تعلیم سے اندھا دلچسپی نے چترالیوں کو خوار بنا دیا ۔ تحریر: اسد الرحمن بیگ
۔
تعلیم سے اندھا دلچسپی نے چترالیوں کو خوار بنا دیا یہ موضوع توجہ طلب ہے یہ وہ بات ہرگز نہیں جو آپ حسب معمول چترال ٹائمز یا دیگر میڈیا میں دیکھ کر دلچسپی کے منافی سمجھ کر سکرول کرتے ہیں۔ یہ وہ مضمون ہے جو آپ کو مختصر زندگی میں ہونے والے اور آنے والے پیچیدہ مشکلات سے متنبہ کرتا ہے۔ ممکن ہے یہ زیر بحث نقطہ پڑھنے کے بعد آپ اپنی زندگی میں مثبت تبدیلی لا سکیں۔ یہ وہ مسئلہ ہے جس سے میں نے حالیہ دہائیوں میں شدت سے محسوس کیا ہے، کہ تعلیم سے منفی اور اندھا دلچسپی نے چترالیوں کو خوار بنا دیا اور وہ یہ کہ میرا بیٹا اعلی تعلیم حاصل کرے گا اور روزگار پیدا کرے گا جس سے ان کی زندگی اور ہمارے خاندان میں راحتی و خوشحالی ائے گی۔ تعلیم کو اور تعلیم حاصل کرنے کے بعد ملازمت کو راحتی و خوشحالی یا پیسہ پیدا کرنے کا ذرائع سمجھنے کی سوچ کس قدر حقیقت کے منافی اور مغالطہ ہے، تعلیم اگرچہ ہر شعبے کا لازمی حصہ ہے،
مگر ایسا نہیں جو ہم سوچ رہے ہیں، تعلیم اور تعلیم حاصل کر کے ملازمت کا دولت سے کوئی تعلق نہیں۔ جن دانشوروں اور صاحب علموں کی تعلیم سے دنیا آج حکمت اور عقل و دانش کے جس منزل پر کھڑی ہے ان کی ذاتی زندگی میں تعلیم کو دولت کے مقاصد کے لیے حاصل کرنے کا کہیں ثبوت نہیں، اگر ان کا مقصد دولت یا روزگار ہوتی تو ان کی تعلیم ان کے ساتھ دم توڑ دیتی اور ہم تک اس حالت میں نہ پہنچتی، پھر آج دنیا ترقی کے اس مقام پر نہ ہوتی، وہ ملازمت حاصل کر چکے ہوتے اور اپنا مقصد حاصل کی ہوتی پھر اگے کے تحقیقات و جستجو سے ان کا کوئی سروکار نہ ہوتا۔ جس طرح ہم پی ایم ایس، سی ایس ایس اور ایم بی بی ایس کی تیاری کے دوران کتابوں کا ڈھیر لگا دیتے ہیں، پھر پاس ہونے کے بعد طاق پر پھینک دیتے ہیں، پھر دن رات صرف پیسے بٹورنے کے طریقہ و باریکیوں کے حربے سوچتے ہیں، ان دانشوروں اور محققین کی نظریات و مفروضات کو اج کا احمق سٹوڈنٹ ملازمت کا ذریعہ سمجھتا ہے، پھر ملازمت کو دولت کا ذریعہ۔۔۔!
یہ سوچ آنے والے صدیوں اور نسل کو خسارے کی طرف لے جا رہا ہے۔ ارسطو، ائنسٹائن، اقبال، رازی، غزالی اور دیگر سائنسدانوں، فلسفیوں اور دانشوروں کی تعلیمی کاوشوں کا مقصد یہ نہیں تھا کہ کسی طرح وہ دنیا کا امیر شخص بن جائیں۔ آج بھی اگر کوئی جدید ٹیکنالوجی میں نمایاں کارنامہ انجام دے رہا ہے تو اس کے ذہن میں پہلے پیسہ نہیں ہوتا بلکہ نظریات، مسائل کا حل اور فارمولوں کے پیچیدگیوں کو سلجھا کر ترقی کے نئے راہوں پر گامزان کرنا ہوتا ہے۔ الون ماسک کا بھی کہنا یہی ہے کہ اسے دولت میں نہیں بلکہ ٹیکنالوجی اور بڑے انسانی مسائل کے حل میں اگے نکلنے کا شوق تھا۔ دولت اور پیسہ حاصل کرنے کے بیسیوں دوسرے راستے موجود ہیں ان میں سب سے تنگ راستہ یہی ہے جو ہم نے چنا ہے کہ میرا بیٹا بی ایس کرے گا پھر افسر بنے گا پھر دولت حاصل کرے گا۔
اگر کوئی طالب علم فزکس پڑھ رہا ہے تو اس کے ذہن میں فزکس میں کمال حاصل کرنے کی تگدو ہونی چاہیے نہ کہ فزکس پڑھ کر پیسہ پیدا کرنے کی۔ اس کے ذہن میں ہونی چاہیے کہ سٹیوین ہاکنگ A breaf history of tim میں فزکس کے حوالے سے کیا کیا انکشافات کیے ہیں، اس کے برعکس ہمارے ذہن میں پہلے ہی سے کچھ ایسے مضحکہ خیز مقاصد گھر کر جاتے ہیں کہ لوگ مجھے ڈاکٹر یا انجینئر کہہ کر پکاریں گے، میری سماجی حیثیت بدل جائے گی اور گاؤں واپسی پر ہر شخص مجھے ایک مختلف نظر سے دیکھے گا۔ میں کلاس فیلوز پر اپنی کامیابی کا رعب ڈالوں گا، ہمسایوں پر اپنی حیثیت واضح کروں گا، رشتہ داروں کو اپنی قابلیت اور منصب کا احساس دلاؤں گا۔ پھر جب میرے کوالیفائیڈ ہونے کی خبر پورے گاؤں میں پھیل جائے گی تو میرے چلنے کے انداز میں بھی ایک غیر ضروری اکڑ پیدا ہو جائے گی۔
گاؤں کے بے قوف لوگ بڑے بڑے بزرگوں اور عمائدین کو چھوڑ کر مجھے جھک جھک کر سلام کریں گے، اور مبارک باد دینے والوں کا ایک لمبا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔ یوں تعلیم اور پیشہ ورانہ قابلیت، علم اور خدمت کے بجائے ہمارے لیے سماجی برتری، رعب اور نمود و نمائش کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ یہ ایک نہایت پس ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے اور ہم اس میں بری طرح پھنسے ہوئے ہیں۔ جب ہم ترقی یافتہ ممالک کے حوالے سے پڑھتے اور تحقیق کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہاں کوئی اسکوپ کی شوق میں زبردستی ڈاکٹر یا انجینیئر وغیرہ کی خواہش نہیں رکھتا اگر کوئی ڈاکٹر بن رہا ہے تو یہ ان کا جنوں کی حد تک شوق ہوتا ہے وہ سکوپ کا پوچھ کر سبجیکٹ منتخب نہیں کرتا وہ اپنے شوق اور دلچسپی کو مدنظر رکھتا ہے اور اس سوچ میں بھی پیسہ مقصد نہیں ہوتا اس شوق کی دلچسپی میں انسانی خدمت اور کسی وائرس سے پھیلنے والے بیماری کے خاتمے کا جذبہ ہوتا ہے۔
اس وائرس پر تحقیقات و مشاہدات کا جنوں ہوتا ہے۔ ان کا ذہن اور روح میڈیکل لیبارٹری میں گھومتی ہے ہمارے سٹوڈنٹ کے لیے لیبارٹری سال میں ایک دو مرتبہ کھول دی جاتی ہے اور ہم خود بھی اس میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے اور اسے صرف ایک امتحان پاس کرنے کا ذریعہ کے طور پر ہی ڈھیل کرتے ہیں جو سچا طالب علم ہوتا ہے اس کے ذہن میں اچھے پوزیشن کا خوف نہیں ہوتا اسے اپنے کام کو سمجھنے سے کام ہوتا ہے۔ بے شک نمبر سی Cگریڈ اجائیں۔
یہاں تمام سٹوڈنٹس سکوپ کا معلوم کر کے سبجیکٹ منتخب کر لیتے ہیں کہ حالیہ وقت کس سبجیکٹ کا سکوپ زیادہ ہے یا ہائی ہے۔ پشاور یونیورسٹی میں جب پہلی بار ڈزاسٹر مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ کا آغاز ہوا تو داخلہ لینے والوں کی قطاریں بن گئیں۔ پوچھنے پر پتہ چلا کہ موجودہ دور میں اس کا سکوپ سب سے زیادہ ہے اور ملک میں ہر طرف قدرتی آفات ہی آفات ہیں اب دلچسپ بات یہ ہے کہ جو اسٹوڈنٹ یہ سبجیکٹ منتخب کر رہے تھے ان کے ذہن میں قطعاً اس خیال کا سرے سے کوئی وجود ہی نہیں تھا کہ وہ ڈزاسٹر پر قابو پانے یا قابو پانے کے اصولوں کو سمجھنے میں دلچسپی رکھتے ہوں بلکہ اس خواہش سے ائے تھے کہ اج کل قدرتی آفات عام ہو چکے ہیں لہذا اس میں ملازمت کے مواقع غیر معمولی حد تک بڑھ گئے ہیں۔ ایک دن ہمارے اخلاقیات کے پروفیسر نے طالب علموں میں اس خیال کو بھانپتے ہوئے بازار کی طرف اشارہ کر کے بتایا کہ جس سے پیسے کمانا ہے وہ جائے اور کاروبار کرے۔ فلسفہ اور سائنس پیسے بٹورنے کا ذریعہ نہیں۔
چترال سے باہر ہوٹلوں میں ملازمت کرنے والے چترالی لڑکوں کا کہنا ہے کہ پٹھان نوجوان دوست مل کر ہفتے یا دنوں میں جس خصوصی کھانے کا ارڈر دیتے ہیں چترالیوں کو ایسے ارڈر دیتے ہوئے شازو نادر بھی دیکھا نہیں گیا۔ کیا آپ جانتے ہیں اس کی وجہ کیا ہے صرف اور صرف یہ کہ ہم غریب ہیں، چترالی شخص بمشکل تنخواہ یا پینشن سے گزر بسر کر رہا ہے اس کا بھی نہ صرف ادھا حصہ بلکہ مذید الٹا قرضہ لے کر بیٹے کے اعلی تعلیم پر خرچ ہوتا ہے وہ اچھا کھانے کا ارڈر کیسے دے سکتا ہے اس کے اکاؤنٹ میں اس کی ساری زندگی میں ان کی مجبوریوں اور ہنگامی حالات کے لیے 10 ہزار کا بجٹ نہیں ہوتا۔
ہاں البتہ چترالی سیکرٹریٹ اور صوبے کے دوسرے دفاتر میں بہت زیادہ نظر اتے ہیں، یقینا ایک چترالی اس خیال سے خوش ہو چکا ہوگا، مگر اس کو اس بات کا علم نہیں کہ سیکریٹ سے جو افیسر عمر بر غلامی کے بعد جتنا پینشن اتا ہے کبھی کبھی ایک عام پٹھان اتنا پیسہ مہینوں میں کمالیتا ہے۔ اس کی بیسیوں مثالیں آپ کو قدم قدم پر ملیں گی۔ بے شک سارا چترال آئنسٹائن بن جائیں اور روزانہ ایک افیسر منتخب ہو جائے تب بھی 95 فیصد یا اس سے بھی زیادہ عوام رہ جاتا ہے اب ان سارے عوام کا افیسر بننے کا خواب دیکھنا اور زندگی کی دوڑ میں اور کوئی راستہ نظر نہ انا حماقت نہیں تو اور کیا ہے۔ اگر چروں، پروک، پرکوسپ وغیرہ میں دس، بیس افیسر ہیں مگر یہ سارے گاؤں کی کفالت کا ذریعہ تو نہیں بن سکتے۔
بی ایس کا آفت جب سے چترالیوں نے اپنے اوپر مسلط کیے ہیں گھر گھر اس عذاب کا شکار ہے اور اطمینان و سکون ناپید ہو گیا ہے۔ کہیں اگر ایک سٹوڈنٹ ہے تو نو دس سال، کہیں اگر دو ہیں تو پندرہ بیس سال سے زیادہ سب اپنا پیٹ کاٹ کر انہیں تعلیم دینے کی کوشش میں لگے ہوتے ہیں اس دوران وہ نہایت ہی مشکل اور دشوار زندگی کے مراحل سے دوچار ہوتے ہیں جو انکم خون پسینہ ایک ہو کر ہرمہینے گھر اتا ہے اور جس انکم سے گھر کا چھولا 15، 20 سال بڑی راحتی و اسودگی، اطمینان و سکون اور ارام سے چلایا جا سکتا تھا وہ پیسہ پندرہ بیس سال بے مقصد فائدے کی خاطر قربان کر دیا جاتا ہے، حتی کہ قرض لینے پڑتے ہیں مال مویشی اور زمین تک بھیج دینے پڑتے ہیں، اچھے پگوان، خوراک، لباس، چھوٹے موٹے سیاحت ترک کر دیتے ہیں اور جب یہ بیٹا یا بیٹی اپنا تعلیم مکمل کر لیتی ہے تو پھر ایک اور نئی اس سے بھی پیچیدہ مشکلات کا دور شروع ہو جاتا ہے کہ اسٹوڈنٹ نہایت ہی قابل کیوں نہ ہو اس سے کئی سال ملازمت کے پیچھے بھاگنا پڑتا ہے دفاتر کے دروازے کھٹکھٹانے پڑتے ہیں کرایہ کر کے سال میں کئی بار پشاور جانا پڑتا ہے انا پڑتا ہے تب جا کر ان میں سے اگر کوئی ملازمت لینے میں کامیاب ہو بھی جاتا ہے تو اس کا تنخواہ خود ان کی اپنی ذات کے لیے ناکافی ہوتی اس دوران اسے شادی کرنا پڑتا ہے، یوں سب کچھ بگڑ جاتا ہے ماں باپ بوڑھے ہوجاتے ہیں اور اکثریت کو تو ملازمت ملتی بھی نہیں،
کیا ہی اچھا ہوتا کہ جو پیسہ والدیں اپنی خواہشات کو دبا کر اپنی اسائشیں ترک کر کے اپنی خوشیاں قربان کر کے اس کی تعلیم پر خرچ کی تھیں اسے اپنے روزمرہ زندگی میں خرچ کرتے، اچھا کھاتے، پیتے، پہنتے صحت کا خیال رکھتے۔ ایک سمسٹر کا خرچہ 50 ہزار سے ایک لاکھ تک ہوتا ہے ساتھ ساتھ ہاسٹل کا خرچہ آنے جانے کا کرایہ سب مل کر 20، 30 ہزار یہ بنتے ہیں، اس کے بجائے اگر اتنے سال پہلے اس بیٹی یا بیٹے کی کاروبار یا ہنر میں سپورٹ کی جاتی تو یہ پیسہ گھر سے جانے کے بجائے الٹا گھر کی انکم میں شامل ہو جاتا اور اس اولاد کے لیے زندگی کا سٹرگل آسان ہو جاتا جبکہ اعلی تعلیم حاصل کرنے والا شخص کئی سال ڈیپینڈنٹ ہوتا ہے۔
اب اس بیٹے یا بیٹی کا ذکر کرتے ہیں جس نے والدین کو مشکل میں ڈال کر تعلیم مکمل کی اور افسر بھی بن گیا یعنی ہم یہاں چھوٹے ملازمت کو چھوڑ کر افیسر کی بات کرتے ہیں اب کیا ہوتاہے افسر بنتے ہی یہ بیٹا افسر یا کم از کم اپنے منصب کے برابر لڑکی ڈھونڈنا شروع کردیتا ہے اور شادی کر لیتا ہے چونکہ یہ لڑکی یا تو افیسر یا بڑے پیسے والا یا بڑے خاندان کی ہوتی ہے اب برابری کے یا کچھ برتر ہونے کے نتیجے میں اس لڑکی کا اس لڑکے پر ادھا اختیار اور روپ ہوتا ہے یوں شادی اور افسری کا ایک سال ابھی مکمل نہیں ہوا ہوتا کہ لڑکا بیوی کو لے کر شہر میں الگ آباد ہو جاتا ہے، ماں باپ کچھ مہینے ان کے ساتھ گزار لیتے ہیں مگر بہو کے سخت اختیارات اور اپنی بے وقتی سے دلبرشتہ ہو کر واپس اپنے گھر اس غریب بیٹھے اور بہو کے پاس ہی اجاتے ہیں جس نے کوئی اعلی تعلیم حاصل نہیں کی تھی، مزدور تھی یا سکاؤٹ پینشن تھا یا کوئی اور چھوٹا موٹا کام کرتا تھا۔ لہذا سخت قربانیوں، مشکلات اور لمبی انتظار کے بعد اکثر بہت کم کہیں افسر کے روپ میں اچھا بیٹا مل جاتا ہے اخری عمر میں والدین کی خدمت کا شرف غریب بیٹے کو ہی حاصل ہوتا ہے۔
افسر بیٹوں سے غریب رشتہ داروں کو بھی فائدہ نہیں پہنچتا شادی بھی دوسرے ان خاندانوں سے کر لیتے ہیں جنہیں کوئی معاشی مسائل نہیں اور افسر بنے کے بعد اپنے ہی خاندان کو حقیر سمجھتا ہے، اگر وہ اپنے کسی غریب رشتہ دار لڑکی سے شادی کر لیتی تو اس کی ازدواجی زندگی بھی پرسکون ہوتی، کیونکہ یہ رشتہ دار لڑکی اس رشتے کو اپنے ساتھ احسان سمجھ لیتی، اسطرح لڑکے کو کئی پیچیدہ نخروں سے بھی جھٹکارا مل جاتا، بات بات میں ضد، برتری کی بحث اور سمجھانے کا سلسلہ ختم ہو جاتا، اور یہ نئی بیویاں صورت کی بھی اچھی نہیں ہوتیں،کیونکہ افسر لوگ پیسے اور دولت کی خوش فہمی میں اکثر چڑیل سے شادی کر لیتے ہیں۔
کہوار کا ایک مشہور مقولہ ہے(بیردو کفانو سوم خوشان گورو غزابار کیا خبر) گھر والے اپنے بیٹے کی افسری سے بہت خوش ہوتے ہیں اور ان کے کالے گاڑی کو دروازے پر کھڑی دیکھ کر نہایت فخر محسوس کرتے ہیں ان کو یہ معلوم نہیں کہ دفتر کے کرسی میں ان کے بیٹے پر کیا کیا نہیں گزرتی، خودی کی تجارت کے علاوہ انہیں ایک محدود تنخواہ ملتا ہے، ایک گاڑی بھی ملتا ہے، مگر لگژری زندگی گزارنے، اپنے بچوں کو اعلی سکولوں میں تعلیم دلانے اور مہنگے ہوٹلوں میں طرح طرح کے کھانا کھانے کے لیے ان کے پاس کرپشن کے اپشن کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہوتا۔
کچھ دن پہلے یوٹیوب پر میں نے ایک چینل جس کا اعجاز صاحب میزبان ہے منصور علی شباب کو مہمان بنایا تھا گفتگو کے دوران سنوغور کے اس ٹیچر کے شاگردوں کا جو ٹریکٹر چلاتے ہیں نہایت ہی حقیر سمجھ کر کسی نے طنز کیا تھا ذکر کیا۔ اعجاز صاحب کو بھی اس بات کا علم ہونا چاہیے کہ ٹریکٹر چلا کر ازاد حلال روزی کمانا کرپشن یا بغل میں فائل چھپائے در در ٹھوکریں کھانے سے کئی اچھا ہے،
اگر کوئی ملازمت حاصل کرنے میں کامیاب ہو بھی جاے تب بھی میرے نزدیک اصول و ضوابط کے مطابق اور ڈھنگ سے ٹریکٹر چلانا اچھا ہوتا ہے کم از کم ایک ٹریکٹر چلانے والا خود مختار تو ہوتا ہے۔ اگر مروجہ اصولوں قاعدے اور قوانین کے مطابق ایک ٹریکٹر ڈرائیور محنت کرے تو مختصر وقت میں کئی ملازمتوں کے برابر خود کفیل ہو سکتا ہے ہم اب تک نہایت غلط زاویے سے اس زمانے کا مشاہدہ کرتے آ رہے ہیں۔ ہمیں اگاھیت کی اشد ضرورت ہے۔
ہمارے میٹرک کے کلاس میں وہ لڑکے جو بگوڑے سمجھے جاتے اکثر بار غیر حاضر رہتے اساتذہ اور دوسرے لڑکوں کی نظروں میں حقیر سمجھے جاتے ان کی زندگی اج ان باصلاحیت اور قابل سمجھے جانے والے لڑکوں کی نسبت کئی بہتر ہے وہ اپنے کام اور کاروبارکے مالک ہیں نوکروں کو تنخواہیں دیتے ہیں کبھی کبھی ہفتے میں وہ پیسہ کماتے ہیں جو ایک سرکاری یا کسی دوسرے پرائیویٹ ادارے کا ملازم مہینوں میں لیتا ہے، ساتھ ساتھ وہ خود مختار ہیں اور کسی کے سامنے جواب دہ نہیں ہیں،
لہذا ہمیں ایک مخصوص اور مناسب تعلیمی ذہنیت کے بچوں کے علاوہ ہر بیٹا اور بیٹی کے لیے اعلی تعلیم کا نہیں سوچنا چاہیے ورنہ یہ محض پیسے کا ضیاع اور ذہنی اذیتوں کے علاوہ کچھ نہیں۔
چترال اج اس منفی تعلیمی نظریے کی وجہ سے غربت کا شکار ہے۔ چترالی نئی نسل کو چاہیے کہ وہ اپنی طبیعت کے مطابق ملک کے کونے کونے پھیل جائیں اور روزگار کے دوسرے بیسیوں طریقوں کو اپنائیں اور کوشش کریں اور جتنا زور وہ اعلی تعلیم پر لگاتے ہیں اسے ایک اچھے بڑے برانڈڈ تجارت، فن، کمال، صلاحیتوں اور دوسرے پیشہ وارانہ مہارتوں پر لگائیں۔