سیرتِ محسن انسانیت ﷺ – بکھرے معاشرے کی آخری امید ۔ تحریر: ثناءاللہ مجیدی
پاکستان آج ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں ہر سمت مایوسی کے بادل گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ سیاست ذاتی مفادات کی بھینٹ چڑھ چکی ہے، معیشت دم توڑتی سانسیں لے رہی ہے مہنگائی کا عروج فلک تک پہنچ چکا غریب کے دسترس سے دو وقت کی روٹی باہر، اور اخلاقی اقدار جو کبھی ہماری پہچان تھیں، اب مٹی میں مدفون ہو چکی ہیں۔ قوم کے دل سے یقین اٹھ چکا ہے، زبان سے سچ غائب ہے، اور کردار سے دیانت ناپید۔ جھوٹ نے سچائی کا لبادہ اوڑھ لیا ہے، منافقت نے خلوص کو قید کر دیا ہے، اور قانون طاقتوروں کے قدموں میں پڑا سسک رہا ہے۔یہ وہ منظرنامہ ہے جو مکہ و مدینہ کے اُس عہدِ جاہلیت کی یاد تازہ کر دیتا ہے
جہاں دولت کو عزت اور کمزوری کو عیب سمجھا جاتا تھا،جہاں انصاف کی کرسی پر ظلم مسلط تھا،
اور انسانیت نفع و نقصان کی ترازو میں تولی جاتی تھی۔مگر پھر تاریخ نے وہ دن بھی دیکھا جب انہی اندھیروں کے بیچ ایک نور ہدایت طلوع ہوا
ایسا نور جس نے ظلمت کو مٹا کر عدل و رحمت کی بنیاد رکھی وہ روشنی تھی سیرتِ محمد ﷺ کی
جو دلوں کو منور کرنے، کرداروں کو سنوارنے اور انسانیت کو عزت دینے آئی۔
آج اگر ہم واقعی خود کو بدلنا چاہتے ہیں ترقی کی راہ پر گامزن ہونا چاہتے ہیں تو ہمیں پارلیمنٹ کی قراردادوں، جلسوں کی گھن گرج، یا عالمی اداروں کے قرضوں میں نہیں، بلکہ سیرتِ مصطفیٰ ﷺ کے اُس چراغ میں روشنی تلاش کرنی ہوگی جو مایوس دلوں کو امید، کمزوروں کو حوصلہ،اور بکھرے معاشرے کو وحدت عطا کرتا ہے۔کیونکہ جس معاشرے نے سیرتِ محمد ﷺ کو اپنا منشور بنا لیا، اسے کوئی بحران نہیں ڈرا سکتا ہے، نہ زوال روک سکتا ہے۔نبیِ کریم ﷺ نے جس معاشرے کی بنیاد رکھی، وہ دنیا کی تاریخ میں عدل و انصاف کی روشن ترین مثال ہے۔ آپ ﷺ نے ظلم و جبر اور طبقاتی تفاوت میں ڈوبے ہوئے معاشرے کو امانت، اخلاق اور عدل و قناعت ایثار حق وصداقت جیسے کے اصولوں پر استوار کیا۔
وہ واقعہ عظیم اسلامی معاشرے انصاف مساوات اور عدلِ نبوی ﷺ کا زندہ مظہر ہے: جب ایک بااثر عورت نے چوری کی، تو معاشرتی روایات کے مطابق قبیلے کی شان و عظمت کو طاقت سمجھ کر بعض لوگوں نے انصاف کو خریدنے کی کوشش کی۔ عزت و طاقت والوں کو چھوڑ کر کمزور پر سزا نافذ کی جائے۔ یہی وہ موقع ہے جہاں اسلام نے ظلم و جبر اور طاقت کے نظام کو ملیا میٹ کردیا نبیِ کریم ﷺ نے سفارش کی پیشکش پر سختی دکھائی, نہ اس لیے کہ وہ رحم و مروّت سے بیگانہ تھے، بلکہ اس لیے کہ آپ ﷺ کا رحمِ حقیقی تبھی بامقصد تھا جب وہ حق کے تابع ہو۔ آپ ﷺ کا وہ تند جواب اور منبر پر اعلان یہ پیغام تھا کہ شریعت کی حدود اقتدارِ انسانوں کے سائے میں مدھم نہیں پڑ سکتیں۔ “کیا تم سفارش کرتے ہو اللہ کی مقرر کردہ حد کے بارے میں؟” یہ صرف ایک جملہ نہیں، بلکہ ایک اٹل اصول ہے: اللہ کا حکم سب پر یکساں لاگو ہوتا ہے، چاہے وہ کون سا مقام رکھتا ہو۔
آپ ﷺ نے عدالتِ الٰہی اور دنیاوی انصاف کی ہم آہنگی کی مثال دی: طاقتور کو چھوڑ دینا اور کمزور پر سزائے نافذ کرنا اُن قوموں کی ہلاکت کا سبب رہا ہے۔ پھر وہ صریح کلام، جو دلوں میں خوفِ خدا اور مساواتِ انسانی کا شعور جگا دے: اگر میری بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو میں اس کا ہاتھ کاٹ دوں گا۔ (صحیح بخاری) یہ بیان دراصل جذباتی یا جارحانہ اظہار نہیں، بلکہ عدلِ الٰہی مقصد اصلی اور ذاتی محبت کو قانون کے مقابلے میں ثانوی قرار دینے کی واضح علامت ہے۔اس واقعے سے ہمیں دو بڑے اسباق ملتے ہیں: ایک یہ کہ انصاف وہ ستون ہے جس پر معاشرہ قائم رہتا ہے، اور اگر اس ستون کو کمزور یا مخصوص طبقات کے مفاد کے مطابق توڑا جائے تو پورا گھر منہدم ہوجاتا ہے۔ دوسرا یہ کہ دینِ اسلام میں مساوات عارضی شعار نہیں ہے بلکہ یہ عملی ضابطۂ حیات ہے جو حاکم اور محکوم، امیر اور غریب، عزیز اور بیگانے سب پر یکساں طور پر لاگو ہوتا ہے۔
آج جب ہم اس واقعے کو یاد کرتے ہیں تو یہ صرف ماضی کا قصہ نہیں رہتا، بلکہ ایک زندہ نصیحت بن کر حاضر ہوتا ہے: اقتدار کے اختیار میں وسوسے آنے لگیں تو نبی ﷺ کے اس اوصافِ عدل کو یاد کریں، اور ہر اس فیصلے سے پہلے جو ہم کرتے ہیں، انصاف کی تلوار کو سامنے رکھیں کیونکہ کسی بھی قوم کا معیار اسی سے ماپا جاتا ہے کہ وہ کس قدر کمزوروں کا مؤقف سن سکتی ہے اور کس حد تک طاقتوروں کو قانون کے برابر لا سکتی ہے۔
آپ ﷺ نے فرمایا:بیشک انصاف کرنے والے وہ ہیں جو اپنے فیصلوں میں اور اپنے اہل و عیال کے درمیان عدل کرتے ہیں، قیامت کے دن وہ نور کے منبروں پر اللہ کے دائیں جانب ہوں گے۔”(صحیح مسلم)
یہی وہ عدلِ محمدی ﷺ تھا جس نے دشمنوں کو دوست بنایا، قبیلوں کی جنگوں کو بھائی چارے میں بدلا اور ٹوٹے دلوں کو جوڑا۔ مدینہ کی ریاست میں انصاف صرف کہا نہیں جاتا تھا بلکہ عملی طور پر نافذ ہوتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ وہاں امن و محبت نے جڑ پکڑی، اور ہر فرد کو اپنے حق کا یقین حاصل تھا۔
آج ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ عدل کے ترازو میں رشتہ، حیثیت اور طاقت کے باٹ رکھ دیے گئے ہیں۔طاقتور جرم کرے تو تاویلیں اور حیلے تراشے جاتے ہیں،جبکہ کمزور خطا کرے تو قانون فوراً جاگ اٹھتا ہے۔یہی وہ دوہرا معیار ہے جو قوموں کی جڑیں کھوکھلی کرتا ہے اور انصاف کے ستون گرا دیتا ہے۔اگر آج ہمارے حکمران عدلِ نبوی ﷺ کو اپنا شعار بنا لیں تو کرپشن تاریخ کا بابِ ماضی بن جائے،اگر تاجر آپ ﷺ کی امانت داری کو زندگی کا اصول بنا لیں تو مہنگائی کی آگ بجھ سکتی ہے،اور اگر عوام سیرتِ نبوی ﷺ کے اخلاق کو اپنا لیں تو نفرتوں کی دیواریں ڈھا کر محبت کے دروازے کھل سکتے ہیں۔
شریعت محمدی ہی وہ میزان ہے جس پر معاشرہ تولا جاسکتا ہے،اور یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر امت دوبارہ زندہ ہو سکتی ہے۔آج ہمیں نئے نعروں کی نہیں،
بلکہ محمد ﷺ کے پرانے مگر ابدی اصولوں کی ضرورت ہے۔کیونکہ انہی میں ہمارے بکھرے ہوئے معاشرے کی نجات،ہمارے وطن کی بہار،اور ہمارے مستقبل کی سب سے بڑی امید چھپی ہوی ہے۔
یااللہ! ہمیں نبیِ کریم ﷺ کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق دے،ہمیں عدل و امانت کا پیکر بنا،
اور ہمارے وطن اور معاشرے کو سیرتِ محمد ﷺ کے نور سے منور فرما۔ آمین۔
