چترال کی بیٹیوں کی خاموش سسکیاں: خودکشی یا معاشرتی قتل؟ – تحریر: قریش خٹک
.
وادیٔ چترال، جو اپنے پُرسکون مناظر، بلند و بالا پہاڑوں، جاندار ثقافت اور مہمان نواز لوگوں کی وجہ سے دنیا بھر میں ممتاز پہچان رکھتی ہے، آج ایک ایسے لرزہ خیز بحران کی لپیٹ میں ہے جو اس کی ظاہری خوبصورتی کے پیچھے چھپی تلخ حقیقتوں کو بے نقاب کر رہا ہے۔ یہ بحران خودکشی کا بڑھتا ہوا وہ رجحان ہے جس نے حالیہ برسوں میں ایک خاموش وبا کی شکل اختیار کر لی ہے۔ ضلع اپر اور لوئر چترال سے موصول ہونے والی خبریں روح فرسا ہیں، جہاں محض سال 2025 کے مختصر عرصے میں ہی درجنوں قیمتی زندگیاں وقت سے پہلے خزاں رسیدہ ہو گئیں۔
لیکن یہاں ایک بڑا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ محض “خودکشی” ہے, یا دراصل ہمارے فرسودہ سماجی ڈھانچے اور بے حس رویوں کے ہاتھوں ہونے والا ایک “معاشرتی قتل”؟ یہ سوال اس لیے اہم ہے کیونکہ عموماً خودکشی کو ایک انفرادی فعل سمجھ کر فائل بند کر دی جاتی ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس انتہائی قدم کے پیچھے سنگدلانہ سماجی دباؤ، روح فرسا گھریلو تشدد، نفسیاتی تنہائی اور صنفی جبر جیسے عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔ چترال کے حالیہ واقعات اسی گہرے سماجی بحران کا شاخسانہ ہیں، جہاں موت فرد کا انتخاب نہیں بلکہ حالات کی تلخ ترین مجبوری بن جاتی ہے۔
پاکستان بالعموم اور خیبر پختونخوا بالخصوص خواتین کے حقوق کے حوالے سے ایک کٹھن صورتحال کا شکار ہیں۔ صنفی مساوات کے عالمی اشاریوں میں ہمارا ملک مسلسل نچلے درجوں پر ہے؛ ورلڈ اکنامک فورم کے ‘گلوبل جینڈر گیپ انڈیکس 2025’ میں پاکستان 148 ممالک کی فہرست میں سب سے آخری درجے پر رہا۔ خواتین کی شرحِ خواندگی کا مردوں سے پیچھے ہونا اور زچگی کے دوران صحت کے ابتر نتائج اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ جب تک نصف آبادی کو بااختیار نہیں بنایا جاتا، معاشی و سماجی ترقی کا ہر خواب ادھورا رہے گا۔
چترال میں یہ صورتحال کہیں زیادہ المناک رخ اختیار کر رہی ہے۔ ‘پاکستان جرنل آف میڈیکل سائنسز’ (PJMS) کی حالیہ تحقیقی رپورٹ اور پولیس ریکارڈ کے مطابق، چترال میں خودکشی کے واقعات میں تشویشناک اضافہ ہوا ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 15 سے 30 سال کی نوجوان خواتین اس رجحان کا سب سے زیادہ شکار ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 2013 سے 2019 کے درمیان خودکشی کے 176 واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں سے 58 فیصد متاثرین نوجوان خواتین تھیں۔ اسی تسلسل میں سال 2025 کے دوران بھی 12 افراد نے موت کی آغوش میں پناہ لی، جن میں 7 خواتین شامل تھیں۔ ان میں اکثریت شادی شدہ اور تعلیم یافتہ افراد کی تھی، جو اس عام تصور کو رد کرتی ہے کہ تعلیم یا شادی خواتین کو ایسا تحفظ فراہم کرتی ہے جہاں وہ ذہنی دباؤ سے محفوظ رہ سکیں۔
یہ تضاد اس لیے بھی حیران کن ہے کہ چترال کو سیاسی طور پر ایک روشن خیال اور لبرل علاقہ سمجھا جاتا ہے، جہاں سے ایک خاتون براہِ راست منتخب ہو کر صوبائی اسمبلی کے اہم ترین ڈپٹی اسپیکر کےعہدے پر فائز ہیں۔ مگر یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ محض سیاسی نمائندگی سماجی تبدیلی کی ضمانت نہیں بن سکتی جب تک کہ نچلی سطح پر معاشرتی رویے نہ بدلیں۔
طبی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق، شادی شدہ خواتین میں اس رجحان کی سب سے بڑی وجہ گھریلو تشدد ہے۔ یہ تشدد محض جسمانی زخموں تک محدود نہیں بلکہ نفسیاتی اذیت کی صورت میں زیادہ گہرا ہے۔ اولاد کی پیدائش میں تاخیر پر بانجھ پن کے طعنے دینا، دوسری شادی کی دھمکیاں اور مسلسل ذہنی تذلیل عورت کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔ تحقیق میں شامل ایک متاثرہ خاتون کی بہن کا بیان دل چیر دینے والا ہے: “میری بہن روتے ہوئے کہتی تھی کہ اس کے پاس اب کوئی راستہ نہیں بچا، اس جہنم جیسی زندگی سے نجات کا واحد راستہ صرف موت ہے”۔
چترال کا مشترکہ خاندانی نظام، جو کبھی تحفظ کی علامت تھا، اب بہت سی خواتین کے لیے ایک قید خانہ بنتا جا رہا ہے۔ والدین کی جانب سے صبر کی تلقین اور اب یہی تمہارا گھر ہے جیسے جملے عورت کے لیے واپسی کے تمام راستے مسدود کر دیتے ہیں۔ سہیلیوں سے ملنے اور فون کے استعمال پر پابندیاں اسے مکمل تنہائی (Isolation) میں دھکیل دیتی ہیں۔ بڑے خاندانوں میں کام کا سارا بوجھ اکیلی عورت پر ڈالنا اسے جسمانی تھکن اور شدید ڈپریشن میں مبتلا کر دیتا ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ معاشرے کا ایک طبقہ آج بھی اس تشدد کو اصلاح کا نام دے کر جائز قرار دیتا ہے۔
حکومتی سطح پر بھی اقدامات کی شدید کمی محسوس ہوتی ہے۔ دونوں اضلاع میں خواتین کے لیے علیحدہ پولیس اسٹیشنز اور کونسلنگ مراکز کا نہ ہونا ایک بڑا خلا ہے۔ جب کوئی خاتون ذہنی دباؤ کا شکار ہوتی ہے تو اسے پیشہ ورانہ مدد کے بجائے نظر انداز کیے جانے والے رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔وقت کا تقاضا ہے کہ چترال کی بیٹیوں کو اس گرداب سے نکالنے کے لیے فوری اور مربوط اقدامات کیے جائیں۔ ماہرین کے مطابق، شادی شدہ خواتین کے لیے خصوصی “خودکشی روک تھام پروگرام” کا آغاز، گھریلو تشدد کے قوانین کا مؤثر نفاذ اور ذہنی صحت کی سہولیات تک آسان رسائی ناگزیر ہے۔ معاشرتی تبدیلی صرف قوانین سے نہیں بلکہ ذہنوں کی تبدیلی سے آتی ہے، اس لیے مردوں میں صنفی مساوات اور خواتین کے حقوق کے حوالے سے آگاہی پیدا کرنا لازم ہے۔
چترال کے پہاڑ شاید ان مظلوم عورتوں کی چیخیں اپنے اندر جذب کر لیتے ہیں، لیکن ان کی خاموش موتیں ہم سب کے ضمیر پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہیں۔ اگر ہم نے آج ان سسکیوں کو نہ سنا، تو یہ خاموشی کل ایک ایسے سماجی المیے کو جنم دے گی جہاں پچھتاوے کے سوا کچھ باقی نہیں رہے گا۔ ریاست، سماج اور خاندان؛ ہم سب کو مل کر اس خاموش قاتل کا راستہ روکنا ہوگا۔
