The Voice of Chitral since 2004
Wednesday, 21 October 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

محترم صاحب اعلی المعروف شاہ صاحبؒ رخصت ہوگئے . تحریر: بہاراحمد

Chitral Times

محترم صاحب اعلی المعروف شاہ صاحبؒ رخصت ہوگئے . تحریر: بہاراحمد

محترم صاحب اعلی المعروف شاہ صاحبؒ رخصت ہوگئے . تحریر: بہاراحمد

محترم صاحب اعلی المعروف شاہ صاحبؒ رخصت ہوگئے؛ مگر ان کی شفقت، ان کا رعب اور ان کی یادیں ہمیشہ بمارے دلوں میں زندہ رہیں گے۔ تحریر: بہاراحمد

بعض لوگ دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں، مگر ان کی آوازیں، ان کے انداز، ان کی محبت اور ان سے وابستہ یادیں دل کے کسی گوشے میں ہمیشہ کے لیے ٹھہر جاتی ہیں۔ ہمارے محترم استاد پروفیسر صاحب اعلیٰ صاحب، المعروف شاہ صاحبؒ، بھی انہی نفوسِ قدسیہ میں سے تھے۔

آج گورنمنٹ کالج آف مینجمنٹ سائنسز چترال کے سابق سینئر استاد محترم شاہ صاحبؒ کی وفات کی خبر سنی تو دل ماضی کی ان گلیوں میں جا پہنچا جہاں زندگی کے حسین دن، طالب علمی کی معصوم شرارتیں، ہاسٹل کی رونقیں اور اساتذہ کی شفقتیں آج بھی یادوں کے چراغ بن کر روشن ہیں۔ محسوس ہوا کہ جیسے ہمارے ماضی کا ایک روشن باب بند ہوگیا ہو، جیسے چترال کی تعلیمی تاریخ کا ایک معتبر حوالہ خاموش ہوگیا ہو اور جیسے ہمارے دلوں میں استاد کے نام سے وابستہ محبتوں کا ایک سایہ ہم سے جدا ہوگیا ہو۔

شاہ صاحبؒ محض اردو کے استاد نہیں تھے؛ وہ ایک پورا عہد تھے۔ ایک ایسا عہد جس میں استاد کا رعب بھی تربیت کا حصہ ہوتا تھا، اس کی ڈانٹ میں بھی محبت چھپی ہوتی تھی اور اس کی خاموشی بھی شاگردوں کو بہت کچھ سکھا دیتی تھی۔ وہ اردو پڑھاتے تو ان کا انداز دل نشیں ہوتا، طلبہ کی اصلاح کرتے تو ان کے پیشِ نظر ان کا مستقبل ہوتا، اور ہاسٹل میں نظم و ضبط قائم رکھتے تو ان کی خواہش ہوتی کہ ان کے شاگرد تعلیم کے ساتھ ساتھ کردار اور اخلاق میں بھی ممتاز ہوں۔

وہ کالج سے ملحقہ ہاسٹل کے وارڈن بھی تھے۔ ہاسٹل ان کے لیے محض ایک رہائشی عمارت نہیں، بلکہ ان بچوں کی تربیت گاہ تھا جو اپنے گھروں، والدین اور اپنوں سے دور رہ کر تعلیم حاصل کرنے آئے تھے۔ وہ ان طلبہ کو اپنی اولاد کی طرح چاہتے تھے۔ ان کی تعلیمی ضروریات کا خیال رکھتے، ان کی تربیت کرتے اور وقت نکال کر انہیں مفت ٹیوشن بھی پڑھاتے تھے۔ ان کی یہ بے لوث خدمت آج کے دور میں یاد آئے تو دل ان کی عظمت کے سامنے مزید جھک جاتا ہے۔

آج جب میں اپنی زندگی کے مختلف مراحل پر نظر ڈالتا ہوں تو احساس ہوتا ہے کہ ہماری شخصیت کی تعمیر میں ایسے اساتذہ کا کتنا بڑا حصہ ہوتا ہے۔ اس زمانے میں شاید ہمیں ان کی سختی کبھی زیادہ محسوس ہوتی ہو، ان کے ڈنڈے سے خوف بھی آتا ہو، مگر آج سمجھ آتا ہے کہ ان کی نگاہ میں ہم محض طالب علم نہیں تھے؛ ہم ان کے خواب تھے، ان کی امیدیں تھے اور اس مستقبل کی امانت تھے جسے وہ بہتر دیکھنا چاہتے تھے۔

ایک چھوٹا سا ٹیپ ریکارڈر اور شاہ صاحبؒ کی شفقت
زندگی کے کچھ واقعات بظاہر معمولی ہوتے ہیں، مگر وقت گزرنے کے ساتھ وہ یادوں کا ایسا قیمتی سرمایہ بن جاتے ہیں کہ انہیں یاد کرکے آنکھیں بھیگتی ہیں

اور لبوں پر مسکراہٹ بھی آجاتی ہے۔ شاہ صاحبؒ کے ساتھ وابستہ ایک واقعہ آج بھی میرے ذہن میں بالکل تازہ ہے۔
ان دنوں ہاسٹل میں ریڈیو اور ٹیپ ریکارڈر کی اجازت نہیں تھی۔ ایک مرتبہ میرے ایک رشتہ دار نے مجھے چھوٹے سائز کا ٹیپ ریکارڈر دیا۔ ایک دن جانے کیسے مجھ سے یہ غلطی ہوگئی کہ میں نے دن کے وقت اسے چلا دیا اور کمرے کا دروازہ بھی کھلا چھوڑ دیا۔ گانے کی آواز باہر تک پہنچ گئی۔
شاہ صاحبؒ نے آواز سنی تو اپنا بڑا سا ڈنڈا منگوایا اور لڑکوں سے پوچھنے لگے کہ یہ آواز کہاں سے آرہی ہے۔ پھر انہوں نے ایک ایک کمرے کا دروازہ کھول کر معائنہ شروع کردیا۔ ہم سب جانتے تھے کہ شاہ صاحبؒ جب اس انداز میں نکلیں تو کسی نہ کسی کی شامت ضرور آتی ہے۔
آخرکار وہ کمرہ نمبر چار تک پہنچے۔ دروازہ کھولا تو میں اکیلا بیٹھا گانا سن رہا تھا۔ مجھے اس حالت میں دیکھا تو ان کے چہرے پر غصے کے بجائے مسکراہٹ پھیل گئی۔ بلند آواز میں بولے:
’’اوہ بزرگ! گانا سن رہا ہے!‘‘

پھر وہ اندر تشریف لائے، میز پر رکھی نمک کی پلیٹ میں اپنی انگشتِ شہادت ڈالی، انگلی چاٹی اور واپس چلے گئے۔
ان کے جاتے ہی ہاسٹل کے ساتھی میرے کمرے میں آگئے اور مجھے مبارک باد دینے لگے۔ ان کا کہنا تھا کہ شکر کرو، شاہ صاحبؒ تمہیں دیکھ کر ہنس پڑے؛ ہم تو سمجھ رہے تھے کہ آج تمہاری خیر نہیں، اور بینچ ریزہ ریزہ ہوجائے گا!

آج اس واقعے کو یاد کرتا ہوں تو دل میں ایک عجیب سی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ وہی شاہ صاحبؒ جن کے ہاتھ میں ڈنڈا دیکھ کر طلبہ سنبھل کر بیٹھ جاتے تھے، میرے کمرے میں آئے، مجھے دیکھا اور مسکرا کر واپس چلے گئے۔ ان کی اس مسکراہٹ میں کتنی شفقت تھی، کتنی بے تکلفی تھی اور شاگرد کی غلطی کو درگزر کردینے کا کتنا خوب صورت انداز تھا!

کاش! زندگی کی گھڑی کو کچھ لمحوں کے لیے پیچھے موڑا جاسکتا۔ کاش! وہ ہاسٹل، وہ کمرہ نمبر چار، وہ کھلا دروازہ اور وہ شاہ صاحبؒ ایک مرتبہ پھر ہماری آنکھوں کے سامنے آجائیں۔ مگر وقت کی سب سے بڑی بے بسی یہی ہے کہ وہ یادیں تو واپس لے آتا ہے، ان لمحوں کو نہیں لوٹاتا جن میں وہ یادیں پیدا ہوئی تھیں۔

اب شاہ صاحبؒ اس دنیا میں نہیں رہے، لیکن ان سے وابستہ یہ چھوٹا سا واقعہ بھی ان کی شخصیت کا ایک بڑا پہلو ہمارے سامنے لے آتا ہے: ان کے اندر رعب بھی تھا، اصول پسندی بھی، مگر اس سب کے پیچھے ایک شفیق دل دھڑکتا تھا۔
تین شاہ صاحبان، تینوں کا مزاج اور ایک سنہرا تعلیمی دور

کامرس کالج چترال سے فراغت کے بعد جب میں نے ڈگری کالج میں داخلہ لیا تو وہاں بھی ایک نمایاں استاد سے واسطہ پڑا۔ وہ محترم پروفیسر سید توفیق حسین جان صاحب تھے۔ اتفاق سے دونوں بزرگ سید تھے، دونوں استاد تھے، لیکن ان کے مزاج میں زمین و آسمان کا فرق تھا۔
جان صاحب کی شخصیت میں جلال، گرج دار آواز اور ایک خاص قسم کا رعب نمایاں تھا۔ ان کے ایک نڈر شاگرد نے ایک مرتبہ ان سے کہا تھا:
’’سر! آپ کو تو ڈی ایس پی ہونا چاہیے تھا!‘‘

اس زمانے میں ڈی ایس پی ایک بڑا اور بہت رعب دار عہدہ سمجھا جاتا تھا۔ پولیس کے افسروں سے طلبہ خوف محسوس کرتے تھے، جبکہ چترال سکاوٹس اور فوج کے اہلکاروں کو نسبتاً زیادہ پسند کیا جاتا تھا۔ شاگرد کا یہ جملہ جان صاحب کے جلالی مزاج اور اس دور کی نفسیات کی ایک دلچسپ تصویر پیش کرتا ہے۔
اس کے برعکس شاہ صاحبؒ نہایت نرم خو، شفیق، ملنسار اور آزاد طبع انسان تھے۔ ان کی شخصیت میں اپنائیت تھی۔ ان کے پاس بیٹھ کر خوف کے بجائے بے تکلفی محسوس ہوتی، اگرچہ ان کا احترام ہر طالب علم کے دل میں موجود تھا۔ ڈگری کالج کے ایک اور شاہ صاحب محترم سید شمس النظر فاطمی تھے۔ جو کالج کے زمانے میں اپنی حاضر جوابی، بیباکی، چٹکلوں اور حس مزاح اور ذومعنی الفاظ و اداوں کی وجہ سے بہت مشہور ہوئے۔

ایک ہی زمانے کے تین استاد، ایک ہی سید برادری سے تعلق رکھنے والے تین بزرگ، مگر اظہار کے مختلف انداز! کسی کی شخصیت کا جلال یاد رہ جاتا ہے اور کسی کی شفقت دل میں گھر کرلیتی ہے۔ تو کسی کے الفاظ اور باتیں انمٹ نقوش چھوڑ جاتے ہیں۔ مرحوم شاہ صاحبؒ کی شخصیت میں شفقت اس طرح رچی بسی تھی کہ ان کے شاگرد آج بھی انہیں یاد کرتے ہوئے اپنے طالب علمی کے دنوں میں لوٹ جاتے ہیں۔

یہ اس دور کے اساتذہ تھے جن کی زندگی صرف کلاس روم تک محدود نہیں ہوتی تھی۔ وہ کالج اور ہاسٹل میں بھی استاد تھے، اور کالج سے باہر بھی۔ طلبہ کی اخلاقی تربیت میں بھی شریک تھے اور ان کے مستقبل کی فکر بھی کرتے تھے۔ وہ اپنے شاگردوں کی کامیابی کو اپنی کامیابی سمجھتے تھے۔ شاید اسی لیے ان کی رخصتی پر صرف ایک خاندان نہیں، بلکہ شاگردوں کی ایک پوری دنیا سوگوار ہوتی ہے۔ اللہ تعالی مرحوم شاہ صاحب کے درجات بلند فرمائے اور بقیہ دونوں شاہ صاحبان کو بہترین صحت کے ساتھ عمر نوح سے نوازے۔ کیونکہ یہی ہمارے معاشرے کے اثاثے ہیں۔
سابقہ کالرس کالج اور موجودہ ہوسٹ گریجویٹ کالج اف منیجمنٹ سائسز

چترال کی تعلیمی تاریخ کا ایک روشن باب ہے اور شاہ صاحب اس مادر علمی کے ایک چمکتے ہیرے کے طور پر یاد رہیں گے۔
شاہ صاحبؒ چترال میں کامرس کی تعلیم کے ابتدائی دور کے ان اساتذہ میں شامل تھے جنہوں نے اس تعلیمی روایت کو پروان چڑھانے میں اپنا حصہ ڈالا۔ کالج کے ماحول کو بہتر بنانے، ہاسٹل میں نظم و ضبط قائم رکھنے اور طلبہ کی تعلیمی و اخلاقی تربیت میں ان کا کردار قابلِ قدر تھا۔

سابق پرنسپل پروفیسر رحمت نبی صاحب، محترم پروفیسر صاحب الدین صاحب اور دیگر اساتذہ و منتظمین کی خدمات بھی اس حوالے سے قابلِ ذکر ہیں۔ تاہم ہاسٹل کے طلبہ کی سرپرستی، ان کی رہنمائی اور ان کے کردار کی تعمیر میں شاہ صاحبؒ کا اپنا ایک نمایاں مقام تھا۔
یہ حقیقت اپنی جگہ بڑی اہم ہے کہ کسی تعلیمی ادارے کی اصل عظمت اس کی عمارتوں، کمروں اور فرنیچر میں نہیں ہوتی؛ اس کی اصل عظمت ان اساتذہ میں ہوتی ہے جو نسلوں کی تربیت کرتے ہیں، ان کے ذہنوں کو روشنی دیتے ہیں اور انہیں زندگی کے نشیب و فراز میں اپنے قدموں پر کھڑا ہونے کا حوصلہ عطا کرتے ہیں۔

کامرس کالج چترال کے جن طلبہ نے بعد میں زندگی کے مختلف شعبوں میں کامیابیاں حاصل کیں، ان کی کامیابیوں کے پس منظر میں ان اساتذہ کی محنت، رہنمائی اور تربیت کا حصہ بھی شامل ہے۔ یہی استاد کا اصل اعزاز ہے کہ اس کے شاگرد اس کے بعد بھی اس کے علم، محنت اور تربیت کی گواہی دیتے رہیں۔
شاہ صاحبؒ مدت پہلے ملازمت سے ریٹائر ہوکر مستوج میں مقیم ہوگئے تھے، مگر کیا استاد کبھی اپنے شاگردوں کے دلوں سے ریٹائر ہوتا ہے؟ کیا وہ ہاتھ جو نسلوں کی تربیت کرتے رہے ہوں، وقت گزرنے کے ساتھ بھلا دیے جاتے ہیں؟ نہیں، استاد اپنے شاگردوں کی یادوں میں زندہ رہتا ہے۔ اس کی آواز، اس کا انداز، اس کی نصیحت اور اس کی شفقت عمر کے ساتھ مزید قیمتی ہوتی جاتی ہے۔

مرحوم پروفیسر صاحب اعلیٰ صاحب، المعروف شاہ صاحبؒ، گورنمنٹ کالج آف مینجمنٹ سائنسز چترال کے سابق پرنسپل محترم پروفیسر صاحب الدین صاحب کے بڑے بھائی تھے۔ دونوں بھائیوں نے اس ادارے میں گراں قدر علمی و تدریسی خدمات انجام دیں۔ یہ چترال کی تعلیمی تاریخ کا ایک قابلِ احترام حوالہ ہے کہ ایک ہی خاندان کے دو اہلِ علم نے اپنی زندگی کا قیمتی حصہ تعلیم و تربیت کے لیے وقف کیا۔
کچھ لوگ چلے جاتے ہیں، مگر دلوں سے نہیں جاتے

آج شاہ صاحبؒ کے انتقال پر ان کے ہزاروں شاگردوں اور چاہنے والوں کے دل غم زدہ ہیں۔ ان کے گھر والوں کے لیے یہ جدائی یقیناً ناقابلِ تلافی ہے، لیکن ان کے شاگردوں کے لیے بھی یہ خبر کسی اپنے کے بچھڑ جانے سے کم نہیں۔ کیونکہ استاد سے تعلق صرف چند سال کی تعلیم کا تعلق نہیں ہوتا؛ یہ زندگی بھر کی نسبت ہوتی ہے۔ انسان عمر کے کئی مراحل طے کرلیتا ہے، خود استاد بن جاتا ہے، اپنے بچوں کی تربیت کرنے لگتا ہے، لیکن اپنے استاد کے سامنے پھر بھی وہی طالب علم رہتا ہے۔

آج شاہ صاحبؒ کی یاد میں قلم اٹھایا ہے تو محسوس ہوتا ہے کہ الفاظ کتنے محدود ہیں اور یادیں کتنی وسیع! ایک طرف ان کی کلاس روم میں اردو پڑھانے کا انداز ہے، دوسری طرف ہاسٹل میں مفت ٹیوشن پڑھانے کی بے لوث خدمت؛ کہیں ان کے ہاتھ میں ڈنڈا ہے، کہیں ان کے چہرے پر مسکراہٹ؛ کہیں نظم و ضبط کی سختی ہے، کہیں شاگرد کی غلطی پر درگزر کی نرمی۔

یہ سب مل کر شاہ صاحبؒ کی وہ تصویر بناتے ہیں جو وقت کی دھند میں کبھی گم نہیں ہوسکتی۔

استاد کی اصل زندگی اس کی سانسوں میں نہیں، اس کی تربیت سے سنورنے والی نسلوں میں ہوتی ہے۔ شاہ صاحبؒ کی سانسوں کا سفر ختم ہوگیا، مگر ان کی تربیت، ان کی محبت اور ان کی یادوں کا سفر جاری رہے گا۔

اللہ تعالیٰ نے چاہا تو ان کے شاگرد جب بھی اپنے طالب علمی کے دنوں کو یاد کریں گے، جب بھی ہاسٹل کی زندگی کا ذکر ہوگا، جب بھی کسی استاد کی شفقت اور رعب کی بات چلے گی، شاہ صاحبؒ کا نام ضرور آئے گا۔ کوئی ان کی اردو کی کلاس کو یاد کرے گا، کوئی ان کی مفت ٹیوشن کو، کوئی ان کی سختی کو اور کوئی ان کی اس مسکراہٹ کو جس نے ایک دن میرے کمرے میں میری ایک بڑی غلطی کو ایک خوب صورت یاد میں بدل دیا۔
اور شاید یہی زندگی کی سب سے بڑی کامیابی ہے کہ انسان دنیا سے رخصت ہو، مگر اس کے نام کے ساتھ محبت وابستہ رہے؛ اس کی یاد آئے تو دل میں احترام پیدا ہو؛ اور اس کا ذکر ہو تو آنکھوں میں نمی اور لبوں پر دعا آجائے۔

شاہ صاحبؒ! آپ رخصت ہوگئے، مگر آپ کے شاگردوں کے دلوں میں آپ کا مقام کبھی خالی نہیں ہوگا۔

اللہ تعالیٰ مرحوم کی کامل مغفرت فرمائے، ان کی لغزشوں سے درگزر فرمائے، ان کی علمی و تدریسی خدمات کو ان کے لیے صدقۂ جاریہ بنائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ محترم پروفیسر صاحب الدین صاحب، مرحوم کے تمام اہلِ خانہ، عزیز و اقارب، شاگردوں اور چاہنے والوں کو صبرِ جمیل اور اس عظیم صدمے کو برداشت کرنے کا حوصلہ عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔
إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ