اپر چترال : شگفتہ رحمت کا اعزاز، اٹلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری مکمل کرلی
۔
اپر چترال(نمائندہ چترال ٹائمز) میراگرام نمبر 1 مستوج سے تعلق رکھنے والے معروف قانون دان ایڈووکیٹ رحمت ولی خان کی صاحبزادی، شگفتہ رحمت نے اٹلی کی معروف یونیورسٹی آف نیپلز فیڈریکو دوم (University of Naples Federico II)، نیپلز سے انڈسٹریل پروڈکٹس اینڈ پروسیس انجینئرنگ میں کامیابی کے ساتھ پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کر لی ہے۔
یہ کامیابی نہ صرف ان کے لیے بلکہ ان کے والد ایڈووکیٹ رحمت ولی خان، ان کے خاندان اور پورے چترال کے لیے انتہائی خوشی اور فخر کا موقع ہے۔ ایک والد کے لیے اس سے بڑھ کر خوشی کی بات کیا ہو سکتی ہے کہ ان کی بیٹی علم و تحقیق کے سفر میں آگے بڑھتے ہوئے دنیا کی ایک ممتاز یونیورسٹی سے اعلیٰ ترین تعلیمی ڈگری حاصل کرے۔ اس کامیابی کے پیچھے ان کی اپنی محنت اور ثابت قدمی کے ساتھ ساتھ والدین کی حوصلہ افزائی، اعتماد اور تعلیم کو دی جانے والی اہمیت بھی نمایاں ہے۔
پی ایچ ڈی سے قبل انہوں نے پاکستان کی ممتاز نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (NUST) سے ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی، جس کے بعد اعلیٰ تعلیم اور تحقیق کا سفر انہیں پاکستان سے اٹلی لے گیا۔
اپنی پی ایچ ڈی کے دوران انہوں نے ایک نئی انجینئرنگ ٹیکنالوجی“Morphogenerator”پر تحقیق کی۔ آسان الفاظ میں، انہوں نے ایک ایسا نظام تیار کرنے پر کام کیا جس کے ذریعے نرم مادّوں اور خردبینی جانداروں، خصوصاً بیکٹیریا، کو صرف آپس میں ملانے کے بجائے مخصوص اور منظم شکلوں میں ترتیب دیا جا سکتا ہے۔
اس تحقیق کا مقصد یہ سمجھنا تھا کہ مادّوں اور جاندار خلیوں کی اندرونی ترتیب اور ان کے درمیان موجود فاصلے اور رابطے کو انجینئرنگ کے ذریعے کس طرح کنٹرول کیا جا سکتا ہے، اور یہ ترتیب ان کے رویّے اور کام کرنے کے انداز کو کیسے متاثر کر سکتی ہے۔ مستقبل میں اس نوعیت کی ٹیکنالوجی بایوپرنٹنگ، بایوٹیکنالوجی، مائیکروبیل انجینئرنگ اور جدید حیاتیاتی مواد کی تیاری جیسے شعبوں میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
ان کی تحقیق کے مختلف حصے بین الاقوامی سائنسی کانفرنسوں میں پیش کیے گئے اور معروف سائنسی جرائد میں شائع بھی ہوئے۔ ان کا تحقیقی کام انجینئرنگ، بایولوجی اور مٹیریل سائنس جیسے مختلف شعبوں کو ایک دوسرے سے جوڑتا ہے۔
میراگرام نمبر 1، اپر چترال سے اٹلی تک کا یہ علمی سفر یقیناً ایک غیر معمولی کامیابی ہے۔ یہ کامیابی اس بات کی بھی خوبصورت مثال ہے کہ جب والدین اپنی بیٹیوں کی تعلیم پر یقین رکھتے ہیں، ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور انہیں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرتے ہیں تو وہ عالمی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکتی ہیں۔
یہ کامیابی اپر چترال کے نوجوانوں، بالخصوص بیٹیوں اور طالبات کے لیے بھی ایک حوصلہ افزا پیغام ہے کہ محنت، تعلیم اور خاندان کی حمایت کے ساتھ دنیا کے بڑے تعلیمی اور تحقیقی اداروں تک پہنچنا ممکن ہے۔
