جامعہ چترال میں دیہی کمیونٹیز، موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی نظم و نسق” کے موضوع پرسمپوزیم کا انعقاد
چترال (نمائندہ چترال ٹائمز) یونیورسٹی آف چترال نے ہیلپنگ ہینڈ فار ریلیف اینڈ ڈویلپمنٹ (HHRD) کے تعاون سے گزشتہ روز یک روزہ سمپوزیم کا انعقاد کیا جس میں “دیہی کمیونٹیز، موسمیاتی تبدیلی، اور ماحولیاتی نظم و نسق” کے اہم موضوع پر سیر حاصل گفتگو کی گئی۔اس تقریب میں ماہرین تعلیم، ڈویلپمنٹ پریکٹیشنرز اور این جی اوز اور سول سوسائٹی کے پیشہ ور افراد موجود تھے جنہوں نے جامع اور پائیدار ترقی، پاکستان کے شمالی علاقوں میں خطرے سے دوچار انواع اور ماحولیاتی نظم و نسق کے بارے میں بصیرت انگیز مقالے پیش کیں۔اس تقریب میں ایک پینل ڈسکشن کا بھی انعقاد کیا گیا جہاں ماہر پینلسٹس نے مقامی چیلنجوں پر بڑے پیمانے پر تبادلہ خیال کیا اور دیہی برادریوں میں لچک پیدا کرنے کے لیے حل تجویز کیے۔
اس اہم مکالمے کا مقصد موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا ہے جس میں خاص طور پر بارش کے معمولات، زرعی پیداواری صلاحیت، اقتصادی انفراسٹرکچر، سوشل نیٹ ورکس اور شمالی پاکستان میں کمیونٹیز کے پرامن بقائے باہمی کے موضوعات شاملِ تھے۔ سمپوزیم کا مقصد ایسے طریقے تجویز کرنا اور جامع ماحولیاتی نظم و نسق کو فروغ دینا تھا جو متعلقہ منصوبہ بندی اور فیصلہ سازی میں مقامی کمیونٹیز کو مرکزی دھارے میں لانے کی کوشش کرتا ہے۔
ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر، ہیلپنگ ہینڈ فار ریلیف اینڈ ڈویلپمنٹ (ایچ ایچ آر ڈی) چترال محمد شجاع الحق بیگ نے علاقے میں کمیونٹی کی بنیاد پر آب و ہوا اور آفات میں کمی کی کوششوں پر روشنی ڈالی۔
سیشن کے اختتام پر یونیورسٹی آف چترال کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر حاظر اللہ نے ماہرین تعلیم، اداروں اور نوجوانوں کی اجتماعی ذمہ داری پر زور دیا کہ وہ ماحولیاتی تبدیلی کے خطرے سے نمٹنے اور بعض عملی اقدامات کے ذریعے پائیدار ترقی کو فروغ دیں۔
انہوں نے اس سلسلے میں نوجوانوں کے کردار پر خاص طور پر زور دیا اور مشورہ دیا کہ طلباء کو زیادہ سے زیادہ درخت لگا کر اور ٹھوس فضلہ کی پیداوار کو سختی سے کم کر کے ماحول کے تحفظ کے لیے فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔انہوں نے بڑے پیمانے پر کمیونٹی کی طویل مدتی بہبود اور پائیدار ترقی کے لیے اس طرح کے تعلیمی پروگراموں کی اہمیت کو مزید اجاگر کیا۔

