The Voice of Chitral since 2004
Saturday, 31 October 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

 شندور–گلگت روڈ منصوبہ کی فزیکل پروگریس 67.33 فیصد جبکہ چترال–بونی مستوج–شندور روڈ منصوبہ کی 40 فیصد تک کام پہنچ گیا ہے۔ وفاقی وزیرمنصوبہ بندی کو بریفنگ

Chitral Times

 شندور–گلگت روڈ منصوبہ کی فزیکل پروگریس 67.33 فیصد جبکہ چترال–بونی مستوج–شندور روڈ منصوبہ کی 40 فیصد تک کام پہنچ گیا ہے۔ وفاقی وزیرمنصوبہ بندی کو بریفنگ

 شندور–گلگت روڈ منصوبہ کی فزیکل پروگریس 67.33 فیصد جبکہ چترال–بونی مستوج–شندور روڈ منصوبہ کی 40 فیصد تک کام پہنچ گیا ہے۔ وفاقی وزیرمنصوبہ بندی کو بریفنگ

 شندور–گلگت روڈ منصوبہ کی فزیکل پروگریس 67.33 فیصد جبکہ چترال–بونی مستوج–شندور روڈ منصوبہ کی 40 فیصد تک کام پہنچ گیا ہے۔ وفاقی وزیرمنصوبہ بندی کو بریفنگ

وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کا این ایچ اے کے ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر اور بلاجواز لاگت میں اضافے پر سخت مؤقف

۔

اسلام آباد(نمائندہ چترال ٹائمز )وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات احسن اقبال نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کو ہدایت جاری کی ہے کہ پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کی جائیں، اہم قومی شاہراہوں اور موٹرویز پر کام کی رفتار تیز کی جائے اور عوامی فنڈز کا شفاف اور مؤثر استعمال یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بلاجواز لاگت میں اضافے، غیر شفاف مالی دعووں اور منصوبوں کی کمزور نگرانی کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔وزیر منصوبہ بندی نے زور دیا کہ ترقیاتی بجٹ عوام کا پیسہ ہے اور اسے شفافیت، مالی نظم و ضبط اور جوابدہی کے ساتھ استعمال کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے حکام کو ہدایت دی کہ لاگت میں اضافے، تعمیراتی مقدار اور شرحوں میں تبدیلیوں اور ٹھیکیداروں کے اضافی دعووں کی مکمل چھان بین کی جائے تاکہ قومی خزانے پر غیر ضروری مالی بوجھ نہ پڑے۔ انہوں نے کہا کہ منصوبوں کی نگرانی کاغذی کارروائی کے بجائے حقیقی فزیکل پروگریس، اخراجات اور تکمیل کے اہداف پر مرکوز ہونی چاہیے اور متعلقہ حکام اہم منصوبوں کی موجودہ صورتحال، مالی ضروریات اور نفاذ میں درپیش رکاوٹوں پر جامع رپورٹ تیار کریں جو وزیراعظم کو پیش کی جائے تاکہ بروقت فیصلے ممکن ہوں اور منصوبوں کی تکمیل میں تیزی آئے۔پی ایس ڈی پی کے تحت جاری این ایچ اے کے منصوبوں اہم شاہراہوں اور موٹرویز کے منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے وزیر کو بتایا گیا کہ 216 کلومیٹر طویل شندور –گلگت روڈ منصوبہ، جس کی لاگت 49,946.070 ملین روپے ہے، اسکی ابھی تک فزیکل پروگریس 67.33 فیصد ہو چکی ہے جبکہ 153 کلومیٹر طویل چترال–بونی مستوج–شندور د روڈ منصوبہ، لاگت 17,783.193 ملین روپے ہے، 40 فیصد تک کام پہنچ گیا ہے۔

وفاقی وزیر نے ان اسٹریٹجک راستوں پر کام تیز کرنے پر زور دیا تاکہ دور دراز علاقوں میں رابطے بہتر ہوں اور معاشی سرگرمیاں فروغ پائیں۔ کراچی–کوئٹہ–چمن روڈ (این 25) کی 273 کلومیٹر طویل سڑک کو دو رویہ بنا ء  اور بحالی کے کام کے لیے کل لاگت 183,421.427 ملین روپے ہے، اس منصوبے میں ابھی تک 19.25 فیصد فزیکل پیش رفت ہو چکی ہے، وفاقی وزیر احسن اقبال نے اس اہم کوریڈور بشمول کراچی–کراڑو اور وڈھ–خضدار حصوں پر کام تیز کرنے کی اہمیت پر زور دیا تاکہ ان علاقوں سمیت ان سے ملحقہ علاقوں میں رابطہ کاری اور تجارت مضبوط ہو۔اجلاس میں بتایا گیا کہ انڈس ہائی وے پر 221.9 کلومیٹر طویل شکارپور–راجن پور ایڈیشنل کیریج وے منصوبہ لاگت 44,703.890 ملین روپے ہے، اس منصوبے پر 62 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے، جبکہ 121.5 کلومیٹر طویل راجن پور–ڈیرہ غازی خان سیکشن لاگت 63,150.570 ملین روپے ہے، اراضی کے حصول اور آبادکاری کے مسائل کی وجہ سے لیٹرز آف ایوارڈ کا منتظر ہے۔ 208.19 کلومیٹر طویل ڈیرہ غازی خان–ڈیرہ اسماعیل خان سیکشن، جس کی لاگت 111,940.070 ملین روپے ہے۔ یہ منصوبہ ایوارڈ ہو چکا ہے اور ٹھیکیدار فی الوقت موبلائزیشن کے مرحلے میں ہیں۔

وزیر نے حکام کو ہدایت دی کہ موجودہ مسائل کو فوری طور پر حل کر کے ان منصوبوں پر عمل درآمد تیز کی جائے۔اجلاس میں مزید بتایا گیا کہ 306 کلومیٹر طویل حیدرآباد–سکھر موٹروے (ایم -6)، جس کے پی سی ون لاگت 363,700 ملین روپے ہے، اور لواری ٹنل کے برقی و مکینیکل کام، جن کی لاگت 33,250 ملین روپے ہے، فی الوقت پروکیورمنٹ کے مرحلے میں ہیں، احسن اقبال نے حکام کو ہدایت دی کہ طریقہ کار کی رکاوٹیں دور کر کے پروکیورمنٹ کا عمل تیز کیا جائے تاکہ ان اہم منصوبوں پر پیش رفت یقینی بنائی جائے۔ وزیر نے 210 کلومیٹر طویل موجودہ این-50 کو دو رویہ بنانے اور بہتری کا بھی جائزہ لیا جو یارک سے ساگو کے راستے ڑوب تک ہے، بشمول ڑوب بائی پاس، جس کی لاگت 76,486.231 ملین روپے ہے اور جو 10 فیصد کام مکمل ہو چکا۔ وفاقی وزیر نے این ایچ اے حکام کو ہدایت دی کہ اس منصوبے پر عمل درآمد تیز کیا جائے اور مالی و انتظامی رکاوٹیں دور کی جائیں۔

وزیر نے ایم-6 سکھر–حیدرآباد موٹروے، این -55 انڈس ہائی وے، این-25 کراچی–کوئٹہ–چمن کوریڈور اور کوئٹہ–ڑوب روڈ نیٹ ورک کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان منصوبوں کی بروقت تکمیل معاشی ترقی، تجارت اور علاقائی رابطے کے لیے ناگزیر ہے اور عملی حکمت عملیوں، واضح نفاذ کی ٹائم لائنز اور مؤثر ہم آہنگی کے ذریعے ترقیاتی اہداف حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ ٹھیکیداروں کی جانب سے پیش کیے گئے غیر معمولی لاگت میں اضافے اور مالی دعووں کا جائزہ لیتے ہوئے احسن اقبال نے ہدایت دی کہ تمام دعووں کی مکمل تکنیکی، معاہداتی اور مالی چھان بین کی جائے اور انجینئرز، پروجیکٹ ڈائریکٹرز اور کنسلٹنٹس اپنی ذمہ داریاں مؤثر طریقے سے ادا کریں، جبکہ منصوبوں کے نفاذ کے ہر مرحلے پر نگرانی اور جوابدہی کے نظام کو مضبوط بنایا جائے۔

انہوں نے منصوبوں کی لاگت، تعمیراتی معیار، مقدار اور اضافی مالی دعووں کے جائزے کے لیے آزاد تھرڈ پارٹی تصدیق کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ تصدیقی عمل غیر جانبدار اور مفادات کے تصادم سے پاک ہونا چاہیے تاکہ منصوبوں کے اخراجات کا معروضی جائزہ ممکن ہو اور عوامی وسائل کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔انہوں نے ہدایت دی کہ ایسے منصوبوں کی نشاندہی کی جائے جو محدود اضافی فنڈز کی فراہمی سے مکمل کیے جا سکتے ہیں، جبکہ مالی یا انتظامی رکاوٹوں کا سامنا کرنے والے منصوبوں کے لیے واضح ایکشن پلان، متعین ذمہ داریاں اور باقاعدہ ٹائم لائنز بنائی جائیں، اور متعلقہ حکام بائی پاس منصوبے سے متعلق موجودہ مسائل اور مالی دعووں کے حل کے لیے 15 روز کے اندر قابل عمل تجاویز پیش کریں۔

احسن اقبال نے کہا کہ قومی شاہراہوں کے منصوبے محض تعمیراتی اسکیمیں نہیں بلکہ پاکستان کی معاشی ترقی، سرمایہ کاری کے ماحول، صنعتی ترقی اور علاقائی تجارت کی بنیاد ہیں اور ان کی بروقت تکمیل سے نقل و حمل کے اخراجات کم ہوں گے، منڈیوں تک رسائی بہتر ہوگی اور ملک کے مختلف علاقوں کے درمیان معاشی روابط مضبوط ہوں گے۔ وزیر نے حکومت کے شفاف اور جوابدہ ترقی کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ مؤثر نگرانی، مالی نظم و ضبط اور عوامی وسائل کا دانشمندانہ استعمال منصوبوں کے نفاذ کا مرکز رہے گا تاکہ عوامی سرمایہ کاری کے فوائد بروقت عوام تک پہنچ سکیں۔