ضلعی عدالت چترال لوئر میں تین اہم منصوبوں کا افتتاح؛ مصالحتی مرکز، مال خانہ اور سولر سسٹم کا باضابطہ افتتاح
چترال (نمائندہ چترال ٹائمز)پشاور ہائی کورٹ کے اصلاحاتی وژن کے تحت ضلع عدالت چترال لوئر میں عدالتی نظام کی بہتری کے لیے ایک اہم سنگ میل عبور کر لیا گیا۔ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج چترال لوئر، محترمہ شہناز حمید خٹک نے تین اہم منصوبوں—مصالحتی مرکز (ADR Centre)، ضلعی مال خانہ اور ڈسٹرکٹ بار کے لیے 6-KV سولر سسٹم—کا باضابطہ افتتاح کر دیا۔
افتتاحی تقریب میں ڈپٹی کمشنر چترال لوئر، ایس پی انوسٹی گیشن، سینئر سول ججز، ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر، صدر ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن سمیت وکلاء کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج شہناز حمید خٹک نے کہا کہ ان منصوبوں کا بنیادی مقصد عوام کو ان کی دہلیز پر سستا، فوری اور مؤثر انصاف فراہم کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مصالحتی مرکز (ADR) کے قیام سے عائلی، دیوانی اور دیگر نوعیت کے چھوٹے تنازعات کو عدالت سے باہر باہمی رضامندی کے ذریعے حل کرنے میں مدد ملے گی۔ اس اقدام سے نہ صرف عدالتوں پر مقدمات کا بوجھ کم ہوگا بلکہ سائلین کے وقت اور اخراجات کی بھی بچت ممکن ہو سکے گی۔
اسی طرح ضلعی سطح پر جدید مال خانہ کے قیام سے مقدمات کے شواہد، منشیات اور دیگر حساس مالِ مقدمہ کی محفوظ اور منظم نگہداشت یقینی بنائی جا سکے گی، جس سے عدالتی شفافیت اور نظامِ انصاف پر عوامی اعتماد میں مزید اضافہ ہوگا۔
ڈسٹرکٹ بار کے لیے 6-KV سولر سسٹم کی تنصیب کو بھی ایک اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے لوڈشیڈنگ کے باوجود عدالتی امور اور وکلاء کے کام میں تعطل پیدا نہیں ہوگا، اور عدالتی کارروائیاں تسلسل کے ساتھ جاری رہ سکیں گی۔
سیشن جج شہناز حمید خٹک نے اپنے خطاب میں کہا، “ہمارا عزم ہے کہ چترال جیسے دور افتادہ ضلع میں انصاف کی فراہمی کو شفاف، مؤثر اور عوام دوست بنایا جائے، تاکہ ہر شہری کو بروقت انصاف میسر آ سکے۔”
چترال کے عوامی اور قانونی حلقوں نے ان اقدامات کو سراہتے ہوئے اسے عدالتی انفراسٹرکچر کی بہتری اور نظامِ انصاف کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔
