چترال کے طلبا کا کالجز کو آوٹ سورس کرنے کےخلاف احتجاجی مظاہرہ، چار گھنٹے تک روڈ بلاک، انتظامیہ کی یقین دہانی پر احتجاج ملتوری
چترال ( نمائندہ چترال ٹائمز ) خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے کالجز کو آؤٹ سورس کرنے کے فیصلے کے خلاف چترال کے طلبا ٗ نے چترال بازار میں بھرپور احتجاج کیا،احتجاجی طلبا نے چار گھنٹوں تک روڈ بلاک کرکے احتجاج کیا،
احتجاج میں مختلف تعلیمی اداروں کے سینکڑوں طلباء شریک ہوئے جنہوں نے حکومت کے اس فیصلے کو تعلیم دشمن پالیسی قرار دیتے ہوئے مرکزی شاہراہ بند کر دی، جس سے بازار کی تمام تر سرگرمیاں معطل ہو گئیں۔
مظاہرے کی قیادت مختلف طلبہ نمائندوں اور جمعیت طلباء اسلام چترال کے صدر عارف اللہ اور جمعیت طلباء اسلام ڈگری کالج کے صدر ثناء اللہ نے کی۔
مقررین نے اپنے خطاب میں کہا کہ تعلیم ایک قومی خدمت ہے، اسے کاروبار یا ٹھیکہ داری نظام میں تبدیل کرنا غریب طلباء کے ساتھ نا انصافی ہے۔حکومت اس فیصلے پر نظرِ ثانی کرے ورنہ یہ تحریک پورے صوبے تک پھیل جائے گی۔
احتجاج کے دوران اے سی ضیاء اور ایڈیشنل اے سی اسد موقع پر پہنچے اور مظاہرین سے مذاکرات کی کوشش کی مگر طلباء مطمئن نہ ہوئے۔
بعد ازاں اے سی ہیڈ کوارٹر ریاض نے ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا جس میں احتجاج کی قیادت کرنے والے تمام طلباء نمائندے، ڈگری کالج اور کامرس کالج کے پرنسپلز سمیت ضلعی انتظامیہ کے افسران شریک ہوئے۔
میٹنگ نہایت سنجیدہ اور مثبت ماحول میں منعقد ہوئی، جس میں انتظامیہ نے طلباء کو یقین دلایا کہ تین دن کے اندر کالجز کے اساتذہ کے ساتھ مشاورتی ملاقات ہوگی ۔ اساتذہ اسٹرائیک ختم کرکے اپنے کلاس، جاری رکھیں گے ، اور یونیورسٹی انتظامیہ سے امتحانات کی تاریخ میں توسیع کی سفارش کی جائے گی تاکہ طلباء کے ضائع شدہ اوقات کو بحال کیا جا سکے۔ انتظامیہ کی یقین دہانی پر طلبا احتجاج کو ملتوی کرکے پرآمن منتشر ہوگئے،


