چترال میں 15 تا 35 سال کے نوجوانوں میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے رجحان کے اسباب سماجی اور تحقیقی جائزہ۔ – ریسرچ: فضل رحیم بابا
خودکشی ایک ایسا سماجی المیہ ہے جو نہ صرف ایک فرد کی زندگی کا خاتمہ کرتا ہے بلکہ ایک پورے خاندان، معاشرے اور آنے والی نسلوں پر گہرے نفسیاتی اور جذباتی اثرات چھوڑ جاتا ہے۔ دنیا بھر میں خودکشی کو ذہنی صحت، سماجی دباؤ اور معاشی مسائل سے جوڑا جاتا ہے، مگر ترقی پذیر معاشروں میں یہ مسئلہ زیادہ پیچیدہ صورت اختیار کر لیتا ہے۔ پاکستان کے شمالی علاقوں خصوصاً چترال میں حالیہ برسوں کے دوران 15 سے35 سال کی عمر کے نوجوانوں میں خودکشی کے واقعات میں اضافہ ایک سنجیدہ سماجی سوال بن چکا ہے جس پر تحقیق اور عملی اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔
یونیورسٹی کے آخری سال میں کی گئی میری تحقیق کا موضوع بھی چترال کے نوجوانوں میں خودکشی کے وجوہات تھا۔ اس تحقیق کے دوران میں نے اپر چترال کے مختلف تعلیمی اداروں کا دورہ کیا، طلبہ، اساتذہ اور بعض خاندانوں سے غیر رسمی گفتگو کی، اور ساتھ ہی گوگل فارم کے ذریعے نوجوانوں سے ڈیٹا اکٹھا کیا۔ اس فیلڈ ورک اور ڈیٹا کے تجزیے سے یہ بات واضح ہوئی کہ خودکشی کا رجحان کسی ایک وجہ کا نتیجہ نہیں بلکہ کئی سماجی، معاشی اور نفسیاتی عوامل آپس میں مل کر نوجوانوں کو اس انتہائی قدم کی طرف دھکیل دیتے ہیں۔
تحقیق اور مختلف سماجی سرویز سے یہ بات سامنے آئی کہ بے روزگاری اور معاشی عدم تحفظ نوجوانوں میں سب سے بڑا ذہنی دباؤ پیدا کرتا ہے۔ چترال جیسے دور افتادہ علاقے میں روزگار کے مواقع محدود ہیں، جب کہ نوجوانوں پر خاندان کی معاشی ذمہ داریوں کا بوجھ جلد ڈال دیا جاتا ہے۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد ملازمت نہ ملنا، یا کم آمدنی والی نوکریاں، نوجوانوں میں احساسِ ناکامی اور مایوسی کو جنم دیتی ہیں۔ میری تحقیق میں شامل کئی نوجوانوں نے اس بات کا اظہار کیا کہ وہ خود کو خاندان پر بوجھ سمجھنے لگتے ہیں، جو رفتہ رفتہ خطرناک خیالات میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
تعلیمی دباؤ بھی ایک اہم عنصر کے طور پر سامنے آیا۔ امتحانات میں ناکامی، میرٹ پر داخلہ نہ ملنا، والدین کی حد سے زیادہ توقعات اور مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال نوجوانوں کی ذہنی صحت پر منفی اثر ڈالتی ہے۔ اپر چترال کے تعلیمی اداروں میں کیریئر کونسلنگ اور نفسیاتی رہنمائی کی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں، جس کی وجہ سے نوجوان یہ نہیں سمجھ پاتے کہ ناکامی زندگی کا اختتام نہیں بلکہ ایک مرحلہ ہے۔
خاندانی اور سماجی دباؤ چترال کے روایتی معاشرے میں ایک حساس مسئلہ ہے۔ تحقیق کے دوران یہ بات واضح ہوئی کہ لڑکیوں پر شادی، عزت اور سماجی حدود کے حوالے سے سخت دباؤ ہوتا ہے، جب کہ لڑکوں سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ ہر حال میں مضبوط رہیں اور جذبات کا اظہار نہ کریں۔ پسند کی شادی، جذباتی تعلقات، یا ذاتی فیصلوں پر مخالفت نوجوانوں کو ذہنی طور پر تنہا کر دیتی ہے۔ چونکہ ایسے مسائل پر کھل کر بات کرنا معیوب سمجھا جاتا ہے، اس لیے نوجوان اندر ہی اندر ٹوٹتے رہتے ہیں۔
ذہنی صحت کے مسائل، خصوصاً ڈپریشن اور اینگزائٹی، اس مسئلے کی جڑ میں نمایاں طور پر نظر آتے ہیں۔ قومی اور علاقائی سرویز کے مطابق نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد ذہنی دباؤ کا شکار ہے مگر علاج یا مشاورت نہیں لیتی۔ چترال میں ذہنی صحت کو اب بھی کمزوری یا شرمندگی سے جوڑا جاتا ہے، جس کی وجہ سے نوجوان ماہرِ نفسیات یا کسی قابلِ اعتماد فرد سے مدد لینے سے گریز کرتے ہیں۔ یہی خاموشی اکثر جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔
سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے استعمال نے بھی نوجوانوں کی نفسیات کو متاثر کیا ہے۔ میری تحقیق کے ڈیٹا کے مطابق بہت سے نوجوان سوشل میڈیا پر دوسروں کی کامیاب اور خوشحال زندگی دیکھ کر اپنی زندگی کا منفی موازنہ کرتے ہیں۔ محدود وسائل، کم مواقع اور مسلسل تقابل نوجوانوں میں احساسِ کمتری اور ناکامی کو بڑھا دیتا ہے، جو ذہنی دباؤ کو مزید شدید کر دیتا ہے۔
ان تمام وجوہات کو یکجا کیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ چترال میں نوجوانوں میں خودکشی کا بڑھتا ہوا رجحان فرد کی کمزوری نہیں بلکہ ہمارے سماجی نظام، تعلیمی ڈھانچے اور ذہنی صحت سے متعلق غفلت کی علامت ہے۔ نوجوان دراصل مدد کے طلب گار ہوتے ہیں، مگر انہیں سننے اور سمجھنے والا کوئی نہیں ملتا۔
آخر میں یہ کہنا ضروری ہے کہ خودکشی کا حل خاموشی نہیں بلکہ شعور، گفتگو اور عملی اقدامات ہیں۔ خودکشی کی روک تھام کے لیے ہمیں اجتماعی سطح پر ذمہ داری لینا ہوگی۔ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں سے دوستانہ رویہ اپنائیں اور ان کے مسائل کو سنجیدگی سے سنیں۔ تعلیمی اداروں میں کونسلنگ اور ذہنی صحت کی سہولیات فراہم کی جائیں۔ مذہبی و سماجی رہنما نوجوانوں میں امید، صبر اور زندگی کی قدر کا پیغام عام کریں۔ حکومت اور مقامی اداروں کو روزگار کے مواقع اور نوجوانوں کے لیے مثبت سرگرمیوں کو فروغ دینا چاہیے۔
زندگی ایک قیمتی امانت ہے، مسائل چاہے کتنے ہی بڑے کیوں نہ ہوں، ان کا حل خودکشی نہیں۔ اگر ہم بطور معاشرہ ایک دوسرے کا سہارا بنیں، تو بہت سی جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔
