سرزمینِ فلس طین: امن منصوبہ کے نام پر سازش ۔ تحریر: ثناء اللہ مجیدی
دو سال سے خون کی ایک ہولی جاری ہے۔ غ زہ کی مٹی معصوم بچوں کے لاشوں سے لپٹی ہوئی ہے۔ اس رائیل نے اپنے جنگی جہازوں اور ٹینکوں کے ذریعے غزہ کو کھنڈر بنا ڈالا ہے۔ انسانی تاریخ میں ایسے لرزہ خیز مناظر کم ہی ملتے ہیں جو آج فلسطین کے اندر دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ اس رائیل نے گزشتہ دو برسوں میں 66 ہزار فلسطینی شہید کر دیے، جن میں بچے اور عورتیں بھی شامل ہیں۔
غزہ کی تباہ حال عمارتیں، ہسپتالوں کے کھنڈر، سکولوں کے ملبے، مساجد کے اجڑے محراب اور قبرستانوں کی بڑھتی ہوئی قطاریں دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہیں۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ عالمی طاقتوں کے ضمیر پر پردہ پڑ چکا ہے۔ انسانی حقوق کی علمبردار تنظیمیں اور ادارے بھی صرف بیانات تک محدود ہیں اقوام متحدہ کی قراردادیں صرف کاغذ کے ٹکڑے ہیں۔
ایسے نازک وقت میں ایک “21 نکاتی امن منصوبہ” سامنے آتا ہے، اور وہ بھی اسی امریکہ کی جانب سے جو بارہا فلسطینی عوام کے حق میں آنے والی عالمی قراردادوں کو ویٹو کرتا رہا ہے۔ وہی امریکہ جس نے ہر موڑ پر اسرائیل کو ہر قسم کا جدید اسلحہ، سیاسی پشت پناہی اور سفارتی سہارا فراہم کیا۔ سوال یہ ہے کہ جس کے ہاتھ اہلِ غزہ کے خون سے رنگین ہوں، وہ امن کا علمبردار کیسے بن سکتا ہے؟ جس نے انصاف کے ہر دروازے کو بند کیا، اس سے انصاف کی توقع کیونکر رکھی جا سکتی ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ یہ منصوبہ امن کا لبادہ اوڑھے ہوئے ایک سازش ہے۔ اس کا مقصد نہ تو فلسطینی عوام کے زخموں پر مرہم رکھنا ہے اور نہ ہی ان کے اجڑے گھروں کو دوبارہ آباد کرنا۔ اصل مقصد ہے اہلِ غزہ کی مزاحمتی جدوجہد کو ختم کرنا ان کی سیاسی قوت کو سلب کرنا اور امریکی و صیہونی مفادات کا تحفظ کرنا۔ یہ منصوبہ دراصل وہ زنجیر ہے جس میں اہلِ غزہ کو قید کر کے ان کی آزادی کی آواز کو ہمیشہ کے لیے دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
اہلِ فلسطین کی جدوجہد کوئی وقتی شورش نہیں بلکہ انسانی وقار، حقِ خود ارادیت اور ازلی آزادی کی صدا ہے۔ دنیا کو جان لینا چاہیے کہ امن کی بنیاد انصاف پر ہوتی ہے، ظلم پر نہیں۔ جس امن میں مظلوم کی فریاد دبا دی جائے اور ظالم کے مفادات کو سہارا دیا جائے، وہ امن نہیں بلکہ ایک فریب ہے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ آج بعض مسلم حکمران اسی سازش کے حصہ بنتے نظر آ رہے ہیں جسے بڑے فخریہ انداز میں “امن کا منصوبہ” کہا جا رہا ہے۔ مگر سوال یہ ہے: کیا وہ منصوبہ واقعی امن لانے آیا ہے یا اہلِ غزہ کو ہمیشہ کے لیے موت کی وادی میں دھکیلنے کی ایک منظم کوشش ہے؟ شواہد یہی بتاتے ہیں کہ اصل مقصد حماس کو غزہ سے بے دخل کرنا، مزاحمت کو غیر مسلح کرنا اور مقامی گورننس کو بیرونی نگرانی کے حوالے کرنا ہے نگرانی جس کی پشت پناہی وہی قوتیں کریں گی جنہوں نے عراق اور افغانستان میں تباہی کے وہ مناظر پیدا کیے ہیں جن کامشاہدہ دنیا نے کیا ہے۔
“ترقی” کا نعرہ لگایا جا رہا ہے، مگر کیا آزادی سے محروم غیر مسلح اور قابض نگرانی کے تحت رکھی گئی قوم ترقی کی طرف گامزن ہو سکتی ہے؟ ایک مقبوضہ سرزمین جہاں بنیادی حقِ خود ارادیت منقطع کر دیا گیا ہو، جہاں لوگوں کے ہاتھوں میں اختیار نہ ہو، وہاں خوش فہمی کے سوا کچھ نہیں۔ غزہ کی مزاحمت نے اسی سرزمین کو زندہ رکھا، اسی نے اس کا نام دنیا کے نقشے پر برقرار رکھا ورنہ امکانات تھے کہ یہ نام تاریخ کے پردے تلے دب جاتا۔
یہ منصوبہ اگر بموں اور ٹینکوں سے ختم نہ ہو سکا تو اب قلم اور کاغذ کے ذریعے اس کی تکمیل کی کوشش کی جا رہی ہے مزاحمت کو غیر مسلح کرنا، مقامی قیادت حماس کو بے دست و پا بنانا، اور عوامی حقوق کوامن منصوبے کی سراب کے نیچے دفن کر دینا۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ کچھ حکمران اس صورتِ حال کو قبول کرنے کی طرف مائل دکھائی دیتے ہیں، بلکہ بعض تو اس حد تک کہہ رہے ہیں کہ اگر حماس خود غیر مسلح نہ ہوا تو مسلم افواج جا کر اسے غیر مسلح کردیں۔ یہ سوچ نہ صرف افسوسناک بلکہ خطرناک بھی ہے، کیونکہ امت کی عسکری قوتیں مظلوم کے خلاف کبھی استعمال نہیں ہونی چاہئیں۔
یہ وہ موقع ہے جب اہل صحافت، علماء اور دانشوروں پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس قسم کے منصوبوں کو بے نقاب کریں اور عوام کو حقیقت سے آگاہ کریں۔ جب حکمران خاموش رہیں تو قلم کی تیز دھار اور عوامی شعور ہی وہ واحد راستے ہیں جو سچ کو زندہ رکھ سکتے ہیں۔
یاد رکھیے! حقیقی امن کبھی ڈھونگ یا وقتی سودے بازی کا نتیجہ نہیں ہوتا۔ امن کی جڑیں انصاف، وقارِ انسانی اور حقِ خود ارادیت و آزادی میں ہیں۔ جب تک مظلوم کی فریاد، ان کے بنیادی حقوق اور ان کی عزت کو مرکزِ خیال نہیں بنایا جاتا، امن محض ایک لفظ مہمل رہ جائے گا ، خالی اور نفرت بھرا۔
آئیے ہم خاموشی توڑیں: غزہ کے لوگوں کی آواز سنیں، ان کے دکھوں کو محسوس کریں، اور اس جعلی امن کے نقاب کو بے نقاب کریں جو دراصل خونِ غزہ پر لپٹا ہوا ہے۔ علماء، صحافی اور ہر باشعور فرد آج اخلاقی اور انسانی فریضے کا تقاضا پورا کرےحق کی آواز بلند کرے، انصاف کا مطالبہ کرے اور مظلوموں کے حقِ خود ارادیت کے لیے کھڑا ہو۔ بصیرت، حق اور انصاف کے بغیر کوئی ترقی اور امن بامعنی نہیں ہو سکتےاور اس کی قیمت ہم نے حالیہ دو برسوں میں خون کے قطرات کی صورت میں ادا کی ہے۔
؎
یارب تو اہل غزہ کی فریاد سن لے ارض قدس کو عمر رضی اللہ عنہ و صلاح الدین ایوبی جیسے فاتح عطا کردے۔
تندیِ بادِ مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اُڑانے کے لیے
