گلگت میں موسمیاتی تبدیلی، ہماری اجتماعی ذمہ داری کے موضوع پر سیمینار
گلگت(نمائندہ چترال ٹائمز ) گلگت میں “موسمیاتی تبدیلی، ہماری اجتماعی ذمہ داری” کے موضوع پر ایک سیمینار اسماعیلی سیوک پاکستان، ورلڈ وائڈ فنڈ فار نیچر (WWF) پاکستان، اور آغا خان فاؤنڈیشن پاکستان کے اشتراک سے منعقد کیا گیا۔ اس تقریب میں حکومتی نمائندوں، سول سوسائٹی تنظیموں، ماحولیاتی و ترقیاتی ماہرین، شراکت دار اداروں اور میڈیا نے شرکت کی تاکہ ملک میں بالعموم اور گلگت بلتستان میں بالخصوص بڑھتے ہوئے موسمیاتی چیلنجز کے عملی حل کے لیے تبادلہ خیال کیا جا سکے اور ایک مشترکہ لائحہ عمل ترتیب دیا جاسکے۔
سیمینار میں خطے میں موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات پر تشویش کا اظہار کیا گیا، جن میں گلیشیئرز کا تیزی سے پگھلنا، غیر متوقع بارشیں، اور فلیش فلڈز شامل ہیں، جن کے نتیجے میں جانی نقصان ، انفراسٹرکچر کو نقصان، کمیونٹیز کی بے دخلی، اور روزگار میں خلل پیدا ہوا ہے۔ اسماعیلی سیوک، WWF-پاکستان، آغا خان ڈیولپمنٹ نیٹ ورک، ماحولیاتی تحفظ ایجنسی، اور UNDP GLOF-II کے نمائندوں نے کمیونٹی کی قیادت میں پائیداری کے اقدامات، پالیسی فریم ورک، اور سابقہ مداخلتوں سے حاصل شدہ اسباق پر روشنی ڈالی۔
“پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں شامل ہے، اور گلگت بلتستان میں حالیہ سیلاب ہمیں فوری عمل کی ضرورت کا احساس دلاتے ہیں،” افضل شہاب الدین، ممبر کمیونیکیشن، اسماعیلی کونسل برائے پاکستان نے کہا، “موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے مضبوط شہری شمولیت پر مبنی، جدید اور کمیونٹی کی قیادت میں دوررس حل ناگزیر ہیں۔ جب کمیونٹیز ذمہ داری سنبھالتی ہیں تو دیرپا اثرات ممکن ہوجاتے ہیں۔”
سیمینار میں ایک پینل مباحثے میں حیدر رضا (WWF-پاکستان)، ثوبیہ مصطفیٰ (EPA)، محمد زمان (AKRSP)، اور کرن قاسم (میڈیا) نے عالیہ جبین کی میزبانی میں شرکت کی ۔ اس مباحثے میں حکومت، سول سوسائٹی اور کمیونٹیز کے درمیان طویل مدتی منصوبہ بندی اور باہمی تعاون کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
حیدر رضا، ڈائریکٹر نارتھ، WWF-پاکستان نے اپنے خطاب میں کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے کے لیے کمیونٹی آگہی اور روایتی علوم/معلومات کو موسمیاتی تبدیلی کی حکمت عملی کا لازمی حصہ بنایا جانا چاہیے۔
سیمینار کے لیے اپنے پیغام میں، اسماعیلی کونسل برائے پاکستان کے صدر نزار میواوالا نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنا اسماعیلی امامت اور AKDN ایجنسیوں کے وژن کا دیرینہ حصہ رہا ہے۔ حالیہ سیلابی امدادی سرگرمیوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مستقبل میں وسائل طویل مدتی مزاحمت کو فروغ دینے اور ابتدائی وارننگ سسٹمز کے قیام پر مرکوز ہوں گے ۔
ماحولیاتی تحفظ اور موسمیاتی تبدیلی کے تدارک کے اپنے مینڈیٹ کے مطابق، آغا خان ڈیولپمنٹ نیٹ ورک (AKDN) پیرس معاہدے کے تحت گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی کے لیے سرگرم عمل ہے اور 2030 تک صفر کاربن اخراج کے ہدف کے حصول کے لیے پرعزم ہے۔
مختلف پس منظر سے تعلق رکھنے والے ماہرین کو اکٹھا کر کے، سیمینار کا مقصد مشترکہ فہم کو فروغ دینا، باہمی تعاون کو مضبوط بنانا، اور ایسے مشترکہ اقدامات کی حوصلہ افزائی کرنا تھا جو خصوصاً ” پاکستان کے شمالی علاقوں میں موسمیاتی مزاحمت اور پائیدار ترقی کو تقویت دیں۔
سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے، ثوبیہ مصطفیٰ، ڈپٹی ڈائریکٹر، گلگت بلتستان ، ماحولیاتی تحفظ ایجنسی (EPA) نے کہا“گلگت بلتستان میں موسمیاتی پالیسیاں موجود ہیں، تاہم اصل چیلنج ان کا باقاعدگی سے جائزہ لینا اور ان پر صحیح معنوں میں عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے۔ کمیونٹیز موسمیاتی لحاظ سے فعال طریقے اپنانے اور مقامی اقدامات کو آگے بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں، کیونکہ ان کی فعال شمولیت سب سے دیرپا اثر پیدا کرتی ہے۔”



