The Voice of Chitral since 2004
Wednesday, 12 August 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

سیلاب زدگان کے زخموں پر تماشائیوں کا بوجھ – صلاح الدین صالح

Chitral Times

سیلاب زدگان کے زخموں پر تماشائیوں کا بوجھ – صلاح الدین صالح

سیلاب زدگان کے زخموں پر تماشائیوں کا بوجھ – صلاح الدین صالح

سیلاب زدگان کے زخموں پر تماشائیوں کا بوجھ – صلاح الدین صالح

.
قدرتی آفات ہمیشہ اپنے ساتھ تباہی، بے بسی اور دکھ لے کر آتی ہیں، مگر بعض اوقات انسانوں کا غیر ذمہ دارانہ رویہ اس دکھ کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔ حالیہ سیلابی ریلوں کے دوران چترال کے علاقے ژوغور شوت میں جہاں کئی خاندانوں کے گھر، کھیت، باغات اور روزگار متاثر ہوئے، وہیں بعض غیر ضروری اور بے مقصد آمدورفت نے سیلاب متاثرین کی مشکلات میں مزید اضافہ کیا۔

سیلاب آنے کے بعد قریبی رشتہ داروں اور مخلص دوستوں کا متاثرہ خاندانوں کے پاس حال احوال پوچھنے کے لیے پہنچنا ایک فطری اور قابلِ قدر عمل ہے۔ ایسے مشکل وقت میں اپنوں کی موجودگی حوصلہ دیتی ہے، دل مضبوط کرتی ہے اور متاثرین کو یہ احساس دلاتی ہے کہ وہ اکیلے نہیں ہیں۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمدردی کے نام پر آنے والوں میں ایک بڑی تعداد ایسے لوگوں کی بھی تھی جو صرف تماشا دیکھنے یا تجسس کی خاطر متاثرہ علاقوں کا رخ کر رہے تھے۔

سیلاب کی تباہ کاری اپنی جگہ ایک بڑا المیہ تھی، مگر اس کے بعد لوگوں کی بے احتیاطی نے متاثرین کے لیے ایک نئی پریشانی پیدا کردی۔ سڑکیں بند ہونے کی وجہ سے بعض افراد نے کھیتوں، باغات اور سبزیوں کی کیاریوں سے گزرنے کو راستہ بنا لیا۔ یوں متاثرہ خاندانوں کی جو فصلیں اور سبزیاں سیلاب سے بچ گئی تھیں، وہ لوگوں کے قدموں تلے روند دی گئیں۔ کئی باغات میں بچے کھچے پھل ضائع ہوئے اور محنت کش خاندانوں کو مزید مالی نقصان برداشت کرنا پڑا۔

یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ دیہاتی لوگوں کے لیے کھیت، باغ اور سبزیوں کی کیاریاں محض زمین کا ایک ٹکڑا نہیں ہوتیں بلکہ یہی ان کی سال بھر کی محنت، آمدنی اور خوراک کا ذریعہ ہوتی ہیں۔ ایک شخص کے لیے چند قدم چل کر گزر جانا شاید معمولی بات ہو، مگر ایک متاثرہ کسان کے لیے یہی چند قدم اس کی مہینوں کی محنت کو برباد کر سکتے ہیں۔

متاثرین کی شکایات میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ بعض غیر ذمہ دار افراد نے آکر کنوؤں کے پمپس خراب کر دیے۔ سیلاب کے بعد صاف پانی کا حصول پہلے ہی ایک بڑا مسئلہ بن جاتا ہے۔ ایسے وقت میں پانی کے پمپ کو نقصان پہنچانا صرف ایک گھر کو نہیں بلکہ پورے خاندان کو مشکل میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ اسی طرح ایک متاثرہ خاندان کی دیسی مرغی کو ایک آنے والے شخص کے کتے نے کھا لیا۔ بظاہر یہ واقعہ معمولی محسوس ہوسکتا ہے، لیکن جس خاندان نے پہلے ہی سیلاب میں اپنا گھر، فصل یا سامان کھویا ہو، اس کے لیے گھر کے چند جانور اور پرندے بھی قیمتی اثاثہ ہوتے ہیں۔

قدرتی آفت کے دوران متاثرہ علاقوں کا دورہ تفریح یا تماشے کے لیے نہیں ہونا چاہیے۔ اگر کسی کو واقعی مدد کا جذبہ ہے تو وہ راشن، پینے کا پانی، ادویات، کپڑے، خیمے یا دیگر ضروری سامان لے کر آئے، انتظامیہ اور مقامی رضاکاروں کے ساتھ رابطہ کرے اور متاثرین کی اجازت کے بغیر ان کے گھروں، کھیتوں اور باغات میں داخل نہ ہو۔

ضلعی انتظامیہ، منتخب نمائندوں اور مقامی عمائدین کی بھی ذمہ داری ہے کہ متاثرہ علاقوں میں غیر ضروری آمدورفت کو محدود کریں۔ آمدورفت کے لیے عارضی راستے مقرر کیے جائیں تاکہ لوگوں کے کھیت اور باغات مزید نقصان سے محفوظ رہیں۔ متاثرہ خاندانوں کی اجازت کے بغیر کسی بھی زمین سے گزرنے، پانی کے پمپ یا دیگر سامان کو ہاتھ لگانے پر پابندی ہونی چاہیے۔ ضرورت پڑنے پر رضاکاروں اور مقامی نوجوانوں کی مدد سے راستوں کی نگرانی بھی کی جاسکتی ہے۔

ہمیں یہ فرق سمجھنا ہوگا کہ مصیبت زدہ لوگوں کے پاس ہمدردی کے لیے جانا اور ان کی مشکلات کو بڑھانے کے لیے ہجوم بنانا دو الگ چیزیں ہیں۔ سیلاب متاثرین کو تماشائیوں کی نہیں، مددگار ہاتھوں، مخلص آوازوں اور ذمہ دار رویوں کی ضرورت ہے۔ ان کے زخم پہلے ہی گہرے ہیں؛ ہمیں ان پر قدم رکھنے کے بجائے مرہم رکھنا چاہیے۔

سیلاب قدرت کا امتحان تھا، مگر متاثرین کے ساتھ ہمارا رویہ ہمارے کردار کا امتحان ہے۔ ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم مشکل کی اس گھڑی میں مددگار بنیں گے یا بے مقصد ہجوم کا حصہ۔

chitraltimes jughoor gahirat flood and rehabilitation 7

chitraltimes jughoor gahirat flood and rehabilitation 22 chitraltimes jughoor gahirat flood and rehabilitation 21 chitraltimes jughoor gahirat flood and rehabilitation 2