ڈسٹرکٹ بارایسوسی ایشن چترال لوئیر ثنا یوسف کی بیہمانہ قتل کے مجرم کو جلد از جلد سخت ترین قانونی سزا دلوانے کے لیے ہر سطح پر آواز بلند کرے گی۔ مومن الرحمن ایڈوکیٹ صدر بار ایسوسی ایشن
چترال ( نمائندہ چترال ٹائمز ) ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن چترال لوئر کے صدر مومن الرحمٰن ایڈووکیٹ نے اسلام آباد میں چترال سے تعلق رکھنے والی معصوم بیٹی ثنا یوسف کے بہیمانہ قتل پر شدید دکھ اور غم کا اظہارکرتے ہوئے اسے پورے وفاقی دارالحکومت کی سیکورٹی پر ایک سنگین سوال قرار دیا ہے۔
صدر بار نے کہا کہ اس سفاکانہ واقعے نے نہ صرف چترال بلکہ پورے ملک کے ہر حساس دل کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
اس قسم کے اندوہناک واقعات کی روک تھام کے لیے وفاقی و صوبائی حکومتوں کو فوری، پائیدار اور سنجیدہ اقدامات اٹھانے ہونگے تاکہ شہری خصوصاً خواتین خود کو محفوظ تصور کر سکیں۔
مومن الرحمٰن ایڈووکیٹ نے بروقت کاروائی پر اسلام آباد پولیس کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ قاتل کو فوری گرفتار کرکے قانون کے شکنجے میں لانا قابل تعریف قدم ہے، تاہم انصاف کی مکمل فراہمی اس وقت ممکن ہوگی جب مجرم کو قرار واقعی سزا دی جائے گی۔
صدر بار نے سوشل میڈیا کے منفی استعمال پر بھی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومتی و عدالتی اداروں سے مطالبہ کیا کہ ایسے پلیٹ فارمز کی مؤثر نگرانی اور اخلاقی ضابطہ اخلاق کی پابندی کو یقینی بنایا جائے تاکہ کسی بھی بیگناہ کی عزت، جان یا وقار کو نقصان نہ پہنچ سکے۔
صدر مومن الرحمن ایڈوکیٹ نے کہا کہ ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن چترال لوئر ثنا یوسف شہید کے اہلِ خانہ کے ساتھ اس دل خراش موقع پر دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے ان کے غم میں برابر کی شریک ہے اورمجرم کو جلد از جلد سخت ترین قانونی سزا دلوانے کے لیے ہر سطح پر آواز بلند کرے گی۔

