صحبتوں کے رنگ – گل عدن
.
صحبت انسان کی شخصیت سازی اور کردار کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اگر انسان اچھی صحبت اختیار کرے تو وہ کامیابی اور بھلائی کی راہ پر گامزن ہو جاتا ہے، اور اگر بری صحبت کا شکار ہو جائے تو اس کی زندگی برائیوں اور مشکلات سے بھر سکتی ہے۔ لیکن میری آج کی تحریر کا مقصد اچھی اور بری صحبت کی وضاحت کرنا نہیں ہے بلکہ آپ کی توجہ اس اہم نکتے کی طرف دلانا ہے جس سے ہم جان بوجھ کر نظریں چرائے رکھتے ہیں۔
جب جب اچھی اور بری صحبتوں کی بات ہوتی ہے، خاص طور پر اپنی اولاد کے معاملے میں، تو ہماری تنقیدی نظر اپنی ذات کے علاوہ اردگرد سب پر جاتی ہے۔ بحیثیت والدین، چاہے ہم جوائنٹ فیملی میں ہوں یا الگ گھر میں، بچوں کی بہترین تربیت کے معاملے میں ہمیں اپنے والدین، بہن بھائی، ساس سسر اور بہن بھائیوں کے بچے بہت بڑی “رکاوٹ” دکھائی دیتے ہیں۔ ہماری تنقیدی نظریں صرف دوسروں کا محاسبہ کرنے میں لگی رہتی ہیں، جبکہ ہم اپنے معاملے میں بڑے خوش گمان ہوتے ہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ ہماری صحبت ہمارے بچوں کے لیے سب سے زیادہ “محفوظ” ہے۔
اور یہ کچھ ناممکن بھی نہیں۔ ایسا ہو بھی سکتا ہے، بشرطیکہ آپ کا کردار، آپ کا اخلاق اور آپ کا رویہ گھر میں، آپس میں اور بچوں کے ساتھ بہترین اور اعلیٰ ہو۔ اس صورت میں بلا شبہ آپ کی اولاد برے سے برے ماحول اور صحبت میں بیٹھ کر بھی برا نہیں بنے گی۔
یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ بچے کی پہلی درسگاہ ماں کی گود اور پہلا استاد باپ ہوتا ہے۔ لہٰذا بچے کو وجود میں آنے کے بعد ملنے والی پہلی صحبت بہترین یا بدترین والدین کی صورت میں ملتی ہے۔ مثال کے طور پر بات بے بات چیختی ہوئی ماں یا باپ بچے کی ذہنی صحت کو تا عمر تباہ کرنے کے لیے کافی ہوتے ہیں۔ کیونکہ ہماری شخصیت پر دیرپا بلکہ مستقل اثرات ہمارے والدین کے رویے، اخلاق اور ہمارے ساتھ یا آپس میں ان کے برتاؤ کا ہوتا ہے۔
اگر ہمیں پہلی درسگاہ بہترین ملی ہو تو دنیا کی کوئی طاقت ہمیں برائی کے راستے پر نہیں ڈال سکتی۔ لیکن اگر بدقسمتی سے اولین ماحول ہی بدترین مل جائے تو پھر دنیا کی بڑی بڑی درسگاہیں اور بڑے بڑے استاد بھی ہمیں اچھائی کے راستے پر نہیں لا سکتے۔
مان لیجیے کہ اولاد اپنے والدین کا سو فیصد پرتو ہوتی ہے۔ بچہ ایک کورے کاغذ کی مانند ہوتا ہے جس پر جو کچھ لکھ دیا جائے وہی تاعمر اس کی شخصیت کا حصہ بن جاتا ہے۔ بچوں کی شخصیت، کردار اور مستقبل کی بنیاد والدین اپنے نرم یا جارحانہ رویوں سے رکھتے ہیں۔
ہماری اکثریت اپنے بچوں کو بہترین مستقبل دینا چاہتی ہے مگر بدترین حال سے گزار کر۔ جب بچے کی تربیت اور اس کی کردار سازی آپ کے ہاتھ میں ہوتی ہے تو اپنی غیر ذمہ دارانہ طبیعت کے ہاتھوں انہیں مفت کا مال یا کھلونا سمجھ کر قیمتی وقت گنوا دیتے ہیں۔ لیکن جب یہی اولاد چھبیس ستائیس سال کی عمر کو پہنچ جائے، یعنی پانی سر سے گزر جائے، تو اولاد کی ناکامیوں، کمزوریوں اور برائیوں کا ذمہ دار ایک دوسرے کو ٹھہرانا شروع کر دیتے ہیں، جس کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔
کتنی عجیب بات ہے کہ چھبیس سال کی اولاد میں ہمیں وہ تمام خوبیاں اور صفات چاہیے ہوتی ہیں جو کبھی خود ہمارے اعمال اور تربیت میں شامل نہیں تھیں۔ اب جا کر اولاد کو نشانہ بنائیں، اس کے یار دوستوں کو یا اپنے عزیزوں کو… کوئی فائدہ نہیں کیونکہ پانی سر سے گزر چکا ہوتا ہے۔
آپ نے سنا تو ہوگا:
“گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں۔”
لہٰذا ذرا نہیں بلکہ پورا سوچیے کہ کیا آپ کا ماحول اور آپ کی صحبت آپ کے بچوں کی ذہنی صحت کے لیے محفوظ ہے؟ کیونکہ یہ ایک سچائی ہے کہ صحبتوں کے رنگ بڑے پکے ہوتے ہیں۔ صحبتوں نے جو اثر دکھائے ہیں وہ نہ کسی کے نمک میں ملتے ہیں، نہ دودھ میں، نہ خون میں۔
ایک حدیث ہے کہ آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے۔ لہٰذا فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے کہ چاہیں تو اپنی اولاد کے اولین دوست بن جائیں یا دشمن۔ کیونکہ بعد میں ملنے والی تمام اچھی بری صحبتیں مل کر بھی اس تربیت کا مقابلہ نہیں کر سکتیں جو آپ نے اپنی صحبت میں سکھائی ہوتی ہے۔