The Voice of Chitral since 2004
Wednesday, 7 October 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

سلوک الغزات، اخون سالاک اور لمٹی کے شہداء – تحریر و تحقیق: نجیم شاہ

Chitral Times

سلوک الغزات، اخون سالاک اور لمٹی کے شہداء – تحریر و تحقیق: نجیم شاہ

سلوک الغزات، اخون سالاک اور لمٹی کے شہداء – تحریر و تحقیق: نجیم شاہ

سلوک الغزات، اخون سالاک اور لمٹی کے شہداء – تحریر و تحقیق: نجیم شاہ

.

پشتو کے قدیم ادبی سرمائے میں ملامست زمند کی ’’سلوک الغزات‘‘ محض شعری مجموعہ نہیں بلکہ اپنے عہد کے مذہبی، فکری اور جنگی حالات کا اہم بیانیہ بھی ہے۔ اس میں اخون سالاک، اُن سے وابستہ غازیوں، مختلف مہمات، دینی تعلیمات اور اخلاقی مضامین کے ساتھ ان واقعات سے متعلق پشتو اشعار بھی ملتے ہیں۔ یہی وسعت اسے سترہویں صدی کے شمالی علاقوں کی تاریخ، جغرافیہ اور مذہبی سرگرمیوں کے مطالعے کا قابلِ قدر ماخذ بناتی ہے۔

ملامست زمند نے جہاں اپنے مرشد اخون سالاک کی مدح اور غازیوں کے جذبۂ ایثار کو موضوع بنایا، وہیں اُن لوگوں کو بھی یاد کیا جو ان سرگرمیوں میں جان سے گزر گئے۔ انہی اشعار میں لمٹی کے شہداء کا حوالہ ملتا ہے۔ شاعر کے مطابق جب وہ ان شہیدوں کو یاد کرتے ہیں تو فراق کے آنسو جاری ہوجاتے ہیں، سینے سے سرد آہ نکلتی ہے اور غم کی آگ دِل کو بے قرار کردیتی ہے۔ شعر میں معرکے کی تفصیل نہیں، مگر شہداء کی یاد اور جدائی کا درد نمایاں ہے۔

افغان مؤرخ علامہ عبدالحی حبیبی نے یہ شعر ’’سلوک الغزات‘‘ کے قلمی ماخذ سے محفوظ کیا۔ یوں ’’لمٹی‘‘ کا مختصر حوالہ سترہویں صدی کے ایک اہم تاریخی جغرافیائی اشارے کی صورت اختیار کرجاتا ہے۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ ملامست کا یہ لمٹی آخر کہاں تھا؟ اس سوال کا جواب صرف ادبی متن میں نہیں، بلکہ جغرافیہ، لسانیات اور مقامی روایات کو باہم ملا کر تلاش کیا جاسکتا ہے۔

دستیاب شواہد کی روشنی میں لمٹی کی سب سے مضبوط شناخت موجودہ دیر کوہستان کے ’’لاموتی‘‘ سے بنتی ہے۔ آج یہ مقام لاموتی یا لاموتائی کے نام سے معروف ہے، جبکہ لسانی ماخذوں میں لمٹی کی صورت بھی ملتی ہے۔ یہ مماثلت محض صوتی مشابہت نہیں، کیونکہ لاموتی اسی خطے میں واقع ہے جہاں اخون سالاک اور اُن سے وابستہ مذہبی سرگرمیوں کی تاریخی روایات پائی جاتی ہیں۔

لاموتی دریائے پنجکوڑہ کی بالائی وادی میں واقع ایک قدیم بستی ہے۔ اس کا تعلق تھل، کالکوٹ، بیار اور دیگر علاقوں سے رہا ہے، جبکہ پہاڑی راستوں کے ذریعے سوات کوہستان سے بھی اسکا رابطہ تھا۔ جدید لسانی مطالعات کے مطابق یہ خطہ گاوری زبان کی مختلف بولیوں کا مرکز رہا ہے۔ اِس لیے قدیم ’’لمٹی‘‘ اور موجودہ ’’لاموتی‘‘ کو ایک ہی جغرافیائی سلسلے میں دیکھنے کیلئے نام کیساتھ لسانی اور مکانی قرائن بھی موجود ہیں۔

اُنیسویں صدی کے انگریزی جغرافیائی ماخذ ’’دردستان‘‘ میں جارج ڈبلیو لیتمیئر نے لاموتی کا واضح ذکر کیا ہے۔ اسے دریائے پنجکوڑہ کے دائیں کنارے، کوہستانِ مالیزی میں واقع بتایا گیا ہے۔ ماخذ میں اس بستی کی آبادی اور باشندوں کے علاوہ لاموتی سے نکلنے والے ایک نالے کا بھی ذکر ہے، جو پنجکوڑہ میں شامل ہوتا تھا۔ کالام اور اُشو کی طرف جانیوالے راستے کا حوالہ بھی اسی جغرافیے کو واضح کرتا ہے۔

بیسویں صدی کے آغاز کے سرکاری ریکارڈ میں بھی یہ نام برقرار ملتا ہے۔ 1922ء کے حالات پر مشتمل ’’چترال، گلگت اور کوہستان کے راستے‘‘ میں مقام لاموتائی کے نام سے درج ہے۔ کالکوٹ کے بعد لاموتائی نالے اور پھر گاؤں کا ذکر آتا ہے اور اسے دیر کوہستان کی اہم آبادیوں میں شمار کیا گیا ہے۔ یوں اُنیسویں اور بیسویں صدی کے ماخذ ایک ہی مقام کی مسلسل شناخت پیش کرتے ہیں۔

لاموتی کی لسانی تاریخ بھی اس شناخت کو تقویت دیتی ہے۔ گاوری زبان کے تحقیقی مطالعات میں لاموتی کیساتھ لمٹی کی صورت ملتی ہے اور اسے دیر کوہستان کے اسی لسانی خطے سے منسلک کیا جاتا ہے۔ مقامی نام مختلف زبانوں میں تلفظ اور املا کی تبدیلیوں سے گزرتے رہے ہیں۔ چنانچہ ملامست کی سلوک الغزات میں لمٹی اور بعد کے ماخذوں میں ’’لاموتی‘‘ یا ’’لاموتائی‘‘ کا ملنا ایک قابلِ توجہ تاریخی قرینہ ہے۔

اخون سالاک سے متعلق مقامی روایات بھی اسی سمت اشارہ کرتی ہیں۔ 1980ء میں دیر کوہستان کا سفر کرنیوالے برطانوی جغرافیہ دان اسٹیورٹ ہِل گاڈفری نے مقامی بزرگوں سے جو روایات جمع کیں، ان میں اخون سالاک کا ذکر نمایاں ہے۔ لاموتی اور تھل کے لوگوں سے منقول روایات کے مطابق اُنکے آباؤ اجداد کے مسلمان ہونے میں اخون سالاک کا کردار تھا۔ یہ سترہویں صدی کی براہِ راست دستاویزی شہادت نہیں، تاہم مقامی حافظے میں انکی مذہبی سرگرمیوں کی موجودگی ضرور ظاہر کرتی ہے۔

اس بنا پر ملامست زمند کی ’’سلوک الغزات‘‘ میں مذکور لمٹی کی سب سے مضبوط شناخت موجودہ دیر کوہستان کا لاموتی بنتی ہے۔ سترہویں صدی کا نام ممکن ہے بعد کے ادوار میں لاموتی یا لاموتائی کی صورت اختیار کرگیا ہو۔ تاہم لمٹی کے واقعے کی تاریخ، فریقین اور شہداء کی تعداد ابھی تحقیق طلب ہے۔ اتنا ضرور کہا جاسکتا ہے کہ ملامست کا درد بھرا شعر ایک قدیم مقام اور اس سے وابستہ شہداء کی یاد محفوظ کیے ہوئے ہے؛ نام کی صورت بدلی، مگر پنجکوڑہ کی وادی میں اس مقام کا جغرافیائی حوالہ آج بھی قائم ہے۔