضلع سے تعلق رکھنے والے تین ممتاز قانون دانوں نے سپریم کورٹ آف پاکستان میں وکالت کے لیے فٹنس سرٹیفکیٹ حاصل کر لیا۔ یہ کامیابی نہ صرف ان کی ذاتی محنت اور صلاحیتوں کا اعتراف ہے بلکہ پورے خطے کے لیے اعزاز کی حیثیت رکھتی ہے۔
اپرچترال کے ہیڈ کوارٹر بونی سے تعلق رکھنے والے نوجوان قانون دان سیف اللہ منگول ایڈووکیٹ نے سپریم کورٹ میں وکالت کے لیے انٹرویو کامیابی سے پاس کرتے ہوئے کم عمری میں یہ سنگِ میل عبور کیا۔ ان کا تعلق بونی گول کے ایک دینی و تعلیم یافتہ گھرانے سے ہے۔ وہ سابق صدر تاجر یونین بونی اور سماجی کارکن محمد شفیع کے فرزند اور پروفیسر ڈاکٹر محمد عزیز اللہ کے بھتیجے ہیں۔ انہوں نے اپنے قانونی کیریئر کا آغاز پشاور سے کیا اور دیوانی، فوجداری اور سروس مقدمات میں مہارت حاصل کی۔
چترال کے نامور قانون دان اور سماجی شخصیت وقاص احمد ایڈووکیٹ نے بھی پشاور ہائی کورٹ کے معزز چیف جسٹس جسٹس سید محمد عتیق شاہ اور سینئر جج جسٹس اعجاز انور کے روبرو انٹرویو کامیابی سے پاس کر کے سپریم کورٹ میں وکالت کا فٹنس سرٹیفکیٹ حاصل کیا۔ ان کی کامیابی کو قانونی حلقوں میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔
اسی طرح لوٹکوہ سے تعلق رکھنے والے رحمت علی (اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل) نے بھی سپریم کورٹ میں وکالت کے لیے کوالیفائی کر لیا ہے۔ وہ اس وقت پشاور ہائی کورٹ دارالقضا سوات میں بطور اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتیں اور قانونی مہارت انہیں نمایاں مقام دلاتی رہی ہیں۔
چترال کے ان تینوں فرزندوں کی یہ کامیابی نوجوان نسل کے لیے مشعلِ راہ ہے اور اس بات کا ثبوت ہے کہ محنت، لگن اور عزم کے ذریعے قومی سطح پر نمایاں مقام حاصل کیا جا سکتا ہے۔
