پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈکوارٹر پر دہشت گردوں کا حملہ، وزیراعلیٰ کی شدید الفاظ میں مذمت، آئی جی پی سے واقعے کی فوری رپورٹ طلب
پشاور ( نمائندہ چترال ٹائمز ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈکوارٹر پر دہشتگردوں کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے ایک بزدلانہ اور افسوسناک کاروائی قرار دیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے آئی جی پولیس سے واقعے کی فوری رپورٹ طلب کی اور کہا کہ واقعہ میں ملوث عناصر کو کیفرِکردارتک پہنچانے کیلئے تمام تر دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بہادر جوانوں نے دلیرانہ انداز میں بڑی تباہی کو ٹال کر ثابت کیا کہ ہماری فورسز ملک و قوم کے دفاع کے لیے ہر آزمائش کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ دہشتگردوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا اور اس قسم کے بزدلانہ حملے ہمارے عزائم اور حوصلوں کو ہرگز کمزور نہیں کر سکتے۔وزیراعلیٰ نے شہید اہلکاروں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہداءاس قوم کا فخر ہیں اور ان کا خون کبھی رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا۔ انہوں نے شہداء کے درجات کی بلندی اور لواحقین کے لیے صبر جمیل کی دعا کی اور کہا کہ صوبائی حکومت مشکل کی ہر گھڑی میں شہداءکے خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ سہیل آفریدی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ مزید مضبوط ارادے کے ساتھ جاری رہے گی اور امن کے قیام کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
دہشتگردی کے اس واقعے کے بعد وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے زخمی اہلکاروں کی عیادت کی۔ انہوں نے زخمی اہلکاروں سے فرداً فرداً ملاقات کی، ان کی خیریت دریافت کی اور علاج معالجے کے عمل کا جائزہ لیا۔ وزیراعلیٰ نے ہسپتال انتظامیہ کو ہدایت کی کہ زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں اور کسی قسم کی کوتاہی نہ برتی جائے۔ اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امن دشمنوں کا حملہ انتہائی قابل مذمت ہے اور دہشتگرد ہمارا اور پاکستان کا مشترکہ دشمن ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گرد ملک اور صوبے کا امن خراب کرنا چاہتے ہیں، ہم کسی صورت دہشتگردوں کے عزائم کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے بتایا کہ پولیس فورس کو جدید آلات، بلٹ پروف گاڑیوں اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس کرنے کا عمل جاری ہے،ہم جدید آلات آرڈر کر چکے ہیں جبکہ بلٹ پروف گاڑیاں آ چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پولیس کی پیشہ ورانہ استعداد بڑھانے، جدید تربیت اور ضروری وسائل کی فراہمی کے لیے ٹھوس اقدامات کر رہی ہے۔ بعد ازاں وزیراعلیٰ نے شہداءکی نمازِ جنازہ میں شرکت کی اور شہداءکو خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان بہادر سپوتوں کی قربانیاں دہشتگردی کے خلاف ہماری جدوجہد اور عزم کو مزید مضبوط بناتی ہیں۔ وزیراعلیٰ نے شہداءکے لواحقین سے اظہارِ تعزیت کیا اور کہا کہ صوبائی حکومت ان کے ساتھ ہر قدم پر کھڑی ہے۔یادرہے کہ پشاور صدر میں فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈکوارٹر پر دہشتگردوں کے حملے میں تین جوان شہید ہوگئے تھے ۔

،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
زیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کا چشمہ رائٹ بینک کینال (CRBC) لفٹ کنال منصوبے میں مسلسل تاخیر پر گہری تشویش کا اظہار، وزیراعظم پاکستان کو ایک تفصیلی تحریری خط ارسال
پشاور ( نمائندہ چترال ٹائمز ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے چشمہ رائٹ بینک کینال (CRBC) لفٹ کنال منصوبے میں مسلسل تاخیر پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم پاکستان کو ایک تفصیلی تحریری خط ارسال کیا ہے جس میں کہا ہے کہ اس اہم میگا منصوبے کا 35 سال بعد بھی شروع نہ ہونا وفاق اور صوبے کے درمیان عدم اعتماد کو بڑھا رہا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ چاروں صوبوں کے بڑے آبپاشی منصوبوں میں سے صرف خیبرپختونخوا کا CRBC منصوبہ ہی واحد پراجیکٹ ہے جس پر آج تک پیشرفت نہیں ہوئی، حالانکہ باقی تینوں صوبوں کے منصوبے 1991 کے واٹر اپورشنمنٹ ایکارڈ کے تحت مکمل کیے جا چکے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے لکھا کہ 2016 میں مشترکہ مفادات کونسل (CCI) نے اس منصوبے کے لیے فنانسنگ شیئرنگ فارمولہ واضح کیا تھا، جس کے مطابق 65 فیصد لاگت وفاق جبکہ 35 فیصد لاگت خیبر پختونخوا برداشت کرے گا۔ اس فیصلے کے باوجود وفاقی حکومت کی جانب سے بارہا غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا گیا اور صوبے کے منصوبوں کو جان بوجھ کر سردخانے میں ڈال کر نظرانداز کیا جاتا رہا۔ انہوں نے بتایا کہ اکتوبر 2022 میں ECNEC نے باقاعدہ طور پر 189 ارب روپے لاگت کے اس منصوبے کی منظوری دی تھی، تاہم تاحال عملی کام شروع نہ ہو سکا کیونکہ واپڈا کی جانب سے پروکیورمنٹ اور پری کوالیفکیشن پراسیس مسلسل تاخیر کا شکار ہے۔
مراسلے میں وزیراعلیٰ نے یہ بھی واضح کیا کہ خیبرپختونخوا حکومت نے اپنی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے زمین کے حصول کے لیے سال 2024-25 میں 2 ارب روپے جاری کیے جبکہ 2025-26 کے لیے مزید 5 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، مگر اس کے باوجود واپڈا کی جانب سے لینڈ ایکوزیشن کا عمل بھی سست روی کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے سال2025-26 کی PSDP میں صرف 100 ملین روپے کی رقم مختص کی ہے جو اس اہم ترین منصوبے کے حوالے سے غیر سنجیدہ رویے کی عکاس ہے۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اپنے خط میں اس منصوبے کی معاشی اور سماجی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ CRBC کینال دہشت گردی سے متاثرہ جنوبی اضلاع اور دیگر علاقوں کی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس منصوبے سے سالانہ 38 ارب روپے تک کا معاشی فائدہ حاصل ہو سکتا ہے جبکہ اس کے ذریعے 2 لاکھ 80 ہزار ایکڑ سے زائد بنجر زمین سیراب ہو کر زرعی پیداوار میں نمایاں اضافہ ممکن بنائے گی۔
انہوں نے کہا کہ اس منصوبے پر مزید تاخیر سے صوبے کے عوام میں شدید بے چینی، مایوسی اور وفاق پر اعتماد کا بحران مزید گہرا ہو گا۔وزیراعلیٰ نے وزیرِاعظم سے مطالبہ کیا کہ وفاق فوری طور پر PSDP یا ڈونر فنانسنگ کے ذریعے مطلوبہ فنڈنگ مہیا کرے اور واپڈا کو ہدایت دے کہ وہ بلا تاخیر منصوبے پر عملی کام کا آغاز یقینی بنائے، تاکہ صوبہ خیبرپختونخوا اس اہم ترین پراجیکٹ کے معاشی اور زرعی ثمرات جلد حاصل کر سکے۔
