خیبرپختونخوا کی جیلوں میں قیدیوں کو معیاری اور جدید طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے ٹیلی میڈیسن سروس کے قیام کا فیصلہ
۔
پشاور ( نمائیندہ چترال ٹائمز ) خیبرپختونخوا کی جیلوں میں قیدیوں کو بروقت، معیاری اور جدید طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے ٹیلی میڈیسن سروس کے قیام کی جانب اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ یہ اقدام وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے داخلہ و قبائلی امور طارق سعید مروت اور معاونِ خصوصی برائے جیل خانہ جات افتخار اللہ کی خصوصی توجہ، رہنمائی اور قیدیوں کی فلاح و بہبود کے لیے ان کے مشترکہ وژن کی عکاسی کرتا ہے۔ جس کا مقصد جیلوں میں مقید افراد کو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ماہر ڈاکٹرز اور مختلف شعبہ جات کے پیشلسٹس سے بروقت طبی مشاورت فراہم کرنا اور قیدیوں کو علاج کے لیے ہسپتال منتقل کر نا ہے اور اس حوالے سے انتظامی و سیکیورٹی مشکلات کو کم کرنا ہے۔
معاونِ خصوصی برائے داخلہ و قبائلی امور طارق سعید مروت اور معاونِ خصوصی برائے جیل خانہ جات افتخار اللہ نے کہا ہے کہ محکمہ داخلہ و قبائلی امور، محکمہ جیل خانہ جات اور محکمہ صحت کے باہمی تعاون سے Hub-and-Spoke Model کے تحت ٹیلی میڈیسن سروس قائم کی جائے گی۔ پولیس سروسز ہسپتال پشاور کو مرکزی ٹیلی میڈیسن ہب جبکہ پشاور، مردان اور ہری پور کی جیلوں کو ابتدائی پائلٹ اسپوکس کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔مجوزہ نظام کے تحت قیدیوں کو مختلف طبی شعبہ جات کے ماہر ڈاکٹرز اور کنسلٹنٹس سے آن لائن طبی مشاورت کی سہولت حاصل ہوگی۔ ضرورت پڑنے پر مریضوں کو مزید علاج اور طبی سہولیات کے لیے تدریسی، tertiary care یا ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز (DHQ) ہسپتالوں کو ریفر بھی کیا جا سکے گا۔ٹیلی میڈیسن نیٹ ورک ابتدائی طور پر تین طریقہ کار کے ذریعے خدمات فراہم کرے گا، جن میں براہِ راست ویڈیو مشاورت (Live Video Consultation)، اسٹور اینڈ فارورڈ سروسز (Store-and-Forward) اور ریموٹ پیشنٹ مانیٹرنگ (Remote Patient Monitoring) شامل ہیں۔ابتدائی مرحلے میں میڈیسن، سائیکاٹری/کلینیکل سائیکالوجی، گائناکالوجی، کارڈیالوجی، آپتھلمولوجی، ای این ٹی، ریڈیالوجی اور ڈرماٹولوجی سمیت آٹھ طبی شعبہ جات کے ماہرین کی خدمات فراہم کی جائیں گی۔
اس منصوبے سے قیدیوں کو ماہر طبی سہولیات تک رسائی میں نمایاں بہتری آئے گی، جبکہ قیدیوں کو ہسپتال منتقل کرنے کے دوران درپیش سیکیورٹی خطرات، ٹرانسپورٹ اور سیکیورٹی سکواڈ کی ضروریات میں کمی آئے گی۔ اس کے علاوہ بڑے سرکاری ہسپتالوں پر مریضوں کے اضافی بوجھ کو کم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔معاونِ خصوصی برائے جیل خانہ جات افتخار اللہ نے جیل اصلاحات میں قیدیوں کی صحت، فلاح و بہبود اور بنیادی ضروریات کو ترجیح دینے کے حوالے سے اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کی خصوصی توجہ جیلوں کے اندر طبی سہولیات، بحالی اور انسانی بنیادوں پر خدمات کے معیار کو بہتر بنانے پر مرکوز ہے۔ ٹیلی میڈیسن سروس کا قیام اسی وژن کی عملی شکل ہے، جس کے ذریعے جیلوں میں رہنے والے افراد کو جدید طبی سہولیات زیادہ آسان اور مؤثر انداز میں فراہم کی جا سکیں گی۔ابتدائی پائلٹ منصوبے میں ایک مرکزی ہب اور تین سپوکس شامل ہوں گے، جبکہ کامیاب تجربے کے بعد اس نظام کو صوبے کی دیگر جیلوں تک توسیع دینے کی گنجائش بھی موجود ہوگی۔
اس سلسلے میں محکمہ جیل خانہ جات اور محکمہ صحت کی جانب سے ضروری انتظامی و تکنیکی اقدامات کیے جائیں گے، جن میں متعلقہ نوٹیفکیشنز کا اجرا، ٹیکنیکل اور پروکیورمنٹ کمیٹیوں کی تشکیل، ضروری آلات کی خریداری، تکنیکی عملے کی تعیناتی اور دیگر متعلقہ انتظامات شامل ہیں۔محکمہ صحت پولیس سروسز ہسپتال پشاور کو مرکزی ٹیلی میڈیسن ہب کے طور پر فعال کرے گا جبکہ پائلٹ جیلوں میں ایکسرے اور کارڈیالوجی ٹیکنیشنز کی تعیناتی کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں گے۔ سنٹرل جیل مردان میں ایک خاتون میڈیکل آفیسر کی تعیناتی سمیت دیگر ضروری طبی و تکنیکی انتظامات بھی کیے جائیں گے۔معاونِ خصوصی برائے داخلہ و قبائلی امور طارق سعید مروت نے کہا کہ صوبائی حکومت جیلوں میں صحت، بحالی اور انسانی فلاح سے متعلق سہولیات کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قیدی بھی معاشرے کا حصہ ہیں اور انہیں بروقت، معیاری اور باوقار طبی سہولیات کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے۔طارق سعید مروت نے اس عزم کا اظہار کیا کہ محکمہ داخلہ و قبائلی امور، محکمہ جیل خانہ جات اور محکمہ صحت کے درمیان مؤثر رابطہ اور تعاون کے ذریعے جیلوں میں طبی سہولیات کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرتے ہوئے قیدیوں کو معیاری طبی خدمات کی فراہمی، جیل اصلاحات اور انسانی فلاح کے اقدامات کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔افتخار اللہ نے کہا کہ جیل اصلاحات کا مقصد صرف محفوظ حراست تک محدود نہیں بلکہ قیدیوں کی صحت، بحالی، عزت اور بنیادی انسانی ضروریات کو بھی یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیلی میڈیسن جیسی جدید ٹیکنالوجی جیلوں میں طبی خدمات کو زیادہ مؤثر، قابلِ رسائی اور بروقت بنانے کے ساتھ ساتھ محکمہ جیل خانہ جات اور محکمہ صحت کے درمیان بہتر رابطے میں بھی معاون ثابت ہوگی۔سیکرٹری محکمہ صحت فیاض علی شاہ نے کہا کہ محکمہ صحت قیدیوں کو معیاری اور بروقت طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ ٹیلی میڈیسن سروس کے ذریعے جیلوں میں موجود مریضوں کو مختلف شعبہ جات کے ماہر ڈاکٹرز اور کنسلٹنٹس سے طبی مشاورت کی سہولت میسر آئے گی، جس سے نہ صرف قیدیوں کو ان کی ضرورت کے مطابق طبی خدمات کی فراہمی میں بہتری آئے گی بلکہ غیر ضروری طور پر قیدیوں کو جیل سے ہسپتال منتقل کرنے کی ضرورت بھی کم ہوگی۔فیاض علی شاہ نے کہا کہ محکمہ صحت پولیس سروسز ہسپتال پشاور کو مرکزی ٹیلی میڈیسن ہب کے طور پر فعال کرنے، پائلٹ جیلوں میں ضروری طبی و تکنیکی عملے کی تعیناتی اور مطلوبہ آلات کی فراہمی سمیت دیگر ضروری انتظامات میں بھرپور معاونت کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ صحت عامہ کی سہولیات تک رسائی ہر فرد کا بنیادی حق ہے اور قیدیوں کو بھی مناسب، بروقت اور باوقار طبی سہولیات کی فراہمی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ محکمہ صحت جیل خانہ جات کے ساتھ مربوط رابطہ کاری کے ذریعے اس منصوبے کو کامیاب بنانے اور مستقبل میں اس کا دائرہ صوبے کی دیگر جیلوں تک بڑھانے کے لیے بھی اپنا کردار ادا کرے گا۔دونوں معاونینِ خصوصی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ خیبرپختونخوا کی جیلوں میں قیدیوں کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی، جیل اصلاحات، اور انتظامی نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے متعلقہ محکموں کے درمیان تعاون اور اصلاحاتی اقدامات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
