شیخ ادریس کی شہادت ایک عظیم سانحہ – تحریر: ثناء اللہ مجیدی
.
یہ دنیا ہمیشہ سے آزمائشوں کی آماجگاہ رہی ہے، جہاں حق و باطل کی کشمکش کبھی تھمی نہیں۔ تاریخ کے صفحات اس حقیقت کے گواہ ہیں کہ جب بھی اہلِ حق نے صداقت کی آواز بلند کی، باطل نے اسے دبانے کی کوشش کی۔ مگر بعض واقعات ایسے ہوتے ہیں جو محض ایک حادثہ نہیں رہتے بلکہ ایک عہد کی ترجمانی بن جاتے ہیں، دلوں پر گہرا نقش چھوڑ جاتے ہیں اور پوری قوم کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتے ہیں۔ انہی دردناک سانحات میں سے ایک سانحہ شیخ ادریس کی شہادت ہے، جس نے ہر صاحبِ دل کو رنج و الم میں مبتلا کر دیا اور ہمیں ایک بار پھر سوچنے پر مجبور کر دیا کہ آخر اہلِ حق ہی کیوں نشانہ بنتے ہیں۔
شیخ ادریس ایک نام نہیں بلکہ ایک کردار، ایک فکر اور ایک مشن کا عنوان تھے۔ وہ ان علماء میں شمار ہوتے تھے جنہوں نے اپنی زندگی علمِ دین کی خدمت، تدریس اور اصلاحِ معاشرہ کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ ان کی شخصیت میں علم کی گہرائی، عمل کی سچائی اور اخلاق کی بلندی نمایاں تھی۔ وہ نہ صرف ایک بہترین استاد تھے بلکہ ایک شفیق مربی، ایک مخلص داعی اور ایک باعمل رہنما بھی تھے۔ ان کے حلقۂ درس میں بیٹھنے والے طلبہ نہ صرف علم حاصل کرتے بلکہ کردار سازی کے وہ اصول بھی سیکھتے جو انہیں ایک بہتر انسان بناتے۔
یہ سانحہ اس وقت پیش آیا جب وہ درسِ حدیث دینے کے لیے اپنے معمول کے مطابق جامعہ حقانیہ کی جانب روانہ تھے۔ طلبہ ان کے منتظر تھے، دلوں میں اشتیاق تھا کہ آج بھی وہ اپنے استاد کی زبان سے علم کے موتی سنیں گے، مگر تقدیر کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ راستے میں ہی نامعلوم حملہ آوروں نے ان پر فائرنگ کر دی اور وہ جامِ شہادت نوش کر گئے۔ یوں ایک ایسا چراغ بجھ گیا جس کی روشنی دور دور تک پھیلی ہوئی تھی۔
جب یہ خبر جامعہ پہنچی تو وہاں کی فضا یکسر بدل گئی۔ جو جگہ علم، ذکر اور سکون کی علامت تھی، وہاں اچانک غم کا سایہ چھا گیا۔ طلبہ غم سے نڈھال ہو گئے، آنکھوں سے آنسو رواں تھے اور دل اس صدمے کو برداشت کرنے سے قاصر تھے۔ وہ استاد جس کے گرد ان کی امیدیں وابستہ تھیں، جو ان کی فکری اور روحانی تربیت کا ذریعہ تھا، اچانک ان سے جدا ہو گیا۔ یہ صرف ایک استاد کی جدائی نہ تھی بلکہ ایک پورے علمی و تربیتی نظام کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان تھا۔
شیخ ادریس کی شہادت ہمیں یہ یاد دلاتی ہے کہ علم کا راستہ کبھی آسان نہیں ہوتا۔ یہ راستہ قربانی، صبر اور استقامت کا تقاضا کرتا ہے۔ جو لوگ اس راہ کو اختیار کرتے ہیں، انہیں آزمائشوں سے گزرنا پڑتا ہے، مگر یہی لوگ تاریخ میں امر ہو جاتے ہیں۔ ان کی زندگیاں اور ان کی قربانیاں آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بن جاتی ہیں۔
یہ سوال بھی نہایت اہم ہے کہ علماء کو ہی کیوں نشانہ بنایا جاتا ہے؟ اس کی ایک بنیادی وجہ یہ ہے کہ علماء معاشرے کی فکری بنیاد ہوتے ہیں۔ وہ لوگوں کو شعور دیتے ہیں، انہیں حق و باطل میں فرق سکھاتے ہیں اور انہیں صحیح راستے پر چلنے کی رہنمائی کرتے ہیں۔ جب ایسے افراد کو راستے سے ہٹا دیا جائے تو معاشرہ خود بخود گمراہی کی طرف بڑھنے لگتا ہے۔ اسی لیے تاریخ گواہ ہے کہ ہر دور میں اہلِ حق کو نشانہ بنایا گیا، مگر وہ اپنے مشن سے پیچھے نہیں ہٹے۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہم اپنے علماء کی قدر پوری طرح نہیں کرتے۔ ہم ان سے علم حاصل کرتے ہیں، ان کی باتیں سنتے ہیں، مگر ان کے تحفظ کے لیے سنجیدہ اقدامات نہیں کرتے۔ ایسے واقعات ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ کیا ہم نے اپنی ذمہ داری پوری کی؟ کیا ہم نے اپنے علماء کو وہ مقام دیا جس کے وہ حق دار ہیں؟
شیخ ادریس کی شہادت ایک پیغام ہے، ایک صدا ہے جو ہمیں بیدار کرنے کے لیے کافی ہے۔ یہ ہمیں دعوت دیتی ہے کہ ہم اپنے اندر جھانکیں، اپنے کردار کا جائزہ لیں اور اپنے معاشرے کو بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔ ہمیں ان کے مشن کو آگے بڑھانا ہوگا، ان کی تعلیمات کو عام کرنا ہوگا اور ان کے پیغام کو زندہ رکھنا ہوگا۔
اسلام ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ ظلم کے خلاف ڈٹ کر کھڑے ہوں اور حق کا ساتھ دیں۔ اگر ہم خاموش رہیں گے تو یہ خاموشی خود ایک جرم بن جائے گی۔ ہمیں اپنی آواز بلند کرنی ہوگی، نہ صرف الفاظ کے ذریعے بلکہ اپنے عمل کے ذریعے بھی۔ ہمیں معاشرے میں عدل، انصاف اور امن کے قیام کے لیے کوشش کرنی ہوگی۔
یہ بھی نہایت ضروری ہے کہ ہم اپنی نئی نسل کو علماء کی اہمیت سے آگاہ کریں۔ انہیں یہ شعور دیا جائے کہ علماء ہمارے دین کے محافظ ہیں، ہماری رہنمائی کرتے ہیں اور ہمیں سیدھا راستہ دکھاتے ہیں۔ اگر ہم نے ان کی قدر نہ کی تو ہم اپنی بنیادوں کو کمزور کر دیں گے، اور ایک کمزور بنیاد پر مضبوط عمارت کھڑی نہیں کی جا سکتی۔
شیخ ادریس کی شہادت ہمیں صبر، استقامت اور یقین کا درس بھی دیتی ہے۔ یہ ہمیں سکھاتی ہے کہ مشکلات کے باوجود حق کا راستہ نہیں چھوڑنا چاہیے۔ ہمیں ہر حال میں اپنے ایمان کو مضبوط رکھنا ہوگا اور اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسہ کرنا ہوگا۔ یہی وہ قوت ہے جو انسان کو ہر آزمائش میں ثابت قدم رکھتی ہے۔
یہ ایک المیہ ہے کہ ایسے سانحات کے بعد وقتی طور پر غم و غصہ ظاہر کیا جاتا ہے، مگر کچھ عرصے بعد سب کچھ فراموش کر دیا جاتا ہے۔ ہمیں اس رویے کو بدلنا ہوگا۔ ہمیں ان واقعات کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا ہوگا، ان سے سبق حاصل کرنا ہوگا اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنے ہوں گے۔
معاشرے میں امن اور استحکام اسی وقت ممکن ہے جب علم کو عزت دی جائے اور علماء کو تحفظ فراہم کیا جائے۔ ہمیں اختلافات کو برداشت کرنا سیکھنا ہوگا، ایک دوسرے کا احترام کرنا ہوگا اور اتحاد و یگانگت کو فروغ دینا ہوگا۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں ترقی اور کامیابی کی طرف لے جا سکتا ہے۔
یہ سانحہ ہمیں ایک اور اہم سبق بھی دیتا ہے کہ زندگی عارضی ہے اور ہر انسان کو ایک دن اس دنیا سے جانا ہے۔ اصل کامیابی اس بات میں ہے کہ انسان اپنی زندگی کو کس مقصد کے لیے گزارتا ہے۔ شیخ ادریس نے اپنی زندگی علم اور دین کی خدمت میں گزاری، اور اسی راہ میں شہادت کا مقام پایا۔ یہ ان کے لیے ایک عظیم سعادت ہے۔
بالآخر یہ حقیقت پوری وضاحت کے ساتھ سامنے آتی ہے کہ شیخ ادریس کی شہادت محض ایک فرد کا نقصان نہیں بلکہ پوری امت کا سانحہ ہے۔ یہ ایک ایسا زخم ہے جو دلوں میں ہمیشہ تازہ رہے گا۔ ہمیں اس سانحے کو اپنی بیداری، اصلاح اور اتحاد کا ذریعہ بنانا ہوگا تاکہ ہم ایک ایسا معاشرہ تشکیل دے سکیں جہاں علم محفوظ ہو، علماء باعزت ہوں اور حق کی آواز ہمیشہ بلند رہے۔
