1936 سے آج تک شندور کے اصل وارثوں کو کیا ملا؟ – تحریر: نورالہدیٰ یفتالیٰ
.
تاریخ گواہ ہے کہ جب 1936ء میں شندور کے میدان میں پولو کا باقاعدہ انعقاد شروع ہوا تو نہ کوئی سیاحتی محکمہ موجود تھا، نہ سیکریٹری ٹورازم تھا، نہ سرکاری پروٹوکول تھا اور نہ ہی وی آئی پی کلچر۔ اس بلند و بالا چراگاہ میں صرف مقامی لوگ تھے، ان کے گھوڑے تھے، ان کے مال مویشی تھے اور ان کی زندگیاں تھیں جو نسل در نسل شندور سے وابستہ رہی ہیں۔ شندور محض ایک میدان نہیں بلکہ لاسپور کے لوگوں کی تاریخ، ثقافت اور شناخت کا ایک اہم حصہ ہے۔ اس سرزمین کے چشمے، گھاس زار اور چراگاہیں صدیوں سے مقامی آبادی کی زندگی کا سہارا رہی ہیں۔ سخت ترین سردیوں، برفانی طوفانوں اور دشوار حالات میں بھی انہی لوگوں نے اس علاقے کی حفاظت اور دیکھ بھال کی ہے۔

تاہم ایک بنیادی سوال آج بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ شندور پولو فیسٹیول سے حقیقی فائدہ کس کو ہو رہا ہے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا واضح جواب دیا جانا چاہیے۔ جب فیسٹیول کا وقت آتا ہے تو اہم فیصلے اکثر دور بیٹھے لوگ کرتے ہیں، جبکہ مقامی آبادی فیصلہ سازی کے عمل میں وہ کردار حاصل نہیں کر پاتی جس کی وہ حق دار ہے۔ وہ لوگ جو سال بھر اس علاقے کے نگہبان ہوتے ہیں، منصوبہ بندی، ترقیاتی عمل اور فوائد کی تقسیم میں مناسب نمائندگی سے محروم رہ جاتے ہیں، جبکہ چند روز کے لیے آنے والے بااثر حلقے تمام توجہ، سہولیات اور مراعات کا مرکز بن جاتے ہیں۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ زمین لاسپور کی ہے، چراگاہ لاسپور کی ہے، تاریخ لاسپور کی ہے اور اس کھیل کی بنیادیں بھی مقامی لوگوں نے رکھی تھیں، لیکن اکثر مواقع پر نمائندگی، اختیارات اور مراعات کسی اور کے حصے میں آتی ہیں۔ اس صورتحال نے مقامی آبادی میں احساسِ محرومی کو جنم دیا ہے، جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
یہ سوال بھی اہم ہے کہ شندور کے اولین گھڑسوار کون تھے؟ وہ کون لوگ تھے جنہوں نے بغیر کسی سرکاری سرپرستی، بغیر انعامات اور بغیر حفاظتی سازوسامان کے اس میدان میں پولو کھیلا؟ وہ لاسپور کے نوجوان تھے، جن کے بزرگ گھوڑے پالتے، انہیں تربیت دیتے اور شندور کے میدان میں اپنی مہارت کا مظاہرہ کرتے تھے۔ یہی لوگ اس کھیل کی اصل روایت کے امین تھے اور انہی کی بدولت یہ کھیل نسل در نسل زندہ رہا۔
فیسٹیول کے دوران ہزاروں سیاح شندور کا رخ کرتے ہیں۔ سیاحت یقیناً خوش آئند ہے اور اس سے علاقے کی پہچان میں اضافہ ہوتا ہے، لیکن اس کے ساتھ پیدا ہونے والے ماحولیاتی مسائل کا بوجھ بھی مقامی آبادی کو ہی اٹھانا پڑتا ہے۔ پلاسٹک کا فضلہ، آلودگی اور چراگاہوں کو پہنچنے والا نقصان بالآخر ان خاندانوں اور مال مویشیوں کو متاثر کرتا ہے جن کا روزگار اسی زمین سے وابستہ ہے۔

گزشتہ کئی دہائیوں میں شندور کے نام پر بڑے بڑے ترقیاتی منصوبوں، فنڈز اور میڈیا کوریج کا ذکر ہوتا رہا ہے۔ ملک کے اعلیٰ حکومتی، عسکری اور سیاسی عہدیدار یہاں آتے رہے ہیں، لیکن مقامی آبادی آج بھی بنیادی سہولیات کے حوالے سے متعدد مسائل کا سامنا کر رہی ہے۔ یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ شندور کی شہرت، وسائل اور ترقیاتی سرگرمیوں سے مقامی لوگوں کو عملی طور پر کتنا فائدہ پہنچا ہے۔
یہ کوئی خیرات، احسان یا رعایت کا مطالبہ نہیں بلکہ لاسپور کے عوام کا جائز، قانونی اور تاریخی حق ہے۔ شندور کے نام پر حاصل ہونے والے فنڈز، ترقیاتی منصوبوں اور آمدن میں لاسپور کا حصہ کسی کی مرضی یا سخاوت کا محتاج نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے ایک تسلیم شدہ حق کے طور پر یقینی بنایا جانا چاہیے۔

مزید یہ مناسب نہیں کہ زمین لاسپور کی ہو، قربانیاں لاسپور کے عوام دیں، ماحولیاتی نقصان اور معاشی بوجھ بھی وہی برداشت کریں، لیکن فیصلوں، وسائل اور فوائد میں ان کی شمولیت محدود رہے۔ مقامی پولو کھلاڑیوں کو نمائشی وعدوں کے بجائے مساوی مواقع، جدید تربیت اور ضروری سہولیات فراہم کی جانی چاہئیں تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار کر سکیں۔
چراگاہوں، ماحولیات اور مال مویشیوں کے تحفظ کے لیے سخت اور قابلِ عمل قوانین نافذ کیے جائیں۔ شندور سے متعلق ہر اہم فیصلے میں لاسپور کے عوام کو محض سامع نہیں بلکہ بااختیار شراکت دار کی حیثیت دی جائے۔ جب تک مقامی آبادی کو اس کا جائز حق نہیں ملتا، شندور کی ترقی اور اس کے نام پر کیے جانے والے دعوے ادھورے رہیں گے۔

صحت، تعلیم، سڑکوں، بجلی اور پینے کے صاف پانی جیسی بنیادی سہولیات کو ترجیحی بنیادوں پر بہتر بنایا جانا چاہیے۔ شندور صرف ایک سیاحتی مقام نہیں بلکہ ایک تاریخی ورثہ، ایک ثقافتی شناخت اور ہزاروں مقامی لوگوں کی زندگیوں سے جڑا ہوا نام ہے۔ اگر اس ورثے کے اصل نگہبانوں کو مسلسل نظرانداز کیا جاتا رہا تو احساسِ محرومی میں مزید اضافہ ہوگا اور ترقی کے دعوے اپنی معنویت کھو بیٹھیں گے۔
وقت آ گیا ہے کہ لاسپور کو تماشائی نہیں بلکہ شراکت دار سمجھا جائے، کیونکہ جس سرزمین کی حفاظت نسلوں سے مقامی لوگ کرتے آئے ہیں، اس کے مستقبل کے فیصلوں میں ان کی آواز سب سے زیادہ اہم ہونی چاہیے۔
