میرِ فرض شناسی صوبیدار ریٹائرڈ میر طنت شاہ مرحوم – تحریر: نورالھدیٰ یفتالیٰ
کھوار میں مشہور مثل ہے!
کرنل مہ کیانی کوئیان مہ ژوباک میر طنعت شاہ
اُس کے بارے میں کہی گئی بات آج کل ہر زبان پر ہے۔ ہر محفل، ہر موقع، اور ہر گفتگو میں وہ جملہ بار بار دہرایا جاتا ہے، جیسے وہ الفاظ نہیں، ایک سچائی کی بازگشت ہوں۔ جیسے وقت نے اُسے اپنی گواہی میں شامل کر لیا ہو۔ وہ جملہ اب صرف کہا نہیں جاتا، جیا جاتا ہے
1916میں چترال کی خوبصورت اور رومانوی وادی لاسپور کے آخری گاؤں سور لاسپور جو کہ تاریخی درہ شندور اور بشقار گول نالہ کے سنگم پر واقع ہے جنم ہوئی 1940 میں چترال اسکاوٹس میں شمولیت اختیار کی 24 برس تک سرحد میں پیدا ہونے والے سرحدوں کی حفاظت کی بطور جونیئر کمیشنڈ آفیسر وہ ایک طویل عرصے تک ملک کی سرحدی سلامتی کا ستون بنے رہے۔ 1963 میں ریٹائر ہوئے، لیکن تقدیر کو ان کی جرأت کی پھر بھی ضرورت محسوس ہوئی۔ 1965 کی جنگ نے ایک بار پھر انہیں پکارااور وہ پکار پر لبیک کہہ کر لوٹے۔
کہا جاتا ہے کہ چترال میں انگریز اور سکھ انسٹرکٹرز کے بعد اگر کوئی نام حقیقی مہارت، ذہانت اور عسکری تربیت کا استعارہ بناتو وہ میر طنت شاہ کا تھا۔ وہ نہ صرف اپنے وقت کے سب سے قابل انسٹرکٹر مانے جاتے تھے بلکہ ان کا حکم دینے کا انداز ایسا منفرد تھا کہ گویا الفاظ خود سپاہیوں کی رگوں میں جذب ہو جاتے۔ اُن کی آواز میں ایسی گھن گرج، لہجے میں ایسا توازن، اور انداز میں ایسی جاذبیت تھی کہ جوان ہو یا افسر، سب ہمہ تن گوش ہو جاتے۔ دروش چھاؤنی کے میدان میں جب وہ جنگی مشقوں کی تربیت دے رہے تھے، تو ان کی بلند اور باوقار آواز نے چھاؤنی کے ایک کونے میں بیٹھے انگریز میجر وائٹ تک کو چونکا دیا۔ وہ آواز نہ صرف سنی، بلکہ دل میں اُتر گئی۔ اس قدر متاثر ہوا کہ فوراً اُن سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی اور اُن کی عسکری مہارت کو بے ساختہ خراجِ تحسین پیش کیا۔

ریاستِ چترال کے دور میں، جب وفاداری کو وقار اور مہارت کو معیار سمجھا جاتا تھا، مہترِ چترال نے میر طنت شاہ کو باڈی گارڈ فورس کی جنگی تربیت کا نگران مقرر کیا۔ اُن کی عسکری فہم، وقار بھرا انداز اور سپاہیانہ تربیت نے مہتر کو اس قدر متاثر کیا کہ بطورِ انعام اُنہیں اس عہد کے نایاب و قیمتی لباس سے نوازاجو اُس وقت صرف خاصانِ دربار کے حصے میں آیا کرتا تھا۔ یہ تحفہ عزت، اعتماد اور اعترافِ کمال کی علامت سمجھا جاتا تھا
میر طنت شاہ ایک جرات مند، نڈر، اور دیانت دار سپاہی ہی نہیں بلکہ ایک بابصیرت سیاسی کارکن، تربیت یافتہ رہنما اور ایک روشن فکر انسان بھی تھے۔ ان کے بارے میں مشہور تھا۔ کرنل مہ کیانی کوئیان مہ ژوباک میر طنعت شاہ
مجھے کرنل سے خوف نہیں، اصل خوف تو میر طعنت شاہ سے ہے۔ جس کی دہشت خود بہادروں کے چہروں پر لرزہ طاری کر دیتی تھی۔
1965 کی جنگ کے بعد واپسی پر میر طنت شاہ نے لاسپور کی تاریخ کا ایک نیا باب رقم کیاجب پہلی بار ریڈیو متعارف کرایا۔ فلپ کمپنی کا وہ ریڈیو صرف ایک آلہ نہ تھا، بلکہ وہ علم، خبر اور دنیا سے رابطے کا پہلا دروازہ تھا جو ان کے ذریعے اس وادی میں کھلا۔
ریٹائرمنٹ کے بعد وہ عام زندگی میں لوٹ آئے، لیکن خدمت کا جذبہ کم نہ ہوا۔ جنرل ایوب خان کے دور میں لوکل باڈی الیکشن میں حصہ لیا، جہاں بالیم گاؤں اور سورلاسپور ایک ہی حلقہ تھے۔ وہ بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئے اور علاقے میں ترقیاتی منصوبوں کی بنیاد رکھی۔ اسی دور میں ملک میں سیاسی کشمکش بھی جاری تھی۔ انہیں جنرل ایوب خان اور مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح کی طرف سےحمایت کے خطوط لکھے گے۔جن کا جواب انہوں نے اپنے صاحبزادے محمد یوسف شہزاد کے زریعہ جو اس وقت طالب علم تھےدیا۔جو بعد میں یونیورسٹی سے فارع التحصیل ہو کر وزارت اطلاعات و نشریات میں ڈایریکٹر کے عہدے پر ریٹائر ہوگئے۔

ان کی طبیعت کا مزاج نہایت متوازن تھا۔ وہ رشتوں کے تقدس کا بہت احترام کرتے تھے۔ ان کے نزدیک رشتوں میں چھوٹے یا بڑے کا کوئی تصور نہ تھا ہر رشتہ یکساں اہمیت رکھتا تھا۔ وہ رشتوں میں تحائف بانٹنے کو تعلق مضبوط کرنے کا ذریعہ سمجھتے تھے۔وہ نہایت کفایت شعار، خوددار اور بردبار انسان تھے۔ غصے پر قابو پانا ان کا خاص وصف تھا۔ جائیداد اور طاقت رکھنے کے باوجود وہ عاجزی اور سادگی کی مثال تھے۔
میر طنت شاہ اپنے چار بھائیوں میں تیسرے نمبر پر تھے۔ اُن کے بڑے بھائیوں میں جہاندار شاہ اور اسکندر شاہ شامل تھے، جبکہ ان کے بعد گل امان شاہ تھے۔ اولاد میں اُن کے دو صاحبزادے نمایاں ہوئےمحمد یوسف شہزاد، انفارمیشن آفیسر کے عہدے پر فائز رہےبعد ازاں وزارت اطلاعات سے ڈائریکٹر کے عہدےپر ریٹائرڈ ہوئے وہ صرف کھوار ادب کے سچے خادم رہے اور قومی سطح کے متعدد اخبارات اور انجمن ترقیِ کھوار کے لیے بھی مستقل طور پر خامہ فرسائی کرتے رہے۔ شندور پولو فیسٹیول جیسے تاریخی اور ثقافتی ایونٹ میں ان کی جاندار اور منفرد کمنٹری، پرجوش کمپیئرنگ کے ساتھ، محض الفاظ کی ادائیگی نہیں بلکہ روایتوں کی ترجمانی ہوا کرتی تھی اور محمد یونس جو کہ درس تدریس کے شعبے کیساتھ منسلک ہے۔
ان کی چار بیٹیاں تھیں، جن کی زندگی کی کہانیاں چار مختلف سمتوں میں بکھری ہوئیں جگمگاتی ہیں۔ بڑی بیٹی نے اپنی خوشیوں کا گھر لاسپور ہی میں بسایا۔ دوسری بیٹی کی زندگی مرحوم امیراللہ خان یفتالی کے ساتھ بندھن میں بندھی۔ تیسری بیٹی علم و قلم کے مسافر، ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی کی شریکِ سفر بنیں، جبکہ چوتھی بیٹی نے مستوج کے باوقار باشندے، نور قبول ایل جی کمپنی کے جرنل مینجر کے ساتھ زندگی کی راہ پر قدم بڑھایا۔
17 رمضان 1988 کو یہ درخشاں ستارہ غروب ہو گیا، لیکن ان کی خدمات، یادیں اور عظمت آج بھی دلوں پر نقش ہیں۔ وہ نہ صرف ایک عظیم سپاہی تھے بلکہ اپنے کردار، قول، اور عمل سے نسلوں کو حوصلہ، ہمت، اور فخر کا سرمایہ دے گئے۔
کچھ شخصیات وقت کی گرد میں چھپ تو جاتی ہیں، مگر ان کی گونج صدیوں تک باقی رہتی ہے۔ میر طعنت شاہ ایسی ہی ایک شخصیت کا نام ہےجنہوں نے نہ صرف وردی پہنی بلکہ فرض، جرأت اور وقار کی زندہ تعبیر بنے۔
وہ سر اٹھا کے جینے کا ہنر رکھتا تھا،
چپکے سے گیا، مگر ہر دل میں اُتر گیا۔

