سوشل میڈیا کا کردار اور چیلنجیز – تحریر: سردار علی سردارؔ
یہ ایک مسلۤمہ حقیقت ہے کہ آج کی دنیا انٹر نیٹ اور سائنسی تحقیق کی دنیا ہے جہاں ہر دن ایجادات کا لامتناہی سلسلہ جاری ہے جن میں سوشل میڈیا بھی ایک حقیقت ہے۔ اس کی اہمیت اور افادیت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا اور ہر آدمی کا نہ چاہتے ہوئے بھی اس سے واسطہ پڑتا ہے کیونکہ یہ سوشل میڈیا ہی ہے جس کے ذریعے سے ہر بندہ اپنے خیالات، احساسات، اپنے معلومات اور پسند و ناپسند کو ایک ہی لمحے میں دوسروں تک پہنچا سکتا ہے گویا سوشل میڈیا جدید دنیا میں رابطے کا ایک آسان ذریعہ ہے۔
آپ کومعلوم ہے کہ جدیدیت علمی، سائنسی، ثقافتی اور فکری بیداری کا نام ہے۔یہ نہ صرف جدید آلات،مواصلات کے ذرائع اور سہولیات کی دستیابی ہے بلکہ یہ فکری اور ذہنی تبدیلی کا نام ہے۔ اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر انسان اپنے خوابیدہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر کوئی تخلیقی کام کرےکیونکہ جدیدیت ایک (Dynamic process) کا نام ہے جس کا عام فہم تعریف یہ ہے کہ ہر شخص اپنے آپ کو علمی، ذہنی، عقلی اور شعوری طور پر اپنے اندر تخلیقی صلاحیت پیدا کرکے منفی رجحانات سے پرہیز کرے۔
مختصر یہ کہ ہماری دنیا جدیدیت کی طرف روان دوان ہے اور اسی وجہ سے ہماری دنیا ایک گلوبل ولیچ میں تبدیل ہو چکی ہے اور اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ ہماری دنیا سکڑ کر چھوٹی ہوتی جارہی ہے جیسا کہ پرنس کریم آغاخان چہارم نے 23 فروری 1969 ء کو فرمایا تھا کہ ” جیسے جیسے دنیا چھوٹی ہوتی جاتی ہے یہ بنیادی بات ہے کہ لوگوں کو مل کر کام کرنا چاہئے نہ کہ ایک دوسرے کے خلاف ہوکر اور آپ کو ماضی کی نسبت تھو ڑا زیادہ فراخ دل ہونے کی کوشش کرنی چاہئے “۔
پرنس کریم آغاخان کے اس ارشاد کے تناظر میں اگر دیکھا جائے تو بالکل ایسا ہی ہے کہ دنیا سوشل میڈیا اور الیکٹرونک میڈیا کی وجہ سے بہت چھوٹی رہ گئ ہے ۔ اس لئے آج کی دنیا کو گلوبل ویلچ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس گلوبل ویلچ میں زندگی گزارنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم مل کر کام کریں۔ ایک دوسرے کی رائے، مذہب ، اقدار اور عقائد کا احترام کریں اور ایک دوسرے کو سمجھنے کی کوشش کریں۔
یاد رکھیں اختلافات اس وقت جنم لیتی ہیں جب تعلیم کو غلط استعمال کی جائے اور غلطی یہ ہے کہ اپنے آپ کو صحیح اور دوسرے کو غلط قرار دیا جائے، اپنے طریقے کو صحیح اور دوسروں کے معاملات میں نقص ڈھونڈنے کی کوشش کی جائے۔ بدقسمتی سے سوشل میڈیا آج کل آسانی کے ساتھ یہ کام بھی کررہا ہے جس سے نئی نسل مغربیت سے متاثر ہوکر رہ گئی ہے اور اپنی شناخت پہچاننے کی کوشش بھی چھوڑ دی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شہزادہ کریم آغاخان نے 1983 ء میں کینیا میں فرمایا تھا کہ” میں نہیں چاہتا کہ تم مغرب سے متاثر ہو جاؤ اور یہ سوچتے ہوئےکبھی غلطی نہ کریں کہ مغرب سے جو کچھ بھی آتا ہے وہ صحیح ہےاور تیسری دنیا کی ہماری ہر روایت غلط ہے”۔
لیکن افسوس کہ آج کل ہماری نئی نسل مغرب سے بہت زیادہ متاثر ہوچکی ہے اور اپنی ثقافت اور اقدارِ حیات کو پس و پشت ڈال کر مغرب کی طرزِ زندگی کو اپنانے کی کوشش میں ہے۔نئی نسل کی نگاہ میں سوشل میڈیا کی ہر بات درست لگتی ہے حالانکہ وہ جھوٹی اور من گھڑت ہوتی ہے اور لوگ انہیں حقیقت سمجھ کر اس پر من و عن عمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو بعد میں پشیمانی کا سبب بنتی ہیں ۔ دینِ اسلام کی تعلیمات ہمیں بتاتی ہیں کہ کسی خبر کے آنے کے بعد اس کو عقل کے ترازو میں تول کر اس کی خوب چھان بین ہو ۔ جیسا کہ قرآن پاک میں ارشادِ خداوندی ہے” اے مسلمانو! اگر تمہیں کوئی فاسق خبر دے تو تم اس کو اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو ایسا نہ ہو کہ نادانی میں کسی قوم کو ایزا پہنچاؤ پھر بعد میں پشیمان ہوجاؤ”۔ 12/49
اس آیہ کریمہ سے یہ حقیقت واضح ہے کہ سوشل میڈیا کی کسی بھی خبرکو بغیر تحقیق کے اس پر عمل نہیں کرنی چاہئے جو بعد میں پشیمانی کا سبب بنے کیونکہ اس کے ذریعے سے بہت سے لوگ اپنے لئے گروپ بناتے ہیں جو مخالف کی باتوں کو غلط قرار دے کر اپنی ہی رائے اور نظریئے کو دوسروں پر مسلط کرتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ایسی من گھڑت افواہوں پر بھروسہ نہ کیا جائے بلکہ عقل اورٹحمل کے ساتھ ایک دوسرے کو سننے ، سمجھنے اور سمجھانے کا رویہ اپنانا چاہیئے۔
یاد رکھیں کہ سوشل میڈیا کے دو راستے ہیں۔ اس کا ایک حصہ انفرادی ہے جبکہ اس کا دوسرا حصہ عوامی ہے جیسا کہ فیس بک پبلک چیز ہے جبکہ مسیجیز پرسنل ہیں۔ لہذا سوشل میڈیا کے پبلک حصے کو استعمال کرتے ہوئےاحتیاط برتنے کی ضرورت ہے کیونکہ ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں مذہبی اور سیاسی انتہا پسندی اپنے عروج کو پہنچ چکا ہے اور لوگ ایک دوسرے کو برداشت نہیں کرتے ہیں۔ اس کے باوجود بھی لوگ اختلافات پر مبنی مواد ایک دوسرے کو ارسال کرتے رہتے ہیں جس سے اختلافات میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ اختلافات کی وجہ سے تخریبی سوچ جنم لیتی ہے اور بربادی اور تباہی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ ہمیں یہ اندازہ بھی نہیں ہوتا کہ ہم کتنے لاپرواہی اور غیر محسوص طریقے سے اپنے سماجی اقدار کو تباہی کے دہانے تک پہنچادیتے ہیں اور کسی کو بھی اس تباہی کے اثار دیکھائے نہیں دیتے ۔
ہمارے نوجوان نسل کو اس بات کی سمجھ آنی چاہیئے کہ سوشل میڈیا میں بحث و مباحثہ سے ایک دوسرے کو نقصان پہنچ سکتا ہے کیونکہ سوشل میڈیا میں لکھنے والے اوربولنے والے اکثر تعلیم یافتہ نہیں ہوتے جو اپنی بے علمی کی وجہ سے لوگوں میں مذہبی منافرت اور فرقہ ورانہ تعصب پیدا کرنے کے لئے بھی سوشل میڈیا میں موجود ہوتے ہیں۔ وہ خود اپنے عقیدے کو سمجھتے نہیں بلکہ دوسروں کو مذہب سکھانے کے لئے موجود ہوتے ہیں۔ نوجوانوں کو چاہیئے کہ وہ اپنے اچھے اقدار، مثبت سوچ ، اچھی روایات اور خدمات کو دوسروں کو بتا ئیں ۔ انہیں مشکل وقت میں انسانیت کی خدمت کا درس دیں اور ایسا معاشرہ تعمیر کریں جس میں محبت ہو ، امن ہو اور گوناگونی کا احترام ہو ۔ نوجوانوں کو چاہیئے کہ فیس بک اور واٹسپ پر مسچ لکھتے وقت الفاظ کا انتخاب سوچ سمجھ کر کریں تاکہ کسی بھی قسم کی توہین آمیز باتوں اور تحاریر سے بچا جاسکے۔
فیس بک اور واٹسپ پر مسیچ پاس کرتے ہوئے یہ خیال بھی کیا جائے کہ ہمارا ہر عمل اور انگلیوں کی حرکت گوگل کے لوحِ محفوظ میں ریکارڈ ہوتا جارہا ہے اور یہ آج کل کے نوجوانوں کے لئے CV کی حیثیت رکھتا ہے۔
مختصر یہ کہ ہمارے نوجوانوں کو دینِ اسلام کو سمجھنے کے لئے سوشل میڈیا کا سہارا نہیں لینا چاہیئے بلکہ نبی کریم ﷺ اور قرآنِ پاک کی تعلیمات کی روشنی میں اپنے دین کو سمجھنا ضروری ہے دینِ اسلام کی تعلیمات کو چھوڑ کر سوشل میڈیا کو اپنا مقصد بنانا کامیابی کا حصول نہیں ہے کیونکہ سوشل میڈیا میں اکثر بے حیائی اور بے شرمی کی تعلیم ملتی ہے۔ ہمیں اپنے بچوں کو اس سے پرہیز کرنے کی ہدایت کرنی چاہیئے کیونکہ یہ عمل دینی اصطلاح میں بے حیائی کہلاتی ہے۔ قرآن کا فیصلہ ہے ” اور تم فواحش یعنی بے حیائی کے قریب بھی نہ جاؤ” 9/ 151
اس پرُحکمت ہدایت کے باوجود بھی ہم فواحش کی طرف زیادہ مائل ہوتے ہیں اور اپنے دین کے زرین اصولوں کے مطابق عمل نہیں کرتے جس کی وجہ سے ہمارے نوجوانوں کو بہت سے چلینجیز کا سامنا کرنا پڑتا ہے جنہیں آج کل کے جدید دور میں حل کرنا مشکل بلکہ ناممکن ہوتا ہے۔
