چترال میں بریسٹ کینسر(چھاتی کا سرطان) کے کیسز میں خاموش اضافہ، سماجی خاموشی تشویش ناک ، آگاہی اور بروقت تشخیص ناگزیر ۔ تحریر: شمشیر الہیٰ
چترال میں بریسٹ کینسر کے کیسز خاموشی سے بڑھتے جا رہے ہیں اور یہ تلخ حقیقت اب مزید نظر انداز نہیں کی جا سکتی۔ حال ہی میں اس موذی مرض کے باعث ہم نے اپنے کلاس فیلو اور دوست کی بہن کو کھو دیا، جو نہ صرف ایک خاندان بلکہ پورے معاشرے کے لیے ایک گہرا صدمہ ہے۔ یہ واقعہ اس امر کی واضح یاد دہانی ہے کہ بریسٹ کینسر محض ایک فرد یا گھر کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک سنجیدہ سماجی اور صحت کا بحران بنتا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق پاکستان میں صورتحال مزید تشویشناک ہے، جہاں ہر سال 90 ہزار سے زائد خواتین میں بریسٹ کینسر کی تشخیص ہوتی ہے جبکہ تقریباً 40 ہزار خواتین اس بیماری کے باعث جان کی بازی ہار جاتی ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں ہر آٹھ میں سے ایک خاتون کو زندگی کے کسی نہ کسی مرحلے پر بریسٹ کینسر کا سامنا ہو سکتا ہے، جبکہ خواتین میں ہونے والے تمام کینسرز میں سے 31 فیصد کیسز بریسٹ کینسر کے ہوتے ہیں۔
طبی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ اگر بریسٹ کینسر کی بروقت تشخیص ہو جائے تو اس کا علاج ممکن ہے اور قیمتی جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔ تاہم بدقسمتی سے چترال جیسے قدامت پسند معاشرے میں اس مرض پر بات کرنا آج بھی ایک ممنوع موضوع سمجھا جاتا ہے۔ شرمندگی، خوف اور سماجی دباؤ کے باعث اکثر خواتین خاموشی اختیار کر لیتی ہیں، اور یہی خاموشی بیماری کو خطرناک حد تک بڑھنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔
صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ بریسٹ کینسر بھی دیگر بیماریوں کی طرح ایک طبی مسئلہ ہے، جس میں نہ کوئی قصور ہے اور نہ ہی کوئی شرم۔ اگر کسی خاتون کو اپنے جسم میں کوئی غیر معمولی تبدیلی محسوس ہو تو فوری طور پر مستند ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔ جتنی جلدی بیماری کی تشخیص ہوگی، اتنا ہی علاج آسان، مؤثر اور کامیاب ہو سکے گا۔ بروقت تشخیص ہی شفا کی پہلی سیڑھی ہے۔
اس ضمن میں آغا خان رورل سپورٹ پروگرام اور آغاخان ہیلتھ سروس کی جانب سے آگاہی سیشنز کا انعقاد ایک حوصلہ افزا قدم قرار دیا جا رہا ہے، تاہم ماہرین اور سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ اب اس مسئلے کو سنجیدہ سرکاری توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔ ضلع میں اسکریننگ سہولیات، آگاہی مہمات اور خواتین کے لیے محفوظ طبی ماحول کی فراہمی ناگزیر ہو چکی ہے۔
سماجی کارکنوں کا مزید کہنا ہے کہ چترال کی بااثر خواتین، اساتذہ، سماجی رہنما اور مذہبی شخصیات کو بھی آگے آنا ہوگا تاکہ یہ پیغام ہر گھر، ہر ماں اور ہر بیٹی تک پہنچ سکے کہ بریسٹ کینسر سے لڑا جا سکتا ہے — خاموشی نہیں، آگاہی ہی زندگی بچا سکتی ہے۔

