شدت پسندوں میں آؤٹ بڈنگ کی مہلک دوڑ – قادر خان یوسف زئی
جب ہم شدت پسندی کے عالمی نقشے پر نظر ڈالتے ہیں تو ایک ایسا خوفناک رخ سامنے آتا ہے جہاں خون ریزی صرف نظریاتی جنگ نہیں رہتی، بلکہ ایک ایسی منڈی کی شکل اختیار کر لیتی ہے جہاں ہر گروہ اپنے ”تشدد کے برانڈ” کو دوسرے سے بہتر اور بڑا ثابت کرنے کی کوشش میں جٹ جاتا ہے۔ سیاسیات کی اصطلاح میں اسے ”آؤٹ بڈنگ” کہا جاتا ہے۔ یہ محض ایک نظریہ نہیں بلکہ وہ تلخ حقیقت ہے جس نے گذشتہ دو دہائیوں میں دنیا بالخصوص جنوبی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کو آگ اور خون کے دریا میں دھکیل دیا ہے۔ اس رجحان کی بنیاد اس سادہ مگر لرزہ خیز منطق پر ہے کہ جب ایک ہی نظریاتی چھتری تلے کام کرنے والے متعدد گروہ ایک ہی علاقے میں موجود ہوں، تو ان کے درمیان وسائل، بھرتیوں اور عوامی (یا نظریاتی حامیوں کی) توجہ حاصل کرنے کی جنگ شروع ہو جاتی ہے۔ اس جنگ میں وہی گروہ فاتح قرار پاتا ہے جس کا وار زیادہ کاری، زیادہ خون آشام اور زیادہ میڈیا کوریج حاصل کرنے والا ہو۔
مریاہ بلوم کی تحقیق اس حوالے سے چشم کشا ہے، جس نے فلسطین کی مثال دے کر دنیا کو یہ سمجھایا کہ کس طرح حماس اور فتح کے درمیان سیاسی و عسکری مسابقت نے مسلح مزاحمت کے گراف کو اوپر پہنچایا۔ جب حماس نے اپنی کارروائیوں سے عوامی سطح پر مقبولیت سمیٹنا شروع کی، تو فتح جیسے نسبتاً اعتدال پسند گروہ کو بھی اپنی بقا اور سیاسی وجود برقرار رکھنے کے لیے اسی راہ پر چلنا پڑا،یہ مسابقت صرف مقامی گلی کوچوں تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ ایک عالمی فرنچائز کا روپ دھار چکی ہے۔ القاعدہ اور داعش کی مثال ہمارے سامنے ہے، جہاں مرکزی برانڈ سے وابستگی حاصل کرنے کے لیے ذیلی گروہ ایک دوسرے سے بڑھ کر انسانیت سوز کارروائیاں کرتے ہیں۔ عبداللہ عزام بریگیڈز کا تذکرہ یہاں ضروری ہے، جس نے 2011 کے بعد اپنی شناخت منوانے کے لیے خودکش حملوں کا وہ سلسلہ شروع کیا جس نے شام سے پاکستان تک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ 2013 میں بیروت میں ایرانی سفارت خانے پر ہونے والا حملہ اسی دوڑ کا نتیجہ تھا، جہاں مقصد صرف دشمن کو نقصان پہنچانا نہیں بلکہ عالمی جہادی منظرنامے پر یہ ثابت کرنا تھا کہ ”ہم سب سے زیادہ خطرناک ہیں ”۔
پاکستان کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہاں آؤٹ بڈنگ کا خونی کھیل تحریک طالبان پاکستان اور فرقہ ورانہ جیسی تنظیموں کے درمیان واضح نظر آتا ہے۔ فتنہ الخوارج نے جہاں فوجی تنصیبات پر حملوں کو اپنی شناخت بنایا، وہیں فرقہ وارانہ تشدد کی ایسی لہر پیدا کی جس کا مقصد اپنے مخصوص حلقہ اثر میں خود کو ناقابلِ شکست ثابت کرنا تھا۔ جب داعش (خراسان) نے اس میدان میں قدم رکھا، تو اس نے بھرتیوں کے لیے مقامی گروہوں کے جنگجوؤں کو اپنی طرف راغب کرنے کی کوشش کی۔ اس نئی مسابقت نے ٹی ٹی پی کو مجبور کیا کہ وہ اپنی ساکھ بچانے کے لیے حملوں کی شدت اور تعداد میں اضافہ کرے۔ یہ ایک ایسا شیطانی چکر ہے جس میں جتنا زیادہ مقابلہ ہوگا، عام شہری کی زندگی اتنی ہی ارزاں ہوتی جائے گی۔شام میں جبہہ النصرتہ اور داعش کی کشمکش نے بھی اسی رجحان کی تصدیق کی۔ جب ایک گروہ کسی مقامی آبادی یا گروہ کی حمایت حاصل کرتا ہے، تو دوسرا گروہ اسے چیلنج کرنے کے لیے مزید سفاکیت کا مظاہرہ کرتا ہے۔ الجزائر میں موحدون اور بلمختار گروہوں کے درمیان ان امیناس حملے کی صورت میں جو مسابقت دیکھی گئی، وہ میڈیا کی توجہ حاصل کرنے کا ایک گھناؤنا حربہ تھا تاکہ دنیا کو بتایا جا سکے کہ پرانے گروہوں کے مقابلے میں نئے گروہ زیادہ بڑے پیمانے پر ”آپریشن” کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔اس تمام صورتحال میں عوامی رائے عامہ کا کردار بڑا عجیب اور تضادات سے بھرپور ہوتا ہے۔
شدت پسند گروہ یہ سمجھتے ہیں کہ جتنا بڑا دھماکہ ہوگا، ریاست جتنی بے بس نظر آئے گی، اتنی ہی ان کی دھاک بیٹھے گی اور ”مایوس” نوجوان ان کی طرف راغب ہوں گے۔ کراچی جیسے معاشی حب میں ٹی ٹی پی فینہ الخوارج نے اسی بنیاد پر مافیا طرز کا ڈھانچہ کھڑا کیا، جہاں بھتہ خوری اور پولیس کو براہِ راست نشانہ بنانا ان کی اسٹریٹجی کا حصہ بنا۔
2001 سے 2014 تک کے عالمی اعداد و شمار اس امر کی گواہی دیتے ہیں کہ جیسے جیسے شدت پسند گروہوں میں تقسیم بڑھی اور نئے وابستہ گروہ سامنے آئے، دہشت گردی کی نوعیت تبدیل ہوتی گئی۔ اب ہدف صرف دشمن نہیں رہا، بلکہ حریف گروہ کو نیچا دکھانا بھی ایک مقصد بن گیا۔ داعش نے جب 2014 میں نام نہاد خلافت کا اعلان کیا، تو اس نے القاعدہ کے عشروں پرانے بیانیے کو براہِ راست چیلنج کیا، جس کے بعد دونوں تنظیموں کے درمیان دشمنوں کی فہرست ہی بدل گئی۔ اب وہ ایک دوسرے کے خلاف بھی اتنے ہی برسرِ پیکار ہیں جتنے کہ ریاست کے خلاف۔پاک افغان سرحد کا تزویراتی (Strategic) منظرنامہ اس وقت ”آؤٹ بڈنگ” کی ایک ایسی تجربہ گاہ بن چکا ہے جہاں تاریخ کے چند پیچیدہ ترین ابواب لکھے جا رہے ہیں۔ تو ہمیں معلوم ہوگا کہ یہاں شدت پسند گروہوں کی باہمی مسابقت اب محض بقا کی جنگ نہیں، بلکہ بالادستی کا ایک خونی مقابلہ بن چکی ہے جس نے اسلام آباد اور کابل کے تعلقات کو بھی ایک کڑی آزمائش میں ڈال دیا ہے۔
کابل میں افغان طالبان کی آمد کے بعد یہ گمان کیا جا رہا تھا کہ شاید تشدد کی لہر میں کمی آئے گی، لیکن حقیقت اس کے برعکس نکلی۔ یہاں دو بڑے کھلاڑی کالعدم تحریک طالبان پاکستان (TTP) اور داعش خراسان (ISKP)ایک دوسرے کے سامنے کھڑے ہیں۔ کالعدم ٹی ٹی پی کے لیے سب سے بڑا چیلنج اپنی صفوں کو برقرار رکھنا ہے، کیونکہ داعش خراسان ایک ایسے ”گلوبل برانڈ” کے طور پر ابھری ہے جو ٹی ٹی پی کے نظریاتی نوجوانوں کو اپنی طرف کھینچ رہی ہے۔ جب داعش نے ننگرہار اور کنڑ کے علاقوں میں قدم جمائے اور سرحد پار پاکستان کے شہری مراکز میں حملوں کی شدت بڑھائی، تو ٹی ٹی پی کے پاس اپنی ساکھ بچانے کا ایک ہی راستہ تھا۔ کیونکہ یہ ثابت کرنا کہ وہ اب بھی اس خطے کی سب سے بڑی ”مزاحمتی” قوت ہے۔ آپ نے غور کیا ہوگا کہ حالیہ برسوں میں کالعدم ٹی ٹی پی نے اپنی کارروائیوں میں ”سرجیکل” درستی لانے کی کوشش کی ہے، وہ اب سیکیورٹی فورسز اور تھانوں کو نشانہ بنا کر یہ پیغام دے رہے ہیں کہ ان کی جنگ ریاست کے خلاف ہے، جبکہ داعش خراسان مساجد اور عوامی مقامات کو نشانہ بنا کر زیادہ ”دہشت” پیدا کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔ یہ آؤٹ بڈنگ کی ایک ایسی شکل ہے جہاں ایک گروہ ”سیاسی جواز” تلاش کر رہا ہے اور دوسرا ”خالص دہشت” کے ذریعے اپنی دھاک بٹھا رہا ہے۔
