مستوج؛ سرغوز گاوں دریائے یارخون کی کٹائی سے بری طرح متاثر، ایک بیوہ خاتون کی رہائشی مکانات بھی زمین بوس، تاحال امداد کے منتظر
مستوج (نمائندہ چترال ٹائمز ) روان شدید گرمی اور گلیشئر تیزی سے پگھلنے کے باعث ندی نالوں میں طغیانی اور دریائے چترال میں اونچے درجے کے سیلاب کی زد میں اکر جہاں دوسرے علاقے متاثر ہوئے وہیں مستوج کے نواحی گاوں سرغوز کی نصف آبادی بھی بری طرح متاثر ہے، جہاں دریائے یارخون کی کٹائی کی زد میں متعدد گھر وں کو نقصان پہنچنے کے ساتھ زرعی زمینات اور ہزاروں پھلدار درخت بھی دریا برد ہوچکے ہیں، گزشتہ چند سالوں کے اندر سرغوز گاوں کی تقریبا نصف آبادی دریابرد ہوچکی ہے، جبکہ روان سال متعدد گھروں کو نقصان پہنچنے کے ساتھ کھڑی فصلین اور باغات سیلاب کے نذر ہوگئے۔
زیرنظر تصاویر ایک بیوہ خاتون کے گھر کی ہیں جو اپنے شوہر کی قلیل پنشن اور جمع پونجی سے مکانات تعمیر کی تھی، جو امسال دریائے یارخون کی کٹائی کے باعث زمین بوس ہوگئے ہیں، علاقے کے عوام نے اپنی مدد آپ کے تحت مکانات کی صرف جستی چادروں کو بچانے میں کامیاب ہوگئے جبکہ باقی تمام جمع پونجی دریائے یارخون کی کٹائی کے نذر ہوگئے ۔ شیر عجب مرحوم ساکن سرغوز کی بیوہ کا شکوہ ہے کہ وہ ایک معذور بیٹی کے ہمراہ کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہے ، مگر تاحال انتظامیہ اور نہ غیر سرکاری اداروں نے اُن کا حال پوچھا ہے۔ صرف سینٹر طلحہ محمود نے دومہینے کے راشن کا بندوبست کردیا ہے۔

