The Voice of Chitral since 2004
Tuesday, 11 August 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

سفرنامہ ہانگ کانگ – میاں محبوب علی شاہ کاکاخیل

Chitral Times

سفرنامہ ہانگ کانگ – میاں محبوب علی شاہ کاکاخیل

سفرنامہ ہانگ کانگ – میاں محبوب علی شاہ کاکاخیل

سفرنامہ ہانگ کانگ – میاں محبوب علی شاہ کاکاخیل

ہانگ کانگ مشرقی ایشیا کا ایک جدید، ترقی یافتہ اور دنیا بھر میں مشہور خطہ ہے۔ یہ جنوبی چین میں دریائے پرل (Pearl River) کے دہانے پر واقع ہے اور اپنی معاشی ترقی، جدید طرزِ زندگی اور دلکش مناظر کی وجہ سے دنیا کے بہترین شہروں میں شمار ہوتا ہے۔

ہانگ کانگ کو 1997ء میں برطانیہ نے چین کے حوالے کیا، جس کے بعد یہ چین کا خصوصی انتظامی علاقہ (SAR) بن گیا۔ اس کا انتظام ’’ایک ملک، دو نظام‘‘ کے اصول کے تحت کیا جاتا ہے۔ ہانگ کانگ کی آبادی تقریباً 75 لاکھ ہے جبکہ اس کا رقبہ 1,108 مربع کلومیٹر ہے۔ یہاں کی کرنسی ہانگ کانگ ڈالر کہلاتی ہے، جس کا ایک ڈالر پاکستانی تقریباً 37 روپے کے برابر ہے۔

شہر کا تعارف

ہانگ کانگ کئی جزائر پر مشتمل ہے جن میں ہانگ کانگ آئی لینڈ، کولون اور نیو ٹیریٹوریز شامل ہیں۔ یہاں کا پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم دنیا کے بہترین اور مؤثر ترین نظاموں میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں ایم ٹی آر (MTR) سب وے، بسیں، ٹرام، فیری اور ٹیکسی سروسز شامل ہیں۔

ایم ٹی آر اپنی تیز رفتاری، وقت کی پابندی اور جدید سہولتوں کی بدولت دنیا بھر میں شہرت رکھتا ہے۔ یہاں سفر کے دوران کیش کے بجائے Octopus Card کے ذریعے کرایہ ادا کیا جاتا ہے۔ یہ ایک اسمارٹ کارڈ ہے جو بسوں، ٹرینوں، فیریوں، ریستورانوں، دکانوں اور سپر مارکیٹوں میں بھی ادائیگی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس نظام نے عوام کی روزمرہ زندگی کو نہایت آسان بنا دیا ہے۔

chitraltimes mian mehboob ali shah hang kang visit 3

زبان و تعلیم

ہانگ کانگ مختلف زبانوں کا سنگم ہے۔ سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان کینٹونیز ہے، جبکہ انگریزی اور مینڈرن بھی بڑے پیمانے پر سمجھی اور بولی جاتی ہیں۔ سرکاری دفاتر، عدالتوں اور تعلیمی اداروں میں انگریزی کو خاص اہمیت حاصل ہے۔

یہاں تعلیم کو بہت اعلیٰ درجہ دیا جاتا ہے۔ اسکول اور کالج جدید سہولتوں سے آراستہ ہیں، اور نصابی و غیر نصابی سرگرمیوں پر یکساں زور دیا جاتا ہے۔ ہانگ کانگ کی یونیورسٹیاں دنیا کی بہترین یونیورسٹیوں میں شمار ہوتی ہیں جو تحقیق، سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں۔ اسی لیے دنیا بھر سے طلبہ اعلیٰ تعلیم کے لیے یہاں آتے ہیں۔

معیشت و ترقی

ہانگ کانگ دنیا کے بڑے مالیاتی مراکز میں سے ایک ہے۔ اس کا جی ڈی پی تقریباً 406 ارب امریکی ڈالر ہے (2024 کے مطابق)۔ یہ شہر عالمی تجارتی انڈیکس میں ہمیشہ نمایاں مقام رکھتا ہے۔ دنیا کی 50 سے زائد بڑی بین الاقوامی کمپنیاں اور مالیاتی ادارے یہاں موجود ہیں۔

ہانگ کانگ جدید انفراسٹرکچر کی وجہ سے بھی مشہور ہے۔ یہاں کا سب سے بڑا منصوبہ ہانگ کانگ-ژوہائی-مکاؤ پل ہے، جو 55 کلومیٹر طویل اور دنیا کا سب سے بڑا سمندری پل مانا جاتا ہے۔ اس پر تقریباً 18 ارب امریکی ڈالر لاگت آئی اور یہ 24 اکتوبر 2018 کو عوام کے لیے کھولا گیا۔

chitraltimes mian mehboob ali shah hang kang visit 5

سیاحت و ثقافت

ہانگ کانگ دنیا کے مشہور سیاحتی شہروں میں شامل ہے۔ ہر سال لاکھوں سیاح یہاں آتے ہیں۔
اہم مقامات میں شامل ہیں:

وِکٹوریہ ہاربر (Victoria Harbour): جہاں سے شہر کا دلکش منظر دیکھا جا سکتا ہے۔

وِکٹوریہ پیک (Victoria Peak): وہ پہاڑ جہاں سے پورے شہر کا حسین نظارہ نظر آتا ہے۔

ڈزنی لینڈ اور اوشن پارک: تفریحی پارک جو بچوں اور بڑوں دونوں کے لیے پرکشش ہیں۔

ٹیمپل اسٹریٹ نائٹ مارکیٹ: خریداری اور مقامی کھانوں کے لیے مشہور مقام۔

ہانگ کانگ کی ثقافت مشرقی و مغربی روایات کا حسین امتزاج ہے۔ یہاں چینی تہواروں کے ساتھ مغربی تقریبات بھی منائی جاتی ہیں۔ کھانے پینے میں چینی اور مغربی پکوان یکساں مقبول ہیں۔

  پاکستانی کمیونٹی

ہانگ کانگ میں تقریباً 30 ہزار پاکستانی رہائش پذیر ہیں۔ سیم سا چوئی اور چونکینگ مینشنز میں پاکستانی کھانے آسانی سے دستیاب ہیں۔ سیم سا چوئی میں کولون جامع مسجد واقع ہے، جبکہ دیگر علاقوں میں بھی مساجد قائم ہیں جہاں نماز کے علاوہ دینی تعلیم بھی دی جاتی ہے۔

chitraltimes mian mehboob ali shah hang kang visit 1

ائرپورٹ اور دیگر مقامات

ہانگ کانگ کا پرانا ائیرپورٹ کائی ٹک 1925 میں تعمیر ہوا تھا اور دنیا کے مصروف ترین مگر خطرناک ائیرپورٹوں میں شمار ہوتا تھا۔ بلند و بالا عمارتوں اور گنجان آبادی کی وجہ سے لینڈنگ اور ٹیک آف کے دوران مشکلات پیش آتی تھیں، اسی لیے حکومت نے نیا ائیرپورٹ تعمیر کیا۔

نیا ائیرپورٹ لانتاؤ آئی لینڈ پر واقع ہے، جو جولائی 1998 میں کھولا گیا۔ یہ تین رن ویز پر مشتمل دنیا کے مصروف ترین ائیرپورٹس میں سے ایک ہے جہاں روزانہ تقریباً 1100 پروازیں ہوتی ہیں۔

تنگ چنگ کے علاقے میں واقع ’’بگ بدھ‘‘ (Big Buddha) تک جانے کے لیے کیبل کار سروس موجود ہے۔ شفاف شیشوں والی کیبن سے پورے علاقے کا نظارہ کیا جا سکتا ہے، اور راستے میں ہانگ کانگ ائیرپورٹ بھی دکھائی دیتا ہے۔ تقریباً 25 منٹ کے سفر کے بعد بگ بدھ پہنچا جا سکتا ہے جہاں ایک عظیم مجسمہ اور مختلف مندر واقع ہیں۔

  پاکستانی شخصیات

1965ء کی جنگ کے ہیرو میجر راجہ عزیز بھٹی شہید (نشانِ حیدر) کی جائے پیدائش بھی ہانگ کانگ ہے۔ وہ ابتدائی تعلیم کے بعد والدین کے ہمراہ پاکستان منتقل ہوئے۔

chitraltimes mian mehboob ali shah hang kang visit 6

قوم کاکاخیل کے کئی افراد دہائیوں سے ہانگ کانگ میں مقیم ہیں اور مختلف پیشوں اور کاروبار سے وابستہ ہیں۔
ڈاکٹر میاں شوکت علی شاہ کاکاخیل اور ممتاز علی شاہ کا کہنا ہے کہ کاکاخیل برادری کے لوگ دیگر پاکستانیوں کے ساتھ مل کر ہانگ کانگ کی ترقی میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔

الحاج فقیر گل صافی اور میاں اورنگ زیب کاکاخیل طویل عرصے سے آٹو موبائل کے شعبے میں کاروبار کر رہے ہیں۔ فقیر گل صافی کی جانب سے میرے اعزاز میں ایک ضیافت کا اہتمام کیا گیا جس میں ڈاکٹر میاں شوکت علی شاہ، میاں اورنگ زیب اور دیگر پاکستانی کمیونٹی کے افراد شریک تھے۔

قونصلیٹ میں ملاقات

ہانگ کانگ میں پاکستان کے ڈپٹی قونصل جنرل محمد امجد صاحب کا تعلق چترال کے علاقے بروز سے ہے۔ ان سے ملاقات نہایت خوشگوار ماحول میں ہوئی۔ یاد رہے کہ چترال کے شاہی خاندان کے چشم و چراغ ہز ہائینس سیف الملک ناصر مرحوم بھی ہانگ کانگ میں قونصل جنرل رہ چکے ہیں۔

میں اکثر ان سے شاہی قلعہ چترال میں ملاقات کے لیے جایا کرتا تھا۔ وہ گفتگو کے دوران ہانگ کانگ میں اپنے قیام کے ایام کو محبت سے یاد کرتے تھے۔

ہانگ کانگ کو بجا طور پر ’’ایشیا کا عالمی شہر‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہاں دنیا بھر کے لوگ بستے ہیں اور ایک دوسرے کی ثقافتوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ یہ ایک ترقی یافتہ، منظم اور جدید شہر ہے جو اپنی محنتی اور قانون پسند عوام، وقت کی پابندی اور جدید سہولتوں کے باعث باقی دنیا کے لیے ایک مثالی ماڈل کی حیثیت رکھتا ہے۔

chitraltimes mian mehboob ali shah hang kang visit 2