سحر بے وفا – تحریر: ظہیر الدین
“پروین! بے و فا کیا کسی کو چھوڑ کر یوں بھی جاتے ہیں؟”۔ یہ شکوہ احمد فراز نے پروین شاکر سے تین دہائی سال پہلے کیا تھا۔آج سے ایک ماہ پہلے 7جنوری کی سحر یہی شکوہ ہمارے لبوں پر سج گئے جب اقبال الدین سحرکا اچانک اور خاموشی سے افق کے اُ س پار جانے کی دلدوز خبر نے ہمیں تڑپنے اور مچلنے پر مجبور کردیا۔ اس کے دوستوں میں کئی ایک نے کہاکہ سحرہوا کی طرح آئے اور طوفان کی طرح چلے گئے تو کسی نے کہاکہ وہ تو خوشبو تھاجوہوا ؤں میں بکھر گیا جبکہ کسی نے کہاکہ نسیم سحر کا ایک جھونکا آیا اور گزرگیا۔
تین دہائی سالوں پر محیط ان کے ساتھ شناسائی ان کے ایک گیت کے مصرعے کی طرح لگ رہا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ “خوشپو غونہ بڑاچھیمان، ڑوسپہ مہ اوان خالی” (جیسے خواب کے عالم میں خزانے سے دامن بھرنے والا جب بیدارہوتا ہے تو اپنا دامن خالی پاتا ہے)۔ ان کے تمام دوست احباب اور چاہنے والوں کا یہی کہنا ہے کہ انہیں سحر کی زندگی ایک سراب کی مانند دیکھائی دے رہی ہے کہ گویا اس نام کی شخص سے ان کا کوئی واسطہ ہی نہ رہا ہو۔
چترال کی وادیوں میں آج بھی ایک عجیب سی خاموشی ہے، جیسے برف پوش پہاڑوں نے بھی سوگ کا لبادہ اوڑھ لیا ہو۔ کھوار زبان کے بے تاج بادشاہ اقبال الدین سحر، جن کی آواز اور الفاظ نے ساٹھ سال تک چترالی ثقافت کی خوشبو کو زندہ رکھا، اس دن ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئے تھے۔ چترال کی مٹی نے ایک ماہ پہلے اپنے ایک مایہ ناز سپوت کو اپنی آغوش میں لے لیا ہے، لیکن ان کے گائے ہوئے گیت اور ان کی لکھی ہوئی غزلیں چترال کی ہواؤں میں ہمیشہ گونجتی رہیں گی اور سراپا محبت،شفقت سے بھر پور شخصیت کوئی لاکھ بھلانے کی کوشش بھی کرتے تو لوگو ں کوکبھی نہیں بھلائیں گے تھے جو ہر ایک سے محبت کرتے تھے۔انہوں نے اپنی شاعری میں گل و بلبل کے استعاروں کو لازوال بنا دیا۔
سحر ایک ہمہ جہت شخصیت تھے جن کی پہچان ان کی انتہائی نرم طبیعت تھی۔ وہ ہر ایک سے پیار کرنے والے انسان تھے، اور جواب میں انہیں بھی معاشرے کے ہر طبقے سے بے پناہ محبت ملی۔ اسکالرز کے علمی حلقوں سے لے کر اَن پڑھ طبقے تک، اور ان بزرگوں سے لے کر جنہوں نے ان کی آواز میں پرورش پائی اس نوجوان نسل تک جو ان کے کلام میں سکون تلاش کرتی ہے، پورا چترال اس وقت غم میں ڈوبا ہوا ہے۔
ان کی موت بھی اسی مسافرانہ صفت کی عکاس تھی—جو کسی خوبصورت اور مختصر دھن کے اختتام کی طرح خاموشی اور تیزی سے آئی۔ اگرچہ وہ چلے گئے ہیں، لیکن اقبال الدین سحر کی میٹھی یادیں ان کے لوگوں کے دلوں میں اسی طرح مہکتی رہیں گی جیسے وہ پھول جن کا تذکرہ انہوں نے اپنے گیتوں میں کیا کرتے تھے۔

