The Voice of Chitral since 2004
Wednesday, 14 October 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

ہیلتھ کارڈ پروگرام سے متعلق نگار جوہر سے منسوب بیان اور ڈاکٹر نوشیروان برکئی کی برطرفی کا نوٹیفکیشن جعلی قرار، ثمر ہارون بلور

Chitral Times

ہیلتھ کارڈ پروگرام سے متعلق نگار جوہر سے منسوب بیان اور ڈاکٹر نوشیروان برکئی کی برطرفی کا نوٹیفکیشن جعلی قرار، ثمر ہارون بلور

ہیلتھ کارڈ پروگرام سے متعلق نگار جوہر سے منسوب بیان اور ڈاکٹر نوشیروان برکئی کی برطرفی کا نوٹیفکیشن جعلی قرار، ثمر ہارون بلور

ہیلتھ کارڈ پروگرام سے متعلق نگار جوہر سے منسوب بیان اور ڈاکٹر نوشیروان برکئی کی برطرفی کا نوٹیفکیشن جعلی قرار، ثمر ہارون بلور

۔

پشاور (نمائندہ چترال ٹائمز ) گورنر خیبر پختونخوا کی مشیر برائے اطلاعات و تعلقاتِ عامہ ثمر ہارون بلور نے کہا ہے کہ ڈاکٹرز صوبے کے نظامِ صحت میں صفِ اول کا کردار ادا کر رہے ہیں اور ان کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جانے چاہئیں۔ انہوں نے ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن (وائی ڈی اے) کو یقین دلایا کہ ڈاکٹروں کے جائز مطالبات اور مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ گورنر خیبر پختونخوا کی ٹیم صوبے بھر میں صحت کی سہولیات بہتر بنانے اور ڈاکٹروں کو درپیش مشکلات کے ازالے کے لیے پُرعزم ہے۔ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کی کابینہ کے ایک وفد نے ثمر ہارون بلور سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ اس موقع پر وفد نے انہیں ڈاکٹروں کو درپیش مختلف مسائل، ہسپتالوں میں سہولیات کی بہتری اور طبی عملے کے حقوق سے متعلق امور پر تفصیلی بریفنگ دی۔

ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے ہیلتھ کارڈ پروگرام کے تحت فراہم کی جانے والی ادویات کے معیار پر بھی تحفظات کا اظہار کیا اور اس معاملے کا جائزہ لینے کا مطالبہ کیا۔ ملاقات میں ترقیوں، تنخواہوں میں اضافے اور چیف میڈیکل آفیسرز (سی ایم اوز) اور انسٹی ٹیوشنل میڈیکل آفیسرز (آئی ایم اوز) کے لیے ایمرجنسی اور انتہائی نگہداشت یونٹ (آئی سی یو) الاؤنسز کی فراہمی سمیت دیگر امور بھی زیرِ بحث آئے۔مشیر اطلاعات نے کہا کہ سرکاری ہسپتالوں میں طبی سہولیات کی بہتری اور ڈاکٹروں کو سازگار ماحول فراہم کرنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) نگار جوہر خان کا تجربہ اور رہنمائی سرکاری ہسپتالوں کو درپیش مسائل کے حل اور صوبے کے نظامِ صحت کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ثمر ہارون بلور نے کہا کہ ڈاکٹروں کے مسائل کے حل کے لیے متعلقہ فورمز سے رجوع کیا جائے گا اور ان کے جائز مطالبات پورے کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش جاری رکھی جائے گی۔ثمر ہارون بلور نے کہا کہ ڈاکٹروں کو بہتر سہولیات فراہم کرنے سے مریضوں کی دیکھ بھال اور طبی علاج کے مجموعی معیار میں بہتری آئے گی۔

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ متعلقہ حکام کے تعاون سے ڈاکٹروں کے جائز مسائل حل کرنے اور صوبے بھر کے ہسپتالوں میں صحت کی سہولیات بہتر بنانے کے لیے کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔دریں اثنا، ثمر ہارون بلور کو محکمہ اطلاعات کی کارکردگی، جاری اقدامات اور مستقبل کی حکمتِ عملی کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر انہوں نے محکمے کی استعدادِ کار بڑھانے اور مجموعی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے جامع 90 روزہ ایکشن پلان تیار کرنے کی ہدایت کی۔انہوں نے بحرانی صورتِ حال کے دوران محکمہ اطلاعات کی کارکردگی کو سراہا، تاہم اس بات پر زور دیا کہ عوام کو بروقت، درست اور مستند معلومات فراہم کرنے کے لیے مزید مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

انہوں نے متعلقہ حکام کو ایف ایم ریڈیو نیٹ ورک مضبوط بنانے اور اطلاع سیل کو مکمل طور پر فعال کرنے کے لیے فوری اقدامات کی ہدایت کی۔انہوں نے مزید کہا کہ محکمہ اطلاعات کو خیبر پختونخوا میں امن کے فروغ اور پائیدار استحکام کے قیام میں مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے صحافیوں کی فلاح و بہبود کے لیے اقدامات تیز کرنے، ان کے مسائل حل کرنے، محکمے میں شفافیت بہتر بنانے، خدمات کی فراہمی مؤثر بنانے اور عوام کو بہتر سہولیات فراہم کرنے پر بھی زور دیا۔بریفنگ میں سیکریٹری اطلاعات ڈاکٹر محمد بختیار، ڈائریکٹر جنرل اطلاعات محمد انصار اللہ خیلجی اور محکمہ اطلاعات کے دیگر افسران نے شرکت کی۔سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں کے حوالے سے ثمر ہارون بلور نے وضاحت کی کہ ہیلتھ کارڈ پروگرام بند کرنے سے متعلق لیفٹیننٹ جنرل (ر) نگار جوہر خان سے منسوب بیان جعلی ہے۔

انہوں نے پروفیسر ڈاکٹر نوشیروان برکئی کی برطرفی سے متعلق گردش کرنے والے نوٹیفکیشن کو بھی جعلی قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ بعض عناصر ہیلتھ کارڈ پروگرام کے حوالے سے گمراہ کن پروپیگنڈا کرنے کی ناکام کوششیں کر رہے ہیں۔ثمر ہارون بلور نے کہا، ’’ہم کسی بھی قسم کی انتقامی کارروائی نہیں کریں گے۔ خیبر پختونخوا کے عوام کی خدمت اور شفاف کارکردگی ہماری اولین ترجیحات ہیں۔ عوامی مفاد میں شروع کیے گئے منصوبے جاری رہیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی قسم کی غفلت یا بے ضابطگی سامنے آنے پر بلاامتیاز احتساب کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ درست اور مستند معلومات کی فراہمی، سرکاری امور میں شفافیت برقرار رکھنا اور عوامی مفاد کا تحفظ بنیادی ترجیحات میں شامل ہیں۔