صالح الجعفراوی ۔ صحافت کی وہ آوازجوخاموش کردی گئی ۔ تحریر: ثناء اللہ مجیدی
اتوار، 12 اکتوبر 2025 یہ تاریخ فلسطین کے دل پر ایک اور زخم بن کر لکھی گئی۔اس دن غزہ کی گلیوں میں صرف گولیوں کی آواز نہیں، ایک سچ بولنے والی آواز بھی خاموش ہوئی۔وہ آواز صالح الجعفراوی کی تھی وہ صحافی جو کیمرہ اٹھائے موت کے سائے میں بھی حق دکھاتا رہا اور بالآخر دجالی ایجنٹوں کی گولیوں کا نشانہ بن گیا۔غزہ کے مقامی اور بین الاقوامی ذرائع کے مطابق معروف صحافی صالح الجعفراوی کو جنوبی غزہ کے علاقے تل الہوی میں اس وقت فائرنگ کر کے شہید کر دیا گیاجب وہ تباہ شدہ گھروں اور متاثرہ خاندانوں کی تصویری کوریج کر رہے تھے۔صالح الجعفراوی وہ نام ہے جو صرف صحافت تک محدود نہیں بلکہ انسانیت، جرات اور ایمان کا استعارہ بن گیا۔
وہ ان صحافیوں میں سے تھے جنہوں نے اپنے کیمرے کو صرف خبر دکھانے کا ذریعہ نہیں بلکہ حق کی گواہی دینے کا ہتھیار بنا لیا۔ ان کی آنکھوں نے وہ منظر دیکھے جو دلوں کو چیر دیتے ہیں مگر ان کی زبان سے ہمیشہ امید اور استقامت کی بات نکلی۔قلم جب خون سے لکھا جائے تو وہ تاریخ بن جاتا ہے، اور کیمرہ جب ضمیر کے ساتھ اٹھایا جائے تو وہ گواہی بن جاتا ہے۔ صالح انہی گواہوں میں سے ایک تھے جنہوں نے اپنے کیمرے سے جنگ کی ہولناکی نہیں انسانیت کی سچائی دکھائی۔ وہ اس نسل کے نمائندہ تھے جنہوں نے بمباری کے بیچ میں بھی امید کی خبر دی، جنہوں نے آنسو نہیں بہائے بلکہ ان آنسوؤں کے پیچھے چھپی انسانیت کو دکھایا۔
ایک صحافی کے طور پر میں جانتا ہوں کہ میدانِ خبر میں کبھی الفاظ کانپتے ہیں کبھی دل دہل جاتے ہیں۔ مگر صالح ان لمحوں میں بھی استقامت کی تصویر بنے رہے۔ وہ صرف رپورٹنگ نہیں کرتے تھے وہ احساس کو زندہ رکھتے تھے۔ جب کوئی دوسرا شخص پناہ ڈھونڈتا وہ کیمرہ اٹھا کر سب سے آگے کھڑا ہوتا۔ جب دھماکے کی آواز آتی، تو وہ بھاگ کر وہاں پہنچتا جہاں دنیا کا ضمیر خاموش تھا۔صالح الجعفراوی کی زندگی جدوجہد خدمت اور قربانی سے بھری ہوئی تھی۔ وہ نہ صرف ایک باصلاحیت صحافی تھے بلکہ ایک درد مند انسان بھی تھے۔ انہوں نے درجنوں رفاہی منصوبوں میں حصہ لیا، زخمیوں اور بے گھر ہونے والوں کی مدد کی، اور جنگ کے دوران امدادی سامان کی تقسیم میں پیش پیش رہے۔ جب محاصرہ اور بمباری اپنے عروج پر تھی، تب بھی وہ غزہ کے بچوں کے لیے امید کا چراغ جلانے نکلے۔
ان کی قیادت میں بچوں کے اسپتال کی تعمیر نو کے لیے چلائی گئی مہم نے چند دنوں میں دس ملین ڈالر جمع کیے یہ ان کی مقبولیت نہیں بلکہ ان کے اخلاص کی گواہی تھی۔ان کی صحافت صرف خبر نہیں تھی وہ عبادت تھی۔ انہوں نے اپنے پیشے کو رزق نہیں، فرض سمجھا۔ عیدالاضحیٰ کے موقع پر جب خوف اور بھوک نے غزہ کو گھیر رکھا تھا، صالح نے سب سے بڑی قربانی مہم میں حصہ لیا سینکڑوں خاندانوں تک گوشت پہنچایا خود تقسیم کا انتظام کیااور کہا کرتے تھے کہ “جنگ ہم سے زندگی نہیں چھین سکتی جب تک ہم ایک دوسرے کے ساتھ ہیں۔”
ان کے ساتھی ایمن الہسی کے مطابق، “صالح صرف ایک رپورٹر نہیں تھے وہ ایک پوری میڈیا ادارہ تھے جو تنِ تنہا میدان میں کھڑا تھا۔” وہ بتاتے ہیں کہ اسکول الجرجاوی کی تباہی کی کوریج کے دوران جب صالح نے بچوں کو جلتا دیکھا تو کیمرہ چھوڑ کر ملبے میں کود گئے۔ “وہ صرف صحافی نہیں تھے، وہ انسان بھی تھے، وہ ضمیر تھے، وہ دل تھے جو ظلم کے مقابل خاموش نہ رہ سکا۔”
انہوں نے کئی بار بیرون ملک جانے کی پیشکشیں ٹھکرا دیں۔ جب دوستوں نے کہا “جان خطرے میں ہے”، تو وہ مسکرا کر جواب دیتے، “اگر میں چلا گیا تو میری زمین کون دکھائے گا؟ میری قوم کی آواز کون بنے گا؟”
یہ ضد یہ غیرت یہ استقامت یہی صالح کی پہچان بن گئی۔لیکن ان کی شخصیت صرف کیمرے اور خبر تک محدود نہ تھی۔ وہ حافظِ قرآن تھے، خوبصورت آواز کے مالک، جو اپنے والد سے ورثے میں ملی تھی۔ جنگ کے دوران وہ اپنے ترانوں سے غزہ کے دلوں میں حوصلہ جگاتے رہے۔ ان کا آخری نغمہ( قویة یا غزة، أنتِ الأمل… اے غزہ! تُو مضبوط ہے، تُو ہی امید ہے )آج بھی ملبے کے بیچ گونجتا ہے امید کی صدا بن کر۔دنیا نے انہیں پہلی بار 2018ء میں تحریک “مسیراتِ العودۃ” کے دوران پہچانا جب وہ نوجوان رپورٹر کے طور پر محاذِ خطر سے رپورٹنگ کر رہے تھے۔ کئی بار زخمی ہوئے مگر اگلے ہی دن دوبارہ میدان میں جا پہنچے۔ ان کے قریبی دوست وائل ابو محسن کہتے ہیں: “ہم جان گئے تھے کہ صالح معمولی نہیں غیر معمولی ہیں۔ ان کی بہادری ان کی عمر سے کہیں بڑی تھی۔”صالح کا کیمرہ تو بند کردیا گیا، مگر اس کے ریکارڈ سے گزری ہر تصویر آج بھی چیخ کر کہتی ہے کہ “سچ دکھانے کا سفر کبھی آسان نہیں ہوتا۔” اگر صحافت کا کوئی مقدس مفہوم ہے تو وہ صالح الجعفراوی جیسے لوگوں کی قربانیوں سے زندہ ہے۔
میں انہیں سلام پیش کرتا ہوں اس بہادر صحافی کو جس نے دنیا کو بتایا کہ غزہ صرف ایک جنگ نہیں ایک زندہ ضمیر کا نام ہے۔صالح الجعفراوی اب ہمارے درمیان نہیں، مگر ان کا پیغام زندہ ہے کہ خبر صرف لکھی نہیں جاتی بعض اوقات اس کے لیے جان بھی دینی پڑتی ہے۔ان کا کیمرہ محض آلہ نہیں تھا وہ ضمیر کی آنکھ تھی۔ انہوں نے دکھا دیا کہ سچ دکھانے کے لیے لفظ نہیں جرات چاہیے۔ ان کے ہر فریم میں انسانیت کی دھڑکن تھی، اور ہر تصویر میں ایمان کی روشنی۔
آج پوری دنیا کی صحافت ان کی عظیم صحافتی قربانیوں کا اعتراف کرتی ہے اور خراج عقیدت پیش کرتی ہے کیونکہ انہوں نے پیشہ نہیں مشن نبھایا۔ ان کی قربانی نے ثابت کیا کہ قلم اور کیمرہ جب ایمان سے جڑ جائیں تو وہ عبادت بن جاتے ہیں۔وہ چلے گئے مگر ان کی روشنی باقی ہے سچ کی وہ روشنی جو ظلم کے اندھیروں میں بھی بجھتی نہیں۔
اے اللّٰہ! صالح الجعفراوی کی قربانی کو سچائی کی روشنی اور صحافت کو ضمیر کی امانت بنا دے۔ اور انکی شہادت کو قبول فرما کر جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام نصیب فرمادے۔
