The Voice of Chitral since 2004
Monday, 10 August 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

اسپیشل ایجوکیشن سنٹر لوئر چترال میں خصوصی افراد کے عالمی دن کی مناسبت سے تقریب کا انعقاد

Chitral Times

اسپیشل ایجوکیشن سنٹر لوئر چترال میں خصوصی افراد کے عالمی دن کی مناسبت سے تقریب کا انعقاد

اسپیشل ایجوکیشن سنٹر لوئر چترال میں خصوصی افراد کے عالمی دن کی مناسبت سے تقریب کا انعقاد

اسپیشل ایجوکیشن سنٹر لوئر چترال میں خصوصی افراد کے عالمی دن کی مناسبت سے تقریب کا انعقاد

چترال (نمائندہ چترال ٹائمز) اسپیشل ایجوکیشن سنٹر لوئر چترال میں خصوصی افراد کے عالمی دن کی مناسبت سے ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ پروگرام میں خصوصی افراد کے علاوہ مختلف مکتبۂ فکر سے تعلق رکھنے والی خواتین و حضرات نے بھی شرکت کی۔

اے۔کے۔آر۔ایس۔پی کی تعاون سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ سوشل ویلفیئر آفیسر لوئر چترال خضر حیات، جینڈر آفیسر اے کے آر ایس پی چترال شازیہ سلطان اور دیگر مقررین نے کہا کہ اس دن کو منانے کا مقصد معاشرے کے تمام شعبوں میں معذور افراد سے اظہارِ یکجہتی کرنا، ان کے حقوق اور فلاح و بہبود کو فروغ دینا اور انہیں درپیش مسائل کو اجاگر کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ معذور بچوں کو تعلیم اور صحت کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے ہر مکتبۂ فکر کے لوگوں کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے معذور بچوں کو بے پناہ خصوصی صلاحیتوں سے نوازا ہے، اور مناسب تربیت کے ذریعے انہیں معاشرے کا فعال شہری بنایا جاسکتا ہے۔ خصوصی افراد کو دراصل ہمارے معاشرتی رویے معذور بنا دیتے ہیں۔ معذوری کی حالت میں اگر گھر کا ماحول اچھا ہو تو انسان بڑی سے بڑی مشکل کا مقابلہ کر لیتا ہے، لیکن اگر ماحول منفی ہو تو نہ صرف زندگی گزارنا مشکل ہوجاتا ہے بلکہ جسمانی معذوری کے ساتھ ذہنی صلاحیتیں بھی متاثر ہونے لگتی ہیں۔

مقررین نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں خواتین اور بچیاں معذوری کے باعث دوہری پسماندگی کا شکار ہیں، جس کی وجہ سے وہ صحت، تعلیم، ہنر اور روزگار جیسی بنیادی سہولیات سے محروم رہ جاتی ہیں۔ معذوری سے متعلق آگاہی کے فقدان کی وجہ سے بھی معذور افراد کو مختلف مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ زندگی کے ہر شعبے میں ان کی حوصلہ افزائی ضروری ہے تاکہ معاشرتی ناانصافیاں ختم ہوں اور وہ احساسِ کمتری کے بغیر معاشرے کے مفید شہری بن سکیں۔

جینڈر آفیسر اے کے آر ایس پی چترال شازیہ سلطان نے کہا کہ کئی علاقوں میں خصوصی افراد، خواتین اور لڑکیاں ڈیجیٹل اور گھریلو تشدد کا شکار ہوکر خاموشی سے ظلم برداشت کرتی ہیں، کیونکہ ایسے واقعات کی رپورٹ کی صورت میں انہیں خاندان کی جانب سے بے عزتی اور کمیونٹی میں تنہائی کے خدشات لاحق ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تشدد کے خلاف آواز اٹھانا ایک اجتماعی، سماجی، قانونی اور اخلاقی ذمہ داری ہے؛ کسی بھی نوعیت اور کسی بھی شکل میں تشدد ناقابلِ برداشت اور قابلِ مذمت ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ خواتین اور خصوصی افراد کو بے شمار چیلنجز درپیش ہیں، جن کے حل کے لیے حکومت اور فلاحی ادارے کام کر رہے ہیں، تاہم اصل ضرورت لوگوں کی سوچ میں مثبت تبدیلی لانے کی ہے۔ معاشرتی تبدیلی کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے رویّوں میں تبدیلی لائیں۔

chitraltimes international day special children organizes by social welfare 5 chitraltimes international day special children organizes by social welfare 2