تاریخ کے مجرم – تحریر: نجیم شاہ
تاریخ بڑی بے رحم چیز ہے۔ یہ نہ کسی کی شکل دیکھتی ہے، نہ عہدہ، نہ لقب۔ یہ صرف عمل دیکھتی ہے — وہ عمل جو قوموں کو سنوارتا ہے یا برباد کرتا ہے۔ جب وقت کی گرد چھٹتی ہے، تو تاریخ اپنے کٹہرے میں سب کو بُلا لیتی ہے۔ بادشاہ، وزیر، عالم، دانشور، جرنیل، تاجر، شاعر – سب حاضر ہوتے ہیں، اور پھر تاریخ فیصلہ سُناتی ہے: کون رہنما تھا، کون رہزن۔ کون معمار تھا، کون مسمار۔ جن کے ہاتھوں میں قوموں کی تقدیر تھی، اگر وہی ہاتھ خون سے رنگے نکلیں، تو تاریخ اُنہیں تاج نہیں دیتی – صرف تازیانہ دیتی ہے۔ کیونکہ تاریخ معاف نہیں کرتی، صرف بے نقاب کرتی ہے۔
تاریخ کے اصل مجرم وہ نہیں ہوتے جو جنگیں ہار جاتے ہیں، بلکہ وہ ہوتے ہیں جو سچ کو شکست دے دیتے ہیں۔ وہ جو اقتدار کے نشے میں اندھے ہو جاتے ہیں، عوام کو خواب بیچتے ہیں اور بدلے میں مایوسی کی زنجیریں تھما دیتے ہیں۔ جو مذہب کو سیاست کا ہتھیار، تعلیم کو کاروبار، اور انصاف کو تماشا بنا لیتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو نسلوں کو اندھیرے کی وراثت دے جاتے ہیں، اور خود کو رہبر کہلوانے پر بضد رہتے ہیں۔ ان کے لباس قیمتی، زبان شائستہ، تقریریں دلکش لیکن فیصلے زہر آلود۔ اُن کے الفاظ روشنی کی بات کرتے ہیں، مگر اعمال اندھیرے کو اور گہرا کرتے ہیں۔
ہم نے ان مجرموں کو تخت دیا، تاج پہنایا، اور اُن کے قدموں میں اپنی عقل، شعور اور ضمیر رکھ دیا۔ اُن کے جھوٹ کو نصاب بنا کر نسلوں کو پڑھایا، منافقت کو عقیدت کا رنگ دیا، اور ظلم کو تدبیر کا نام دے کر سچ کو دفن کر دیا۔ اُن کے نام پر ادارے بنائے، تصویریں دیواروں پر نہیں، ذہنوں پر چسپاں کیں۔ مگر وقت نہ چاپلوسی مانتا ہے، نہ تعصب۔ جب پردہ ہٹتا ہے، تو وہی نجات دہندہ سوالیہ نشان بن جاتے ہیں۔ وہی قوم کے مسیحا تاریخ کے کٹہرے میں کھڑے نظر آتے ہیں , اور یہ فیصلہ کسی دُشمن نے نہیں سُنایا، یہ تاریخ نے خود لکھا ہے: بے نیاز، بے خوف، بے رحم۔
تاریخ کے مجرم صرف وہ نہیں ہوتے جو تلوار اُٹھاتے ہیں یا گولیاں چلاتے ہیں، بلکہ وہ بھی ہوتے ہیں جو ظلم کے منظر پر خاموش تماشائی بنے رہتے ہیں۔ وہ جو سچ سُن کر زبان بند کر لیتے ہیں، ناانصافی دیکھ کر نظریں چرا لیتے ہیں، اور ضمیر کی آواز کو اندر ہی دفن کر دیتے ہیں۔ یہی وہ خاموش اکثریت ہے جو ہر ظالم کو طاقت دیتی ہے، ہر جھوٹے کو تخت پر بٹھاتی ہے، اور ہر درندے کو مہذب بنا کر پیش کرتی ہے۔ یہ لوگ خود کو بے قصور سمجھتے ہیں، صرف اِس لیے کہ اُنہوں نے خنجر نہیں اُٹھایا — لیکن تاریخ اُن کی خاموشی کو بھی جرم مانتی ہے۔ کیونکہ اکثر سب سے بڑا جرم وہی ہوتا ہے جو بولا نہیں جاتا، صرف سہہ لیا جاتا ہے۔
ہم نے تاریخ کو محض یادداشت سمجھا، سبق نہیں۔ ماضی کو صرف تقریروں میں برتا، عمل میں کبھی جگہ نہ دی۔ ہر بار وہی غلطیاں دہرائیں، ہر بار وہی زخم کھائے، اور ہر بار وہی نتائج بھگتے — مگر پھر بھی سبق لینے سے انکار کیا۔ ہم نے تاریخ کے مجرموں کو سزا دینے کے بجائے اُن کی تقلید کی، اُن کے نقشِ قدم پر چل کر خود کو بھی اسی جرم میں شریک کر لیا۔ ہم نے اُن کے جھوٹ کو سچ مانا، اُن کی خاموشی کو حکمت، اور اُن کی چالاکی کو بصیرت سمجھا۔ آج ہم سب تاریخ کے کٹہرے میں کھڑے ہیں — سوالوں کی زد میں، شرمندگی کے سائے میں، اور جواب ہمارے پاس کچھ بھی نہیں، سوائے خاموشی کے جو خود ایک جرم بن چکی ہے۔
تاریخ کے مجرموں کو پہچاننا مشکل نہیں، بس آنکھوں میں سچ دیکھنے کی ہمت چاہیے۔ اُن کے چہروں پر شرافت کی ملمع کاری ہوتی ہے، مگر آنکھوں میں وحشت چھپی ہوتی ہے۔ باتوں میں اُمید کی خوشبو، لیکن اِرادوں میں تباہی کا دھواں۔ وہ وعدے کرتے ہیں، مگر وفا اُن کے قاموس میں نہیں۔ خواب دکھاتے ہیں، مگر تعبیر چھیننے میں دیر نہیں لگاتے۔ قوم کے نام پر کھیلتے ہیں، اور کھیل کے نام پر پوری قوم گروی رکھ دیتے ہیں۔ اور جب سب کچھ برباد ہو چکا ہوتا ہے، تو معصوم بن کر کہتے ہیں: ’’ہماری نیت تو صاف تھی!‘‘ لیکن تاریخ نیت نہیں، صرف نتیجہ دیکھتی ہے — اور حساب بے باک ہوتا ہے۔
تاریخ کے مجرم وہ ہوتے ہیں جو وقت کے ساتھ بدلنے سے انکار کرتے ہیں۔ جو اپنی انا کو اُصول بنا لیتے ہیں، اور اپنی غلطیوں کو نظریہ۔ جن کے لیے سوال گستاخی ہے، اختلاف بغاوت، اور سچ صرف سازش۔ یہ وہ لوگ ہیں جو قوموں کو صدیوں پیچھے دھکیل دیتے ہیں، اور پھر اپنی تصویر اگلی نسلوں کے نصاب میں شامل کروا کر خود کو رہبر ثابت کرنے پر بضد رہتے ہیں۔ ان کے لیے اقتدار ہی معیارِ حق ہے، اور مخالفت صرف جرم۔ لیکن وقت سب کچھ بدل دیتا ہے۔ جب وقت بولتا ہے، تو تاریخ چیخ اُٹھتی ہے — اور اس چیخ میں صرف ایک صدا گونجتی ہے: ’’یہ تھے وہ لوگ جنہوں نے روشنی کو اندھیرے میں بدلا، اور اندھیرے کو تقدیر بنا دیا۔‘‘

