The Voice of Chitral since 2004
Thursday, 25 June 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

شندور میلہ سے لاسپور نالہ تک – محمد افضل سنبل

شندور میلہ سے لاسپور نالہ تک – محمد افضل سنبل

کھیل کوئی بھی ہو صحت افزا سرگرمی ہے اور ہر ایسی سرگرمی کو سراہنا چاہیئے جس سے انسان کو کچھ لمحات کیلئے فرحت حاصل ہو لیکن پولو بادشاہوں کا کھیل ہونے کی وجہ سے ایک خاص مقام رکھتا ہے وہ بھی اگر دنیا کے بلند ترین سرسبز و شاداب پہاڑوں کے دامن میں کھیلا جارہا ہو-

شندور پولو کو جنرل ضیاع الحق کے دور سے تقویت ملی جب وہ بطور مہمان خصوصی پولو میچ دیکھنے آئے تھے- اس کے بعد جنرل مشرف نے اسے پروان چڑھایا, جن کے دور میں وزیر اطلاعات نیلوفر بختیار پولو میچ کو براہ راست ٹیلی کاسٹ کروایا لیکن اس بار عین فائنل میچ کے وقت پی ٹی سپورٹس پر ٹیبل ٹینس کا میچ دکھایا جاتا رہا بجائے عوام کو پولو فائنل میچ دکھاتے جبکہ اب مذکورہ ایونٹ کیلنڈر ایونٹ کے طور پر منایا جا رہا ہے اور کروڑوں روپے کا بجٹ پولو فیسٹیول کیلئے مختص کیا جاتا ہے-

دوسری جانب اس ایونٹ میں شرکت کرنے والے سیاحوں کی سہولت اور فروغ کیلئے حکومت کی طرف سے کوئی منصوبہ بندی کا شدید فقدان نظر آیا- لاسپور ویلی جو شندور پولو گراؤنڈ کا متصل گیٹ وے ہے جہاں سالانہ گرمیوں میں گلیشئر پگھلنے کی وجہ سے نالے میں طغیانی آتی ہے اور مسافر در بدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہوتے ہیں لیکن حکومت کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی-

موجودہ حکومت گزشتہ نو دس سالوں سے یہی دعویٰ کرتی ہے کہ سیاحت کو فروغ دینا ان کے ترجیحات کا اولین حصہ ہے مگر لگتا ایسا ہے کہ چترال اس صوبے کا حصہ ہی نہیں, ورنہ یہاں پر کچھ تو توجہ مبذول کی جاتی اور کم از کم مرکزی سڑکوں کی حالات بہتر بنایا جاتا- شاہی داس نالہ پر توجہ دی جاتی جو نہ صرف شندور بلکہ گلگت بلتستان اور چائنہ جیسے اہم پڑوسی ملک کو بھی ملاتا ہے-

اس بار صوبائی یا مرکزی حکومت شندور فیسٹیول کی زینت بننے کی ہمت نہیں کی شاید اس لئے کہ ان کے پاس بتانے کیلئے کچھ نہیں تھا, پچھلے دعوؤں اور وعدوں کا بھرم رکھنے میں مکمل طور ناکام رہے نتیجتاً پورا چترال بجلی کی لوڈشیڈنگ اور سڑکوں کی تعمیر و مرمت کیلئے سراپا احتجاج ہے- کتنا اچھا ہوتا ہے کہ چترال تشریف لاکر عوام کے زخموں پر مرہم رکھتے اور ایک بار پھر مسائل کے حل کا دعویٰ کرتے اور عوام کے آنکھ میں دھول جھونکتے لیکن کچھ تو تسلی ہوتی-
لیکن اس بار وادی لاسپور کے غیور اور مہمان نواز عوام نے اپنے مورثی ثقافت کو جاری رکھتے ہوئے اعلیٰ مثال قائم کی اور لاسپور نالہ کے متاثرین کی دیکھ بال میں دل اور دروازے کھول کر چترال کے عوام کے تمام غم بھلا دیئے, سلام اہل لاسپور سلام۔

chitraltimes chitral shandur road blocked at shahidas and herchin nala 3

chitraltimes shandur festival road block herchin

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
63224

شندور میلہ اور حکومتِ وقت کی ناقص کارکردگی – راشدہ منظور

شندور میلہ اور حکومتِ وقت کی ناقص کارکردگی – راشدہ منظور

بحیثیتِ چترالی میں اس تحریر کو دکھ بھری اور بے ساختہ جذبات کے ساتھ لکھنے کی جسارت کرتی ہوں۔ چترال خیبر پختون خواہ میں رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا ضلع اور وسائل کے لحاظ سے سب سے حقیر تصور کیا جاتا ہے۔ کچھ پرکشش اور قدرتی آسائش سے مالامال دور افتادہ جگے دنیا بھر کے سیاحوں کو اپنی طرف مدعو کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں ۔

ان میں سے ایک مثال شندور کی ہے جو کہ چترال اور گلگت کی تاج بن کر ہر طرف سے سیاحوں کو خوش آمدید کہتی ہوئی نظر آتی ہے۔ حکومتِ پاکستان کی اولین ترجیح سیاحت کو فروغ دینا ہے اور اس کے لیے ۵ سالہ منصوبہ بھی بنا تھا کیونکہ کسی بھی علاقے کی ترقی کا دارومدار سیاحت کو فروغ دینے سے ہوتی ہے، لیکن بدقسمتی سے جشنِ شندور کے موقع پر سیاحوں کی آمد سے وادی لاسپور کے لوگوں کے امدنی میں ریلیف ملنے کی بجائے نقصان اٹھانا پڑتا ہے کیونکہ لوگ اپنے کاروبار، کھتی بڑھی اور دوسرے کام چھوڑ کے سیاحوں کو محفوظ مقامات تک پہنچانے، اور خوراک اور رہائش کا انتظام کرنا پڑتا ہے کیونکہ حکومتِ وقت کی ناقص کارکردگی اور اس علاقے کے لوگوں کے ساتھ سوتیلی ماں کا سلوک کسی سے چھپی نہیں ہے۔

ہر سال جشنِ شندور کے لئے کروڑوں روپے کی بجٹ مختص ہونے کے باوجود شندور روڈ میں چھوٹے نالوں کے اوپر کیوں غور نہیں کیا جاتا ہے جوکہ چھوٹے منصوبوں کے تحت ہی یہ پُل تعمیر ہوسکتے ہیں لیکن بدقسمتی سے حکومتی نمایندگان خوابِ خرگوش کے مزے لے رہے ہوتے ہیں۔ یوں سیاحوں اور لاسپور کے عوام کے جذبات کے ساتھ کھیلتے ہیں۔

لہٰذا بحیثیتِ چترالی میں سیاحت کے وزیر اور چترال کی حکومتی نمایندگان سے یہ سوال پوچھتی ہوں کہ کیا صرف سیاحت کو فروغ دینے کے نام پر سیاست کرنا ہے یا حقیقت میں سیاحت کو فروغ دینے کے لیے عملی جامع پہنانا ہے؟؟؟

ھم بحثئت عوام تمام سیاحوں کو ان کے مشکل وقت میں انکے شانہ بشانہ کھڑے ھوتے ھیں اور انکے مھمان نوازی کرکے اپنے لیے فخر سمجتے ھے لیکن اسکا یہ مطلب ھر گز ایسا نیں ھے کہ حکومت وقت کو معلوم ھوکے بھی لوگوں کے اوپر تماشائ بنے۔ اور لاسپور کے عوام کو اس سیاحت سے الٹا لے نے کے دینا پڑے۔

راشدہ منظور
سوشل اکٹئوسٹ ۔ھرچین لاسپور

chitraltimes vehicle drown into rive at shanur road

Posted in تازہ ترین, خواتین کا صفحہ, مضامینTagged
63193