شادیر، ریشن: ہماری غفلت اور اجتماعی ذمہ داری – تحریر: احتشام الرحمن
شادیر، ریشن کی تباہی کوئی اچانک پیش آنے والا حادثہ نہیں، بلکہ یہ ایک طویل عرصے سے جاری غفلت، ناقص منصوبہ بندی اور اجتماعی لاپرواہی کا نتیجہ ہے۔ پچھلے کئی سالوں سے ریشن، شادیر کے مقام پر دریائے چترال کی بے رحم موجوں کی زد میں ہے، جس کے باعث سینکڑوں ایکڑ قیمتی زرعی زمین تباہ ہو چکی ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اس سنگین صورتِ حال پر حکومت طویل عرصے تک خاموش تماشائی بنی رہی۔
یہ علاقہ صرف ریشن یا شادیر کے مکینوں کے لیے ہی اہم نہیں بلکہ پوری چترال کے لیے شہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ یہی واحد راستہ ہے جو اپر چترال اور لوئر چترال کو آپس میں ملاتا ہے۔ اگرچہ بعض لوگ لون اور گوہکیر کے متبادل راستے کی بات کرتے ہیں، مگر وہ نہ تو عملی ہے اور نہ ہی قابلِ عمل، کیونکہ اس صورت میں کئی علاقے سڑک کی بنیادی سہولت سے محروم ہو جائیں گے۔ اس لیے شادیر کا یہ راستہ ناگزیر ہے اور اس کی حفاظت سب کی مشترکہ ذمہ داری بنتی ہے۔
آج کل اس مسئلے پر ہر طرف بحث جاری ہے۔ کوئی پی ٹی آئی حکومت کو نااہل قرار دے رہا ہے، کوئی سابقہ حکومتوں کو ذمہ دار ٹھہرا رہا ہے، کوئی ایم پی اے کو گالیاں دے رہا ہے تو کوئی ایم این اے کو نشانہ بنا رہا ہے۔ مگر اگر غیرجانبداری سے دیکھا جائے تو جتنی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے، اتنی ہی ذمہ داری عوام پر بھی بنتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ کوئی نیا منصوبہ نہیں۔ مختلف ادوار میں یہاں کام ہوتا رہا ہے، مگر چترالیوں کا ایک عجیب مزاج ہے۔ جب بھی کسی ترقیاتی منصوبے پر کام شروع ہوتا ہے تو لوگ اس قدر خوشی کا اظہار کرتے ہیں جیسے کسی بچے کو نیا کھلونا مل گیا ہو۔ اس خوشی میں وہ انجینئرز اور ٹھیکیداروں کی اندھی حمایت شروع کر دیتے ہیں۔ انہیں غیر ضروری پروٹوکول دیا جاتا ہے، کھانے پینے کا بندوبست مقامی لوگ کرتے ہیں، بکریاں ذبح کر کے دعوتیں دی جاتی ہیں۔ مزدوروں کو کھانا کھلانا بلاشبہ ایک اچھا عمل ہے، مگر یہ اہلِ علاقہ کی نہیں بلکہ ٹھیکیدار کی ذمہ داری ہوتی ہے۔
یہ رویہ صرف سرکاری منصوبوں تک محدود نہیں۔ جب بھی کوئی این جی او کسی علاقے میں کام شروع کرتی ہے، چاہے وہ نہر ہو یا پن بجلی گھر، سروے یا معائنے کے لیے آنے والے انجینئرز اور افسران کو بھی یہی غیر ضروری پروٹوکول دیا جاتا ہے۔ چترالی روایات کے نام پر اپنایا گیا یہ غلط طرزِ عمل اکثر منصوبوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے، کیونکہ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ٹھیکیدار معیار کے بجائے خوشنودی کو ترجیح دیتے ہیں اور کام ادھورا یا ناقص چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔ ایسے کئی منصوبے اسی رویے کی وجہ سے تباہ و برباد ہو چکے ہیں۔
اگر خاص طور پر ریشن کے مقام کو دیکھا جائے تو تصویر اور بھی واضح ہو جاتی ہے۔ جب پہلی بار ٹھیکیدار نے وہاں کام شروع کیا تو مقامی لوگوں نے اس کے حق میں نعرے لگائے اور بھرپور حمایت کی۔ مگر اس نے ریت سے دیواریں بنانے کے مترادف ناقص کام کیا، جو بالآخر دریائے چترال کی نذر ہو گیا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اب وہی ٹھیکیدار دوبارہ اسی جگہ کام کر رہا ہے، اور وہی مقامی لوگ ایک بار پھر اس کی حمایت میں کھڑے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر وہ معیاری کام کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا تو پہلی بار اس نے درست کام کیوں نہیں کیا؟ اور اگر پہلی بار کام ناقص تھا تو اس بار اس کے بہتر ہونے کی کیا ضمانت ہے؟
یہ مسئلہ صرف ریشن یا شادیر تک محدود نہیں۔ اس سے قبل چترال روڈ کے منصوبے میں بھی، جب مرحوم صحافی گل حماد فاروقی نے ناقص تعمیر پر سوال اٹھایا تو ان پر یہ الزام لگایا گیا کہ وہ ترقیاتی کام میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں۔ اسی طرح شادیر میں بھی، جب کوئی شخص ناقص کام کے خلاف آواز اٹھاتا ہے تو بدقسمتی سے مقامی لوگ خود اس کے خلاف کھڑے ہو جاتے ہیں۔
ٹھیکیدار اکثر یہ کہہ کر دباؤ ڈالتا ہے کہ وہ اپنے پیسوں سے کام کر رہا ہے اور اگر اسے روکا گیا تو وہ کام چھوڑ کر چلا جائے گا، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ نہ وہ اس کا ننھیال ہے اور نہ سسرال کہ مفت میں کام کرے۔ اگر وہ کام کر رہا ہے تو اس کا پورا معاوضہ اسے ملا ہے یا ملے گا، اور اسی لیے وہ وہاں موجود ہے۔
آخر میں اہلِ علاقہ سے یہی گزارش ہے کہ وہ ٹھیکیداروں، اداروں یا کسی بھی منصوبے کو اندھی حمایت فراہم کرنے کے بجائے اپنے حقوق کو پہچانیں۔ جہاں کہیں بھی غلط یا ناقص کام ہو، چاہے وہ حکومت کرے یا کوئی این جی او، اس کے خلاف آواز اٹھانا جرم نہیں بلکہ ذمہ داری ہے۔ یاد رکھیے، حق بات کہنے سے منصوبے خراب نہیں ہوتے بلکہ بہتر اور پائیدار بنتے ہیں۔ چترالی روایات کے نام پر ٹھیکیداروں اور انجینئروں کی غیر ضروری ضیافتوں اور خوشامد کا سلسلہ ختم کیے بغیر معیاری کام ممکن نہیں۔ اصل بہتری اسی وقت آئے گی جب ان سے مناسب فاصلہ رکھ کر اصولوں اور معیار کی بنیاد پر کام کروایا جائے، نہ کہ دعوتوں اور تعریفوں کے ذریعے۔


