اپر چترال کے بالائی علاقوں میں سفیدے کے درختوں پر پراسرار بیماری کا حملہ، مقامی افراد پریشان، مدد کی اپیل
اپرچترال (ایس این پیرزادہ) اپر چترال کے بالائی علاقے یارخون میں حالیہ دنوں میں سفیدے کے درختوں پر ایک نامعلوم بیماری کے اثرات تیزی سے ظاہر ہونے لگے ہیں، جس کے باعث درختوں کے پتے اچانک سوکھنے اور جھڑنے لگے ہیں۔ یہ صورتحال علاقے کے رہائشیوں میں شدید تشویش کا باعث بن گئی ہے۔
مقامی افراد کے مطابق یارخون کا علاقہ طویل عرصے سے سفیدے کے درختوں کی افزائش کے لیے مشہور ہے، اور یہاں کے سفیدے کو نہ صرف خوبصورتی بلکہ مقامی تعمیرات اور ایندھن کے لیے بھی وسیع پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سفیدہ ایک “غریب پرور درخت” کے طور پر جانا جاتا ہے، کیونکہ یہ جلدی بڑھتا ہے اور کم خرچ میں مفید لکڑی فراہم کرتا ہے۔
تاہم اب درختوں میں پھیلنے والی یہ بیماری علاقے کی قدرتی خوبصورتی کے ساتھ ساتھ مقامی معیشت پر بھی منفی اثر ڈالنے لگی ہے۔ کئی باغبانوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر اس بیماری کا بر وقت علاج نہ کیا گیا تو آنے والے مہینوں میں ہزاروں درخت مکمل طور پر سوکھ کر ختم ہوسکتے ہیں۔
مقامی افراد نے محکمہ جنگلات اور ماحولیاتی ماہرین سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری طور پر علاقے کا سروے کرکے اس بیماری کی وجوہات اور ممکنہ تدارک کے اقدامات پر کام کریں تاکہ مزید نقصان سے بچا جا سکے۔



